Poet stringclasses 30
values | Poem_name stringlengths 19 107 | Poetry stringlengths 68 2.22k |
|---|---|---|
Gulzar | گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں گلزار غزلیں | گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
گلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں
جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں
ہمارا دل ہے اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں
اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید
اک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں
تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیں
وہ ساری چیزیں جو تم کو رلائیں، بھیجی ہیں
سیاہ رنگ چمکتی ہوئی ... |
Nida Fazli | ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے، ندا فضلی غزلیں | ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے
تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہے
لگی ہے آگ کہاں کیوں پتہ کیا جائے
جدا ہے ہیر سے رانجھا کئی زمانوں سے
نئے سرے سے کہانی کو پھر لکھا جائے
کہا گیا ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے
یہ کتنا سچ ہے کبھی تجربہ کیا جائے
کتابیں یوں تو بہت سی ہیں میرے بارے... |
Jigar Moradabadi | بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں، جگر مرادآبادی غزلیں | بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں
پیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میں
دولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں
مجبوری کمال محبت تو دیکھنا
جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں
وہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے
مجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں
رخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگی
کہنے... |
Kaifi Azmi | کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں کیفی اعظمی غزلیں | کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں
اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں
پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے
غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں
پایا بھی ان کو کھو بھی د... |
Mirza Ghalib | حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے، مرزا غالب غزلیں | حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہی
اسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم ... |
Jaun Eliya | سارے رشتے تباہ کر آیا جون ایلیا غزلیں | سارے رشتے تباہ کر آیا
دل برباد اپنے گھر آیا
آخرش خون تھوکنے سے میاں
بات میں تیری کیا اثر آیا
تھا خبر میں زیاں دل و جاں کا
ہر طرف سے میں بے خبر آیا
اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے
نہیں آؤں گا میں اگر آیا
میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا
وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر
آج میں اس سے بھی مکر آیا
مدتو... |
Firaq GorakhPuri | بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں فراق گورکھپوری غزلیں | بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں
جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں
نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھا... |
Mirza Ghalib | ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں مرزا غالب غزلیں | ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر |
Meer Taqi Meer | میر تقی میر غزلیں ۱۹۰ | ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنی
سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کے
گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل ... |
Mirza Ghalib | یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں، مرزا غالب غزلیں | یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں |
Mirza Ghalib | پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب مرزا غالب غزلیں | پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
پوچھ مت وجہ سیہ مستیٔ ارباب چمن
سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو ... |
Mirza Ghalib | ز بس کی مشقِ تماشا جنون علامت ہے مرزا غالیب غزلیں | ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
کشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے
نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی
تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد
جنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے |
Firaq GorakhPuri | کوئی پیغامِ محبت لبِ اعجاز تو دے، فراق گورکھپوری غزلیں | کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے
موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے
مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہے
درد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے
چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیں
دل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے
اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خمار
اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے
جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے
... |
Bahadur Shah Zafar | جب کہ پہلو میں ہمارے بتِ خود کام نہ ہو، بہادر شاہ ظفر غزلیں | جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو
گریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہو
لے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رب
اس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو
جس کو سمجھے لب پاں خوردہ وہ مالیدہ مسی
مردماں دیکھیو پھولی وہ کہیں شام نہ ہو
آج تشریف گلستاں میں وہ مے کش لایا
کف نرگس پہ دھرا کیونکہ بھلا جام نہ ہو
کر مجھے قتل وہاں... |
Meer Taqi Meer | منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا میر تقی میر غزلیں | منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ مے خانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا ... |
Dagh Dehlvi | سبق ایسا پڑھا دیا تو نے داغ دہلوی غزلوں کی | سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
ہم نکمے ہوئے زمانے کے
کام ایسا سکھا دیا تو نے
کچھ تعلق رہا نہ دنیا سے
شغل ایسا بتا دیا تو نے
کس خوشی کی خبر سنا کے مجھے
غم کا پتلا بنا دیا تو نے
کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نے
کیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے
بے طلب جو ملا ملا مجھ کو
بے غرض جو دیا دیا تو نے
عمر ... |
Wali Mohammad Wali | تیرا لب دیکھ حیوان یاد آوے، ولی محمد ولی کی غزلیں | ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے
ترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوے
ترے دو نین جب دیکھوں نظر بھر
مجھے تب نرگسستاں یاد آوے
تری زلفاں کی طولانی کوں دیکھے
مجھے لیل زمستاں یاد آوے
ترے خط کا زمرد رنگ دیکھے
بہار سنبلستاں یاد آوے
ترے مکھ کے چمن کے دیکھنے سوں
مجھے فردوس رضواں یاد آوے
تری زلفاں میں یو مکھ جو کہ دیکھے
اسے شمع شبستاں... |
Mirza Ghalib | ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں مرزا غالب غزلیں | ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
مجھ تک کب ان کی بزم میں... |
Meer Taqi Meer | جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا میر تقی میر غزلیں | جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
کاو کاو مژۂ یار و دل زار و نزار
گتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا
وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا
ہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا
گرم رو راہ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگ
اس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا
پاس ناموس محبت تھا کہ فرہ... |
Habib Jalib | ہم نے دل سے تجھے صدا مانا حبیب جلیب غزلیں | ہم نے دل سے تجھے سدا مانا
تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا
میرؔ و غالبؔ کے بعد انیسؔ کے بعد
تجھ کو مانا بڑا بجا مانا
تو کہ دیوانۂ صداقت تھا
تو نے بندے کو کب خدا مانا
تجھ کو پروا نہ تھی زمانے کی
تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا
تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا
خود ہی کو تو نہ رہنما مانا
کی نہ شب کی کبھی پذیرائی
صبح کو لائق ثن... |
Mirza Ghalib | کرے ہے بادہ تیرے لب سے کسبِ رنگِ فروغ مرزا غالب غزلیں | کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے |
Faiz Ahmad Faiz | دل میں اب یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں، فیض احمد فیض غزلیں | دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں
ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شب ف... |
Wali Mohammad Wali | فداۓ دلبر رنگین ادا ہوں، ولی محمد ولی کی غزلیں | فدائے دلبر رنگیں ادا ہوں
شہید شاہد گل گوں قبا ہوں
ہر اک مہ رو کے ملنے کا نہیں ذوق
سخن کے آشنا کا آشنا ہوں
کیا ہوں ترک نرگس کا تماشا
طلب گار نگاہ با حیا ہوں
نہ کر شمشاد کی تعریف مجھ پاس
کہ میں اس سرو قد کا مبتلا ہوں
کیا میں عرض اس خورشید رو سوں
تو شاہ حسن میں تیرا گدا ہوں
سدا رکھتا ہوں شوق اس کے سخن کا
ہمیشہ... |
Bahadur Shah Zafar | یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا بہادر شاہ ظفر غزلیں | یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے
کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا
خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا
نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا
دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلف مشکیں کا ترے شانہ ب... |
Habib Jalib | فیض اور فیض کا غم بھولنے والا ہے کہیں حبیب جالب غزلیں | فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں
موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیں
ہم سے جس وقت نے وہ شاہ سخن چھین لیا
ہم کو وہ وقت الم بھولنے والا ہے کہیں
ترے اشک اور بھی چمکائیں گی یادیں اس کی
ہم کو وہ دیدۂ نم بھولنے والا ہے کہیں
کبھی زنداں میں کبھی دور وطن سے اے دوست
جو کیا اس نے رقم بھولنے والا ہے کہیں
آخری بار اس... |
Mirza Ghalib | میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں، مرزا غالب غزلیں۔ | میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
کاش کے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے |
Habib Jalib | وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا حبیب جالب غزلیں | وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا
مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا
اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا
یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا
کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل
وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا
مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک
کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا
کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں می... |
Sahir Ludhianvi | بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے ساحر لدھیانوی غزلیں | بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے
مری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کے
تجھے بھلا دیں گے اپنے دل سے یہ فیصلہ تو کیا ہے لیکن
نہ دل کو معلوم ہے نہ ہم کو جئیں گے کیسے تجھے بھلا کے
کبھی ملیں گے جو راستے میں تو منہ پھرا کر پلٹ پڑیں گے
کہیں سنیں گے جو نام تیرا تو چپ رہیں گے نظر جھکا کے
نہ سوچنے پ... |
Habib Jalib | ہجوم دیکھ کر راستہ نہیں بدلتے ہم، حبیب جالب کی غزلیں۔ | ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم
ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم
اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم
ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم |
Firaq GorakhPuri | وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں فراق گورکھپوری غزلیں | وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شب مہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے رسمسانے کی راتیں
جوانی کی دوشیزگی کا تبسم
گل زار کے وہ کھلانے کی راتیں
پھواریں سی نغموں کی پڑتی ہوں جیسے
کچھ اس لب کے سننے سنانے کی راتیں
مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت
مجھے یاد ہیں تیرے آنے کی راتیں
پر اسرار ... |
Mirza Ghalib | مزے جہاں کے اپنی نظر میں خاک نہیں، مرزا غالب غزلیں | مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
شراب خانہ ... |
Dagh Dehlvi | کعبے کی ہے حوس کبھی کوئے بتان کی ہے، داغ دہلوی غزلیں۔ | کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
پیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیا
میری زبان کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم ج... |
Altaf Hussain Hali | حقیقت محرم اسرار سے پوچھ، الطاف حسین حالی غزلیں | حقیقت محرم اسرار سے پوچھ
مزا انگور کا مے خوار سے پوچھ
وفا اغیار کی اغیار سے سن
مری الفت در و دیوار سے پوچھ
ہماری آہ بے تاثیر کا حال
کچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ
دلوں میں ڈالنا ذوق اسیری
کمند گیسوئے خم دار سے پوچھ
دل مہجور سے سن لذت وصل
نشاط عافیت بیمار سے پوچھ
نہیں جز گریۂ غم حاصل عشق
ہماری چشم دریا بار ... |
Jaun Eliya | بے قراری سی بے قراری ہے جون ایلیا غزلیں | بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر
اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے
آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن
سانس جو چل رہی ہے آری ہے
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتظاری ہے ... |
Dagh Dehlvi | دیکھ کر جوبن تیرا کس کس کو حیرانی ہوئی داغ دہلوی غزلیں | دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
اس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئی
پردے پردے میں محبت دشمن جانی ہوئی
یہ خدا کی مار کیا اے شوق پنہانی ہوئی
دل کا سودا کر کے ان سے کیا پشیمانی ہوئی
قدر اس کی پھر کہاں جس شے کی ارزانی ہوئی
میرے گھر اس شوخ کی دو دن سے مہمانی ہوئی
بیکسی کی آج کل کیا خانہ ویرانی ہوئی
ترک رسم و راہ ... |
Mirza Ghalib | پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا، مرزا غالب غزلیں | پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا
سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
عذر واماندگی اے حسرت دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
آہ وہ جر... |
Wali Mohammad Wali | آج سرسبز کوہ و صحرا ہے ولی محمد ولی کی غزلیں | آج سر سبز کوہ و صحرا ہے
ہر طرف سیر ہے تماشا ہے
چہرۂ یار و قامت زیبا
گل رنگین و سرو رعنا ہے
معنی حسن و معنی خوبی
صورت یار سوں ہویدا ہے
دم جاں بخش نو خطاں مج کوں
چشمۂ خضر ہے مسیحا ہے
کمر نازک و دہان صنم
فکر باریک ہے معما ہے
مو بہ مو اس کوں ہے پریشانی
زلف مشکیں کا جس کوں سودا ہے
کیا حقیقت ہے تجھ تواضع کی
یو ت... |
Habib Jalib | جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو حبیب جلیب غزلیں | جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو
کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں
ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو
شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے
چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو
قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں
دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو
یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہے
یوں بھی کہاں آرام مگر... |
Nida Fazli | ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر، جتنا تیرا اتنا میرا، ندا فاضلی غزلیں | ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
دکھ سکھ کا یہ جنتر منتر جتنا تیرا اتنا میرا
گیہوں چاول بانٹنے والے جھوٹا تولیں تو کیا بولیں
یوں تو سب کچھ اندر باہر جتنا تیرا اتنا میرا
ہر جیون کی وہی وراثت آنسو سپنا چاہت محنت
سانسوں کا ہر بوجھ برابر جتنا تیرا اتنا میرا
سانسیں جتنی موجیں اتنی سب کی اپنی اپنی گنتی
صد... |
Mirza Ghalib | معنی دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں مرزا غالب غزلیں | مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
رنج نومیدی جاوید گوارا رہیو
خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
لذت سنگ بہ اندا... |
Bahadur Shah Zafar | پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا بہادر شاہ ظفر غزلیں | پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا
اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں
تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا
گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ
اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے
اے جنوں تو نے مری زنج... |
Allama Iqbal | اگر کج رو ہیں انجم آسمان تیرا ہے یا میرا، علامہ اقبال غزلیں | اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہ... |
Faiz Ahmad Faiz | وفا عہد نہیں، عہد دیگر بھی نہیں، فیض احمد فیض غزلیں | وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں
برس رہی ہے حریم ہوس میں دولت حسن
گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
نگاہ شوق سر بزم بے حجاب نہ ہو
وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں
یہ عہد ترک محبت ہے کس ل... |
Firaq GorakhPuri | جور و بے مہری کے اغماض پر کیا روتا ہے فراق گورکھپوری غزلیں | جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے
مہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سے
تم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے
نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا
آج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے
عشق سے توبہ ... |
Firaq GorakhPuri | کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی فراق گورکھپوری غزلیں | کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر پھر بھی
کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر
کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی
خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوت نظر
دراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی
جھپک رہی ہیں زمان و مکاں ... |
Faiz Ahmad Faiz | ہمتِ التجا نہیں باقی، فیض احمد فیض غزلیں | ہمت التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنی مشق ستم سے ہاتھ نہ کھینچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
تیری چشم الم نواز کی خیر
دل میں کوئی گلا نہیں باقی
ہو چکا ختم عہد ہجر و وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی |
Sahir Ludhianvi | کیا جانیں تیری امت کس حال کو پہنچے گی، ساحر لدھیانوی غزلیں | کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی
بڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کی
ہر گوشۂ مغرب میں ہر خطۂ مشرق میں
تشریح دگرگوں ہے اب تیرے پیاموں کی
وہ لوگ جنہیں کل تک دعویٰ تھا رفاقت کا
تذلیل پہ اترے ہیں اپنوں ہی کے ناموں کی
بگڑے ہوئے تیور ہیں نو عمر سیاست کے
بپھری ہوئی سانسیں ہیں نو مشق نظاموں کی
طبقوں سے نکل کر ہم فرقو... |
Jigar Moradabadi | کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا جگر مرادآبادی غزلیں | کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا
جب اس رخ پر نور کا جلوہ نظر آیا
کعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا
یہ حسن یہ شوخی یہ کرشمہ یہ ادائیں
دنیا نظر آئی مجھے تو کیا نظر آیا
اک سرخوشی عشق ہے اک بے خودیٔ شوق
آنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا
جب دیکھ نہ سکتے تھے تو دریا بھی تھا قطرہ
جب ... |
Ahmad Faraz | یہ کیا کہ سب سے بیان دل کی حالتیں کرنی احمد فراز غزلیں | یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی
کوئی خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
ہم اپنے دل سے ہی مجبور اور لوگوں کو
... |
Faiz Ahmad Faiz | نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی، فیض احمد فیض غزلیں | نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیضؔ... |
Mirza Ghalib | تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے، مرزا غالب غزلیں | تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے |
Habib Jalib | دل والو، کیوں دل سی دولت یوں بے کار لٹاتے ہو، حبیب جالب غزلیں | دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو
کیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہو
تم ایسا نادان جہاں میں کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
پھر ان گلیوں میں جاتے ہو پگ پگ ٹھوکر کھاتے ہو
سندر کلیو کومل پھولو یہ تو بتاؤ یہ تو کہو
آخر تم میں کیا جادو ہے کیوں من میں بس جاتے ہو
یہ موسم رم جھم کا موسم یہ برکھا یہ مست فضا
... |
Wali Mohammad Wali | تیرا مجنون ہوں صحرا کی قسم ہے ولی محمد ولی غزلیں | ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
طلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے
سراپا ناز ہے تو اے پری رو
مجھے تیرے سراپا کی قسم ہے
دیا حق حسن بالا دست تجکوں
مجھے تجھ سرو بالا کی قسم ہے
کیا تجھ زلف نے جگ کوں دوانا
تری زلفاں کے سودا کی قسم ہے
دو رنگی ترک کر ہر اک سے مت مل
تجھے تجھ قد رعنا کی قسم ہے
کیا تجھ عشق نے عالم کوں مجنوں
مجھے... |
Jaun Eliya | ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا جون ایلیا غزلیں | ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی اجنبی کو بھول گیا
صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا
عہد وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں ہر کسی ک... |
Altaf Hussain Hali | دل کو درد آشنا کیا تو نے الطاف حسین حالی غزلیں | دل کو درد آشنا کیا تو نے
درد دل کو دوا کیا تو نے
طبع انساں کو دی سرشت وفا
خاک کو کیمیا کیا تو نے
وصل جاناں محال ٹھہرایا
قتل عاشق روا کیا تو نے
تھا نہ جز غم بساط عاشق میں
غم کو راحت فزا کیا تو نے
جان تھی اک وبال فرقت میں
شوق کو جاں گزا کیا تو نے
تھی محبت میں ننگ منت غیر
جذب دل کو رسا کیا تو نے
راہ زاہد کو جب... |
Mirza Ghalib | سعد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے مرزا غالب غزلیں | صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے |
Gulzar | اس پڑی تھی رات بہت اور کہر تھا، گرمائش پر گلزار کی غزلیں۔ | اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر
سیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پر
فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیں
لوگ بضد رہتے ہیں پھر بھی رشتوں کی پیمائش پر
منہ موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوں
آپ لڑے تھے ہم سے بس اک کروٹ کی گنجائش پر
کاغذ کا اک چاند لگا کر رات اندھیری کھڑکی پر
دل میں ... |
Bahadur Shah Zafar | ہم نے تیری خاطر سے دلِ زار بھی چھوڑا، بہادر شاہ ظفر غزلیں | ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا
کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان
اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا
دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق
تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا
گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے
کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا
اس سے ہے غریبوں کو تسلی ک... |
Sahir Ludhianvi | دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے، ساحر لدھیانوی غزلیں | دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
کہنے کو دل کی بات جنہیں ڈھونڈتے تھے ہم
محفل میں آ گئے ہیں وہ اپنے نصیب سے
نیلام ہو رہا تھا کسی نازنیں کا پیار
قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے
تیری وفا کی لاش پہ لا میں ہی ڈال دوں
ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے |
Jigar Moradabadi | کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشین رہے، جگر مرادآبادی غزلیں | کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے
عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے
کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے
میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے
شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے
جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے
نظریں مری جوان رہیں دل... |
Ahmad Faraz | راگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں احمد فراز غزلیں | روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے
بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں
پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
کترنیں غم کی جو گلیوں... |
Mirza Ghalib | وسعتِ سائے کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک مرزا غالب غزلیں | وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
آئی یک عمر سے معذور تماشہ نرگس
چشم شبنم میں ن... |
Jigar Moradabadi | کام آخر جذبہ بے اختیار آ ہی گیا جگر مراد آبادی غزلیں | کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا
جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوق
دیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا
ہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بو
میں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا
ہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیق غم
پھر زبان بے ادب پر ذکر یار آ ہی گیا
اس طرح خوش ہوں کس... |
Mirza Ghalib | آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں مرزا غالب غزلیں | آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
رونق ... |
Mirza Ghalib | کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے مرزا غالب غزلیں | کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاں
وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے ... |
Ahmad Faraz | عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو احمد فراز غزلیں | عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو
جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفا
پر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو
اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں
ڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو
مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاب
بزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو
ہم سے درویشوں کے گھر آ... |
Allama Iqbal | میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں علامہ اقبال غزلیں ۳ | میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں
حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں
گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں
تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ ک... |
Wali Mohammad Wali | آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ والی محمد والی غزلیں | آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ
کیوں نہ گزرے خیال کچھ کا کچھ
دل بے دل کوں آج کرتی ہے
شوخ چنچل کی چال کچھ کا کچھ
مجکو لگتا ہے اے پری پیکر
آج تیرا جمال کچھ کا کچھ
اثر بادۂ جوانی ہے
کر گیا ہوں سوال کچھ کا کچھ
اے ولیؔ دل کوں آج کرتی ہے
بوئے باغ وصال کچھ کا کچھ |
Wali Mohammad Wali | کوچۂ یار ایں کا سی ہے ولی محمد ولی غزلیں | کوچۂ یار عین کاسی ہے
جوگئی دل وہاں کا باسی ہے
پی کے بیراگ کی اداسی سوں
دل پہ میرے سدا اداسی ہے
اے صنم تجھ جبیں اپر یہ خال
ہندوی ہر دوار باسی ہے
زلف تیری ہے موج جمنا کی
تل نزک اس کے جیوں سناسی ہے
گھر ترا ہے یہ رشک دیول چیں
اس میں مدت سوں دل اپاسی ہے
یہ سیہ زلف تجھ زنخداں پر
ناگنی جیوں کنوے پہ پیاسی ہے
طاس خو... |
Mirza Ghalib | جنون کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی مرزا غالب غزلیں | جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پ... |
Jaan Nisar Akhtar | زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو، جاں نثار اختر غزلیں | زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
کچھ نہ کچھ ہم نے ترا قرض اتارا ہی نہ ہو
دل کو چھو جاتی ہے یوں رات کی آواز کبھی
چونک اٹھتا ہوں کہیں تو نے پکارا ہی نہ ہو
کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر
سوچتا ہوں ترے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو
زندگی ایک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو
درد وہ دے جو کسی طرح گوارا ہی نہ ہو
شرم... |
Sahir Ludhianvi | ہم ہر ایک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے، ساحر لدھیانوی غزلیں | توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے
ہم قیامت کے خود منتظر ہیں پر کسی دن قیامت تو آئے
ہم بھی سقراط ہیں عہد نو کے تشنہ لب ہی نہ مر جائیں یارو
زہر ہو یا مئے آتشیں ہو کوئی جام شہادت تو آئے
ایک تہذیب ہے دوستی کی ایک معیار ہے دشمنی کا
دوستوں نے مروت نہ سیکھی دشمنوں کو عداوت تو آئے
رند رستے میں آنکھیں بچ... |
Javed Akhtar | مجھ کو یقین ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں، جاوید اختر غزلیں | مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں
ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں
ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو ت... |
Jigar Moradabadi | ایک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے، جگر مرادآبادی غزلیں | اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے
یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے
جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے
دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے
دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے
ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے
رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے
وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ م... |
Dagh Dehlvi | آپ کا اعتبار کون کرے، داغ دہلوی غزلیں | آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے
ہو جو اس چشم مست سے بے خود
پھر اسے ہوشیار کون کرے
تم تو ہو جان اک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے
آفت روزگار جب تم ہو
شکوۂ روزگار کون کرے
اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے
ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت... |
Mirza Ghalib | زلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے، مرزا غالب غزلیں | ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظارہ جمال
مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے
مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
اے شوق! ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھنا
کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست
بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
... |
Mirza Ghalib | ہے بس کہ ہر ایک اُن کے اشارے میں نشان اور مرزا غالب غزلیں | ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند... |
Gulzar | پھولوں کی طرح لب کھول کبھی گلزار غزلیں | پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
خوشبو کی زباں میں بول کبھی
الفاظ پرکھتا رہتا ہے
آواز ہماری تول کبھی
انمول نہیں لیکن پھر بھی
پوچھ تو مفت کا مول کبھی
کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں
کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی
یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح
ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی |
Naji Shakir | تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی نجی شاکر غزلیں | تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی
مجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی
رفو کر دے ہیں ایسا پیار جو عاشق ہیں یکسو سیں
پھڑا کر اور سیں شال اپنی کہتا ہے مجھے تو سی
ہوا مخفی مزا اب شاہدی سیں شہد کی ظاہر
مگر زنبور نے شیرینی ان ہونٹوں کی جا چوسی
کسے یہ تاب جو اس کی تجلی میں رہے ٹھہرا
رموز طور لاتی ہے سجن... |
Waseem Barelvi | ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے وسیم بریلوی غزلیں | ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے
سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے
کھلی چھتوں کے دیئے کب کے بجھ گئے ہوتے
کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے
شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں
کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے
یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی
وہ میری تشنہ لبی کس کے نام کرتا ہے
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی ... |
Wali Mohammad Wali | مشتاق ہیں عشاق تیری بانکی ادا کے ولی محمد ولی غزلیں | مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے
زخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کے
ہر پیچ میں چیرے کے ترے لپٹے ہیں عاشق
عالم کے دلاں بند ہیں تجھ بند قبا کے
لرزاں ہے ترے دست اگے پنجۂ خورشید
تجھ حسن اگے مات ملائک ہیں سما کے
تجھ زلف کے حلقے میں ہے دل بے سر و بے پا
ٹک مہر کرو حال اپر بے سر و پا کے
تنہا نہ ولیؔ جگ منیں لکھتا ہے ترے وص... |
Faiz Ahmad Faiz | کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہوگی؟ فیض احمد فیض غزلیں | کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
کب جان لہو ہوگی کب اشک گہر ہوگا
کس دن تری شنوائی اے دیدۂ تر ہوگی
کب مہکے گی فصل گل کب بہکے گا مے خانہ
کب صبح سخن ہوگی کب شام نظر ہوگی
واعظ ہے نہ زاہد ہے ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہوگی
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامت... |
Mirza Ghalib | کب وہ سنتا ہے کہانی میری مرزا غالب غزلیں | کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلش غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
دیکھ خونابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری
ہوں زخود رفتۂ بیدائے خیال
بھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرا
رک گیا دیکھ روانی میری
قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد باد رہ بیت... |
Jaan Nisar Akhtar | خود بہ خود میں ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے، جاں نثار اختر غزلیں | خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے
کس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہے
دل میں در آوے ہے ہر صبح کوئی یاد ایسے
جوں دبے پاؤں نسیم سحری آوے ہے
اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کے
ہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے
ایک قطرہ بھی لہو جب نہ رہے سینے میں
تب کہیں عشق میں کچھ بے جگری آوے ہے
چاک داماں و گریباں کے بھ... |
Jaun Eliya | ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے جون ایلیا غزلیں | ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے
یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے
دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے
زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے
تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے
فلاں سے تھی غزل بہت... |
Mohsin Naqvi | فضا کا حبس شگوفوں کو بس کیا دے گا، محسن نقوی غزلیں | فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مری زباں کو زر التماس کیا دے گا
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں
دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا
وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ... |
Sahir Ludhianvi | دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے ساحر لدھیانوی غزلیں | دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے
دیوانہ کر دیا دل بے اختیار نے
اے آرزو کے دھندلے خرابو جواب دو
پھر کس کی یاد آئی تھی مجھ کو پکارنے
تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے
میں اور تم سے ترک محبت کی آرزو
دیوانہ کر دیا ہے غم روزگار نے
اب اے دل تباہ ترا کیا خیال ہے
ہم تو چلے تھے کا... |
Faiz Ahmad Faiz | یہ جفا ئے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم، فیض احمد فیض غزلیں | یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سر کوئے دل فگاراں شب آرزو کا عالم
تری دید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں ترے رہ گزر میں گزراں
نہ ہوا کہ مر مٹیں ہم نہ ہوا کہ جی اٹھیں ہم
لو سن... |
Dagh Dehlvi | اس نہیں کا کوئی علاج نہیں، داغ دہلوی غزلیں | اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں
کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں
اس تلون کا کچھ علاج نہیں
آئنہ دیکھتے ہی اترائے
پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں
لے کے دل رکھ لو کام آئے گا
گو ابھی تم کو احتیاج نہیں
ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر
ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں
چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے
اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں
... |
Javed Akhtar | کس لئے کیجئے بزم آرائی جاوید اختر غزلیں | کس لئے کیجے بزم آرائی
پر سکوں ہو گئی ہے تنہائی
پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
یوں سکوں آشنا ہوئے لمحے
بوند میں جیسے آئے گہرائی
اک سے اک واقعہ ہوا لیکن
نہ گئی تیرے غم کی یکتائی
کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
ڈھلکی شانوں سے ہر یقیں کی قبا
زندگی لے رہی ہے انگڑائی |
Jaun Eliya | میں تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو، جون ایلیا غزلیں | تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو
فکر ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ
اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو
نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہم راہ ہے تو
جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
میں کہ رہتا ہوں بصد ن... |
Javed Akhtar | یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا جاوید اختر غزلیں | یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا
نہ سر پتھر سے ٹکرائے تو کہنا
یہ گل کاغذ ہیں یہ زیور ہیں پیتل
سمجھ میں جب یہ آ جائے تو کہنا
بہت خوش ہو کہ اس نے کچھ کہا ہے
نہ کہہ کر وہ مکر جائے تو کہنا
بدل جاؤ گے تم غم سن کے میرے
کبھی دل غم سے گھبرائے تو کہنا
دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے
نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا |
Sahir Ludhianvi | بھولے سے محبت کر بیٹھا نادان تھا بیچارا دل ہی تو ہے، ساحر لدھیانوی غزلیں۔ | بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے
ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہے
اس طرح نگاہیں مت پھیرو، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
سینے میں کوئی پتھر تو نہیں احساس کا مارا، دل ہی تو ہے
جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے
دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا نہ اشارا، دل ہی تو ہے
بیداد گ... |
Sahir Ludhianvi | ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں، ساحر لدھیانوی غزلیں | ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں
شبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیں
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتی
تلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
آنکھیں ہی ملاتی ہیں زمانے میں دلوں کو
انجان ہیں ہم تم اگر انجان ہیں آنکھیں
لب کچھ بھی کہیں اس سے حقیقت نہیں کھلتی
انسان کے سچ جھوٹ کی پہچان ہیں آنکھیں
آنکھیں نہ جھکی... |
Altaf Hussain Hali | جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز، الطاف حسین حالی غزلیں | جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز
دوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز
عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی
دیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز
ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے
تو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز
جتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشق
آ کے ویرانوں میں اب گھر نہ بسانا ہرگز
کوچ سب کر گئے دلی سے... |
Mirza Ghalib | اُگ رہا ہے دَر و دیوار پہ سبزہ، غالبؔ مرزا غالبؔ غزلیں | اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے |
Mirza Ghalib | ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا مرزا غالب غزلیں | ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دک... |
Dagh Dehlvi | عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا۔ داغ دہلوی غزلیں | عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
یہ مزہ تھ... |
Wali Mohammad Wali | دل کیوں تجھ بجھ بے قراری ہے ولی محمد ولی غزلیں | دل کوں تجھ باج بے قراری ہے
چشم کا کام اشک باری ہے
شب فرقت میں مونس و ہم دم
بے قراروں کوں آہ و زاری ہے
اے عزیزاں مجھے نہیں برداشت
سنگ دل کا فراق بھاری ہے
فیض سوں تجھ فراق کے ساجن
چشم گریاں کا کام جاری ہے
فوقیت لے گیا ہوں بلبل سوں
گرچہ منصب میں دو ہزاری ہے
عشق بازوں کے حق میں قاتل کی
ہر نگہ خنجر و کٹاری ہے
آت... |
Mohsin Naqvi | میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا، محسن نقوی غزلیں | میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
اسی خیال میں گزری ہے شام ... |
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 5