wordcontent,sentences,index اتنا,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔,124 اتنا,اتنا ذلیل ہونے کے بعد میں کسی کو اپنا منھ دکھانے کے لایق نہیں رہی ہوں نا ۔,285 اتنا,نیکیتا ! میں تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ یہ سب اتنا سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔,286 اتنا,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔,298 اتنا,صرف اتنا پتہ ہے کہ لوٹیا نام کے خطرناک مجرم کی گینگ تھی ، جس کی تلاش پولس کو پہلے سے ہے ، مگر وہ موہنی کو کہاں لے کر گیا ہے اس کا پتہ تک نہیں چل سکا ۔,368 اتنا,ساتھ ہی اس کی زبان اور اسلوب اتنا واضح ہونا چاہیئے کہ جو کچھ وہ ظاہر کرنا چاہتا ہو اس کی رپورٹ بالکل وہی معنیٰ رکھتی ہو ۔,529 ``,ہفتہ_وار `` دھرم یُگ `` اور `` ہندستان `` کی اشاعت نے ہندی صحافت کی بڑی کمی کو پورا کیا تھا ۔,21 ``,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔,25 ``,اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے معاشی رسالوں ، `` اکنامِک ٹائمز `` اور `` فائننشیئل ایکسپریس `` کی اشاعت شروع ہوئی ۔,31 ``,قانون کی زبان میں `` گناہ `` بھی جرم ہے ۔,514 ``,ادھر ہیمامالنی کی ادارت میں `` میری سہیلی `` اشاعت شروع ہوئی ہے ۔,746 ``,ان میں پوری طرح ہندی کا پہلا روزنامہ ۱۸۸۵ میں `` کالاکانکر `` سے راج رام پال سنگھ کا روزنامہ ` ہندوستھان ` اور کانپور سے بابو سیتارام کا ` بھارتودیے ` تھے ۔,1092 بڑا,منوہرشیام جوشی کی ادارت میں ` ساپتاہک ہندوستان ` نے بڑا ریکارڈ بنایا ۔,26 بڑا,اس سے بڑا دعویٰ ` برہمو سماج ` کے لئے کیا گیا ہے ۔,75 بڑا,تمھارا بڑا بھروسہ تھا چندن !,117 بڑا,مہیش کی سب سے خوشی کا دن منٹوں میں سب سے دکھی دنوں میں بدل گیا تھا ، زندگی کو اس سے بڑا مذاق کرتے میں نے نہیں دیکھا تھا ۔,406 بڑا,خود ` غدر ` اخبار اپنے آپ میں انقلاب کا بڑا سفیر تھا ۔,430 بڑا,` یگانتر ` کے بعد ہندستان میں ` وندےماترم ` اخبار نے قومی تحریک میں بڑا رول نبھایا ۔,434 فیچر,تگمانشودھولیا ہدایت_کردہ پان سنگھ تومر عمدہ_ترین فیچر فلم سے نوازی گئی ہے جبکہ اسی فلم میں بہترین اداکاری کے لئے عرفان کو عمدہ_ترین اداکار کا اعزاز دیا گیا ہے ۔,643 فیچر,بزرگ فلم_کار باسوچٹرجی کی صدارت والی قومی فیچر فلم جیوری نے ۱۴ زبانوں میں کل ۳۸ فلموں کو مختلف انعامات کے لئے منتخب کیا جن میں کئی اہم انعامات ہندی اور مراٹھی فلموں کو گئے ہیں ۔,646 فیچر,۱۹۱۲ میں رامچندرگوپال ( دادا صاحب تورنے ) نے اول فیچر فلم ` پُنڈلِک ` بنائی ۔,974 فیچر,ان کے ذریعہ تشکیل_شدہ تین کارٹون فیچر فلموں میں ` بھولیرشیشے ` ، ` لاکھ - ٹاکا ` اور ` بھولاماسٹر ` ہے ۔,982 فیچر,وہ باورچی ہندوستان کی پہلی فیچر فلم کا درجہ حاصل کرنے والی فلم کی پہلی اداکارہ بنا ، جس کا نام ` سالُنکے ` تھا ۔,1005 فیچر,فیچر کسی بھی ہمعصر موضوع پر لکھا جاتا ہے ۔,1520 سماج,اس سے بڑا دعویٰ ` برہمو سماج ` کے لئے کیا گیا ہے ۔,75 سماج,ان دنوں بھی ہندستانی سماج کی معاشی حالت نہایت تشویشناک تھی ۔,167 سماج,سماج کو خواندہ ، مطّلع اور راغب کرنے کا رول نبھا رہے تھے ۔,461 سماج,ان کی شاعری میں وقت سماج ، تہذیب اور نظام سے لے کر ماحول سے جڑا تفکر نظر آتا ہے ۔,488 سماج,لمبے عرصے کے باوجود ان کے اندر کے شاعر نے اپنے وقت اور سماج کو شاعری سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔,490 سماج,اسیلئے جرائم حادثات کا سیدھا تعلق شخص و سماج ، ملک و عہد اور مذہب سے ہے ۔,515 لگا,ہندی صحافت کے جنم کے ساتھ ہی ادبی صحافت کا فروغ ہونے لگا ۔,3 لگا,معاشی صحافت تبھی فروغ پا سکتی ہے جب معاشی شعبے میں تیزی سے سرمایہ لگا ہو ، کمپنیاں اچھا فائدہ دیں اور ان کے حصص کی قدر تیزی سے بڑھے ۔,28 لگا,تیکھے سوالات کو استحکام و شائستگی اور شیریں بیانی کا لیپ لگا کر پوچھنے کی صلاحیت ہو ۔,206 لگا,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔,355 لگا,کچھ دنوں میں مہیش اپنی بہن کو لے کر ممبئ چلا گیا تھا ، مگر اس دن کے بعد محسوس ہونے لگا کہ میرے درد کو سہنے کی طاقت بڑھ گئ ہے ۔,407 لگا,جیوتی ! ابھی ایک سال پورے ہونے میں چار دن باقی ہیں ، ابھی تک شہربدر کا سکہ میرے ماتھے پر لگا ہوا ہے ۔,410 جن,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 جن,مجھے سویڈی اکادمی کے وہ نایاب سالانہ ` بروشیئر ` ملے جن میں انعام کمیٹی کے ممبران ، ان کے فیصلے ، فاتحین کی سوانح اور تقاریر شائع کئے جاتے ہیں ۔,53 جن,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 جن,لارڈ ریپن جن کو اعتدال _ پسند مانا جاتا ہے ، نے بھی ۱۸۸۰ میں لاہور میں ایک دربار کیا ۔,164 جن,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔,228 جن,اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہندوستانی قومی کانگریس کے پہلے دن آزادی کے کام میں نمائندوں کی فہرست میں اول مقام دیا گیا ہے وہ ہندوستانی اخبارات کے کچھ مدیر تھے ۔,419 سکتے,عوام کے لئے آسان اور صریحی زبان و اسلوب میں لکھے رسائل ہی مفید ہو سکتے ہیں ۔,48 سکتے,نہیں ، سوتیلی ماں لا کر ہم منّا کو اور دکھ میں نہیں ڈال سکتے ۔,102 سکتے,اس وقت کا مناسب استعمال آپ تال_میل بٹھانے میں کر سکتے ہیں ۔,220 سکتے,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔,228 سکتے,تم مجھے ڈائیونگ سکھا سکتے ہو ؟,272 سکتے,آپ کی وردی دیکھ کر ڈاکو گولی چلا سکتے ہیں ، میں جا کر عورت کو واپس لے آتا ہوں سر ۔,404 متعدد,` وشوبھارتی ` میں متعدد دانشوروں کے تحقیقی اور مفکرانہ مضامین شائع ہوئے ۔,19 متعدد,متعدد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا ۔,29 متعدد,ہندی میں اس قسم کے متعدد ہفتہ_وار ، پندرہ_روزہ اور ماہانہ رسائل نکلتے ہیں ۔,49 متعدد,اس وقت کی ہندی صحافت کا فروغ متعدد معاشی وجوہات سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔,187 متعدد,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔,194 متعدد,متعدد واقعات کی اطلاع جرائم نامہ_نگار کو اس کے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے ۔,544 پتہ,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔,70 پتہ,بعد میں ان کا اس پر کیا ردعمل تھا اس کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا ۔,78 پتہ,نامہ_نگار کو کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے کا مقصد پتہ ہو ۔,205 پتہ,بہت دنوں سے تیراکی نہیں کی تھی ، پتہ چلا تم یہاں تیراکی سکھاتے ہو ، سوچا پھر سے تیراکی شروع کر دوں ۔,270 پتہ,مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ یہاں پر تم جیسی بیہودہ لڑکیاں ہیں ، تو میں یہاں کبھی نہیں آتی ۔,280 پتہ,ساری دوکانیں لٹ گئی اور آج تک ہماری پولس فورس کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کون تھے ؟,367 شادی,بیٹا اومکار ! تم اگر گُنجا سے شادی کر لو تو سارا مسئلہ حل ہو جائیگا ۔,105 شادی,تم دوسری شادی نہیں کرو گے ؟,581 شادی,ماں ! ہم ایک بار جیتے ہیں ، ایک بار مرتے ہیں ، شادی بھی ایک ہی بار ہوتی ہے اور پیار بھی ایک ہی بار ہوتا ہے ، باربار نہیں ہوتا ۔,582 شادی,جیسے ہی فیکٹری کا افتتاح ہو جائے ، میں بھابھی سے اپنی شادی کی بات کرونگا ۔,877 شادی,آج آپ کی شادی کی بات کیا چلی ، موسم نے جادو کر دیا ۔,887 شادی,اس میں آخر شادی کے ادارے کو قائم آدرش کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا ۔,1155 کون,اس کی ماں کیسی تھی ، کون تھی ، ان سوالوں کا جواب وہ خود دے سکے ۔,139 کون,کیسی باتیں کرتی ہے تو ، بھائی بہن کے اور بہن بھائی کے کام نہیں آئے گی تو کون آئے گا ، بتا کیا کام ہے ؟,253 کون,تم میں سے مکٹ بہاری کون ہے ؟,364 کون,ساری دوکانیں لٹ گئی اور آج تک ہماری پولس فورس کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کون تھے ؟,367 کون,کون ہے وہ ؟,372 کون,میں ویسے بھی کون سا کام غلط کرتی ہوں ؟,578 سر,سر ! وہ سب چوری کی ہوئی موٹر سائکلیں تھیں ۔,370 سر,سر وائرلس پر ایک پیغام ملا ہے کہ ایک شہربدر اپنے علاقے میں داخل ہوا ہے ۔,371 سر,سر ! وہ اس علاقے میں منا کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس سے پہلے خون کے جرم میں ایک سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔,377 سر,آپ اسے جانتے ہیں سر ؟,379 سر,میں نودل میں شامل ہونا چاہتا ہوں سر ، ایڈمرل بننا چاہتا ہوں ۔,389 سر,وہ عورت بینک کے اندر جا رہی ہے سر ! ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے سر ۔,396 پریم,ارے ہاں پریم بیٹا ، آخر کب تک یہاں بیٹھے رہینگے ؟,864 پریم,ہمارے پریم بھیّا آج بڑے صاحب بن گئے ہیں ، سلام کرو ۔,879 پریم,ان کے مطابق انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام ۱۹۳۶ میں ہوا اور پریم چند ، ملک راج آنند ، سجادظہیر جیسے لوگ تنظیم کی قیادت میں رہے ۔,1269 پریم,دراصل ، اس کے تار جڑے ہیں اوپر اٹھائے گئے پہلے سوال سے کہ پریم چند کمیونسٹ تھے یا نہیں ؟,1278 پریم,۱۹۳۰ کی دہائی آتے آتے پریم چند ہندوستانی ادیبوں میں خصوصاً ہندی اردو قارئین میں بلامبالغہ سب سے بڑا نام بن چکے تھے ۔,1281 پریم,انجمن ترقی_پسند مصنفین کے قیام میں پریم چند کا نام جڑنا تنظیم کے لئے بڑی تعظیم پانے جیسی بات تھی ۔,1282 جانا,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔,70 جانا,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔,120 جانا,سر ! وہ اس علاقے میں منا کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس سے پہلے خون کے جرم میں ایک سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔,377 جانا,خیر ، شہر کا کونا کونا چھان مارو اور باہر جانے والے راستے بند کر دو ، اس آدمی کا پکڑا جانا میرے لیے بہت ضروری ہے ۔,408 جانا,ایسا فقط اسی حالت میں کیا جانا چاہیئے جب دوبارہ رپورٹ دینے کی سہولت اور وقت ہو ۔,539 جانا,وزیراطلاعات و نشریات منیش تِواری کی صلاح پر ایسا کیا گیا جن کا ماننا ہے کہ جیوری نے غیرجانبدار ہو کر کام کیا ہے تو سب سے پہلے فاتحین کے نام کو عام کر دیا جانا چاہیئے ۔,661 لیا,اس رسالے نے اپنے علمی مضامین ، بھرپور تبصروں ، عمدہ تصاویر کے سبب اپنے لئے جلد ہی ہندی رسالوں میں خصوصی مقام بنا لیا ۔,17 لیا,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 لیا,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 لیا,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 لیا,تھوڑا بہت حق جو ہم نے اپنا سمجھ لیا تھا ، وہ تو تم نے چھین ہی لیا نا ۔,115 لیا,بس ایک بات نہیں سمجھ آتی کہ تم نے کس بات کا بدلہ لیا ہم سے ؟,116 کیوں,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔,55 کیوں,کمال یہ ہے کہ سویڈی اکادمی کا یہ اشتہار کہیں کوئی سرکاری وجہ نہیں بتاتا کہ ٹیگور ایسے امر لمحے کو جینے اپنی ایک غیرمعمولی تقریر کرنے اسٹاک_ہوم کیوں نہیں پہنچے ۔,66 کیوں,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 کیوں,` او آزادی ، تم ہندستان کو چھوڑ کر کیوں بھاگ آئی اور اکیلا چھوڑ دیا ؟,180 کیوں,کیوں نہیں ، کیوں نہیں ۔,271 کیوں,کیوں ؟,308 کرتا,"بابوراو وشنو پراڑکر کے مطابق ` سروستی ` کا ہرایک شمارہ اپنے آپ میں تکمیلیت لئے ہوئے ہوتا تھا , اس کا ہرایک شمارہ مدیر کی شخصیت کا اعلان کرتا تھا ۔",11 کرتا,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 کرتا,سب اس پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کس اخبار کا نامہ_نگار ہے اس کا کتنا اثر اس انتخابی علاقہ پر پڑتا ہے ۔,245 کرتا,بچپن سے ہی نہ جانے اس کے دماغ میں کیا گھس گیا ہے ، دیش کے لئے مر مٹنے کی باتیں کرتا رہتا ہے ۔,391 کرتا,جرائم سے متعلق خبر لینے والا جو نامہ_نگار فقط پولس کی اطلاع پر منحصر کرتا ہے کامیاب نامہ_نگار نہیں ہو سکتا ۔,541 کرتا,مطلب یہ ہے کہ ایسے مقامات پر سمجھدار آدمی کسی کی حمایت نہیں کرتا ۔,671 اخباروں,برطانیہ کے ` ہاوس آف کامنس ` میں قریب ڈیڑھ سو سال پہلے چھ اخباروں کے مالک ممبر بن گئے تھے ۔,341 اخباروں,اخباروں کی پیشہ_واریت بڑھنے لگی اور اسی نظریے سے رشتے بنتے و بگڑتے رہے ۔,347 اخباروں,قومیت کے نام پر اپنے پسندیدہ صحافیوں اور اخباروں کو سب سے زیادہ اجرت دی گئی ۔,352 اخباروں,ایک روزنامہ اخبار میں جرائم اخباروں کو جمع کرنے والا نامہ_نگار نہایت اہم ممبر مانا جاتا ہے ۔,522 اخباروں,اخباروں میں ایک سب سے بڑی گڑبڑ یہ ہوئی ہے کہ فوری بحران پر زیادہ دھیان دیا جانے لگا ہے ۔,690 اخباروں,ہندوستان کے اخباروں سے پہلے امریکی اخباروں میں یہ رویہ دیکھنے کو ملا ۔,696 بھیّا,جس میں بھیّا کی خوشی ہو کاکا ، ہمیں منظور ہے ۔,109 بھیّا,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔,120 بھیّا,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 بھیّا,بس بھیّا کا انتظار ہو رہا ہے ۔,275 بھیّا,تار آیا ہے ، منا بھیّا جلدی گھر آ جاؤ ، بہت بڑی مصیبت آ پڑی ہے ۔,366 بھیّا,ہمارے پریم بھیّا آج بڑے صاحب بن گئے ہیں ، سلام کرو ۔,879 ایسی,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔,228 ایسی,ایسی حالت میں اگر شائع خبر کی جانکاری نہیں ہوگی تو سوال و جواب پلّے کہاں سے پڑیگا ۔,230 ایسی,انسانی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہوئی ہیں جن کے تعاون کا صحیح تجزیہ ان کی زندگی میں نہیں ہو پایا ۔,1016 ایسی,بول_چال میں زبان کے نام پر ایک ایسی کھچڑی زبان کا استعمال کیا جا رہا ہے جسے نہ ہندی والے ٹھیک سے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی انگریزی والے ۔,1133 ایسی,ہم ایسی زبان ، ایک ایسی ثقافت بنا رہے ہیں جس کا اس ملک سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ۔,1139 ایسی,لیکن جب مغربی آدرش کے مطابق فروغ ہوگا تو ایسی تو ایسے حالات یقینی روپ سے بنینگے ۔,1153 متعلق,قواعد سے متعلق بھولیں بھی ہوتی تھی ۔,6 متعلق,اس رسالہ میں آیوروید سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے ۔,45 متعلق,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔,56 متعلق,ٹیگور کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ` اس شعری فن کے نئے اور لائقِ_ستائش ماسٹر ہیں جو ملکہ ایلیزابیتھ کے زمانے سے برطانوی تہذیب کی تشہیر کے معتمد ہمراہی رہے ہیں ۔ ` `,72 متعلق,جب اخبارات نے مذکورہ ڈھنگ سے بیان کیا تو سرکاری خدمات کے متعلق جگہ - جگہ پر جلسے منعقد کئے گئے ۔,175 متعلق,جب کبھی کوئی اخبار تلخیوں کے متعلق لکھتا تو اس کے مدیر کو جرمانہ اور سزا دونوں بھگتنا پڑتا ۔,193 تمھیں,ہم سمجھتے تھے اگر ہماری محبت میں طاقت ہوگی تو ہم تمھیں ضرور پا لینگے ۔,118 تمھیں,تم بہت بڑے ہو چندن ! ہاں ، پہلے تمھیں فقط چاہتی تھیں ، لیکن اب عقیدت کرینگے ۔,125 تمھیں,لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ تمھیں یہ بچہ کتنا چاہیئے ۔,136 تمھیں,نیکیتا ! میں تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ یہ سب اتنا سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔,286 تمھیں,میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمھیں پانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔,297 تمھیں,تمھیں نہیں لگتا اسے ایک ماں کی ضرورت ہے ؟,584 دیکھ,اکثر دوردرشن پر وزیراعظم یا کسی دیگر انتہائی خاص شخص یا پریس کانفرنس دیکھ کر ناظرین و سامعین کا ردعمل ہوتا ہے کہ ` مزہ نہیں آیا ` ۔,225 دیکھ,اگر اپنے خیرخواہ پر بھروسہ نہیں ہو تو آج شام گولڈن گیٹ جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے گا ۔,306 دیکھ,آپ کی وردی دیکھ کر ڈاکو گولی چلا سکتے ہیں ، میں جا کر عورت کو واپس لے آتا ہوں سر ۔,404 دیکھ,وزارتِ_داخلہ نے مرکزی سنسربورڈ سے فلم کو دوبارہ دیکھ کر کچھ مناظر کا تبصرہ کرنے کو کہا ہے ۔,466 دیکھ,26 / 11 حملے کے بعد تنازعات سے جڑے رہے ورما کی فلم پر سرکاری مصیبتوں کو دیکھ کر مانا جا رہا ہے کہ انھیں کچھ مناظر سے کانٹ چھانٹ کرنی پڑ سکتی ہے ۔,467 دیکھ,جسے دیکھ کر ناظرین کا دل پسیج گیا اور ڈرامہ خوب پسند کیا گیا ۔,634 پہلی,ہندستان میں شائع ہونے والی پہلی سائنسی میگزین ` ایشیاٹک ریسرچ ` تھی ۔,39 پہلی,ہندوستانی زبانوں میں شائع پہلی سائنسی میگزین ` بنگلہ ` میں ۱۸۲۱ میں شائع ` پرشناولی ` تھی ۔,41 پہلی,ہماری پہلی کانٹیسٹ ہے جسبندر سنگھ ۔,152 پہلی,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔,184 پہلی,آزادی کے بعد ملک میں ہندوستانی زبانوں کی پہلی خبر خدمات شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔,317 پہلی,ایمرجنسی کے بعد جب ۱۹۷۷ میں عوامی سرکار اقتدار میں آئی تو اس نے ` سماچار ` کو ختم کر کے پہلی حالت کو بحال کر دیا ۔,331 ہماری,حال کے برسوں میں ہماری متعارف آسٹریائی ناول_نگار ، شاعرہ و ڈرامہ_نگار ایلفریڈے یلینیک جنھیں بھیڑ کے درمیان رہنے اور اس کے سامنے بولنے سے وحشت ہے ، اپنی نوبل تقریر ویڈیو کر کے بھجوایا تھا اور وہی دکھایا ، سنایا گیا ۔,65 ہماری,بس ایک بار ہماری بات سنو گنجا ، پھر چاہے زندگی بھر ہم سے ناراض رہ لینا ۔,113 ہماری,ہم سمجھتے تھے اگر ہماری محبت میں طاقت ہوگی تو ہم تمھیں ضرور پا لینگے ۔,118 ہماری,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 ہماری,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔,124 ہماری,سنا بہنوں ہماری روپا گائتری منتر بھول گئی ۔,147 بڑے,تم بہت بڑے ہو چندن ! ہاں ، پہلے تمھیں فقط چاہتی تھیں ، لیکن اب عقیدت کرینگے ۔,125 بڑے,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔,355 بڑے,بہار کے قومی اخبارات میں جناب سچّدانند سنہا کے ذریعہ قائم ` سرچ لائٹ ` اخبار جناب مرلی منوہر سنہا کی ادارت میں قومی تحریک کے بڑے حامی رہے ۔,450 بڑے,ہندستان پر ہوئے بڑے دہشت_گردانہ حملے کی حقیقی کہانی پر مبنی اس فلم کے کچھ مناظر پر حکومت سمیت حفاظتی اور خفیہ ایجنسیوں کو اعتراض ہے ۔,465 بڑے,لیکن بعد میں بڑے گروپوں کے اخبارات میں سماجی یا شہری نامہ_نگاروں سے جرائم خبر جمع کرنے والے نامہ_نگار کو الگ کر دیا گیا ۔,524 بڑے,۲۰۱۲ کی کچھ مشہور فلموں کو بڑے انعام نصیب نہیں ہوئے ۔,656 سال,۲۰ کی دہائی کے تیسرے سال کلکتہ سے طنز و مزاح سے بھرپور ` متوالا ` کی اشاعت ہوئی ۔,12 سال,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 سال,یونیوارتا کے جنم کے کچھ سال بعد پی_ٹی_آئی نے بھی ۱۹۸۶ میں اپنی ہندی خدمات ` بھاشا ` نام سے شروع کی ۔,337 سال,برطانیہ کے ` ہاوس آف کامنس ` میں قریب ڈیڑھ سو سال پہلے چھ اخباروں کے مالک ممبر بن گئے تھے ۔,341 سال,آج سے سال پہلے اس علاقے سے اسے شہربدر کا حکم ہوا تھا ۔,374 سال,سر ! وہ اس علاقے میں منا کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس سے پہلے خون کے جرم میں ایک سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔,377 ),سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 ),ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 ),وشنوکھرے کا مضمون ` رویندر نوبل شتی کو یوں منانے کے جوکھم ` ( ۱۶ جون ) غیرمہذب ، غیرمتناسب اور بےصبر تو ہے ہی اوچھے_پن اور محرومی سے بھی بھرا ہوا ہے ۔,97 ),اسی طرح ` اننت میں مون ` ( آنجہانی شمشیرجی کے لئے عزت کے ساتھ ) کی شعری زبان سادی اور آسان ہے لیکن شعری پن بالکل خالی نہیں ۔,495 ),یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ نامہ_نگار ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ ( ایف آئی آر ) کو کبھی مکمل رپورٹ نہیں مانتا ۔,555 ),کہانی کو عمدہ_ترین بنیادی مکالمے ( سجےگھوش ) اور عمدہ_ترین ایڈیٹنگ ( نمرتاراو ) کے اعزاز سے صبر کرنا پڑا جو گجراتی ناٹک پر مبنی ایک دیگر مشہور فلم ` اومائی_گاڈ ` کے عمدہ_ترین اڈیپٹیڈ اسکرین_پلے ( بھویش منڈالیا ، اومیش شکلا ) کے انعام سے ۔,657 پریس,لہٰذا برطانوی حکومت و اس کے انتظامیہ افسران اور اینگلو _ انڈِینز نے ہندوستانی پریس کو اپنا سخت دشمن مان لیا ۔,185 پریس,اینگلو انڈین پریس نے خصوصاً دیسی صحافت کے راستے میں ہر ممکنہ رکاوٹ کھڑی کر کے اس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی ۔,186 پریس,پریس کانفرنسوں میں ہر صحافی کو فقط جسمانی طور سے ہی نہیں ، بلکہ ذہنی روپ سے بھی موجود رہنا چاہیئے ۔,218 پریس,اکثر دوردرشن پر وزیراعظم یا کسی دیگر انتہائی خاص شخص یا پریس کانفرنس دیکھ کر ناظرین و سامعین کا ردعمل ہوتا ہے کہ ` مزہ نہیں آیا ` ۔,225 پریس,پریس کانفرنس میں اپنا علم بگھارنے یا تقریر جھاڑنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے ۔,231 پریس,پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے ۔,236 ماں,نہیں ، سوتیلی ماں لا کر ہم منّا کو اور دکھ میں نہیں ڈال سکتے ۔,102 ماں,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔,103 ماں,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔,107 ماں,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔,120 ماں,اس کی ماں کیسی تھی ، کون تھی ، ان سوالوں کا جواب وہ خود دے سکے ۔,139 ماں,میرے تھانے کے سامنے سنسان گلی میں ایک بینک تھا ، جس میں اس کے ماں _ باپ دونوں نوکری کرتے تھے ۔,381 خود,ایک عجیب سچ ہے کہ ٹیگور خود انعام لینے سویڈن نہیں گئے ۔,61 خود,یہ صدارتی تقریر اتنی نیم کچرےپن ، شبہات اور جذبہء_ہمدردی سے پُر ہے کہ خود اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔,69 خود,یہ بات الگ ہے کہ اگر ہندستان کے دوسرے ادبی نوبل کے لئے ایک عجیب لابینگ کا حصہ ہے تو شاید خود منتظم ، یا کنورنارائن یا سچّدانندن یا کسی خودساختہ دیگر امیدوار کو مل ہی جائے ۔,94 خود,اس کی ماں کیسی تھی ، کون تھی ، ان سوالوں کا جواب وہ خود دے سکے ۔,139 خود,حقایق دمدار ہونگے تو وہ خود بولینگے ۔,235 خود,اور اگر آپ خود پڑھا دیتے تو ۔۔۔,256 چند,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔,194 چند,اس کام میں مغربی_بنگال کے معاصر وزیراعلیٰ ڈاکٹر ودھان چند رائے نے بھی گہری دلچسپی لی ۔,325 چند,اس کا قیام جناب سبودھ چند ملک ، دیش بندھو چترنجنداس اور بپن چندرپال نے ۶ اگست ۱۹۰۶ کو جناب اروند گھوش کی ادارت میں کیا تھی ۔,435 چند,لاہور میں جناب خوشحال چند کھُرسند نے ` ملاپ ` اور جناب کرشن نے اردو اخبارات کی اشاعت کی اور یہ اخبار بھی قومی تحریک کے مبلغ رہے ۔,444 چند,کچھ دنوں تک جناب بپن چند پال نے بھی اس اخبار میں ادارت کی اور بعد میں ۱۹۱۷ میں جناب کالیناتھ رائے ، جو پہلے ` بنگالی ` اخبار میں کام کر رہے تھے اور جو ۱۹۱۱ میں لالا لاجپت رائے کے ` پنجابی ` اخبار کے مدیر ہوئے تھے اس کے مدیر ہو گئے اور دسمبر ۱۹۴۵ تک اس کے مدیر رہے ۔,447 چند,اس کی اشاعت بھارتیندو ہریش چند نے پہلی جنوری ۱۸۷۴ کو کیا تھا ۔,733 بھابھی,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 بھابھی,بھابھی جی ! ہمیں آپ سے ایک شکایت ہے ، آپ اتنے دن یہاں رہے ، ایک بار بھی ہمارے گھر کھانے پر نہیں آئے ۔,870 بھابھی,جیسے ہی فیکٹری کا افتتاح ہو جائے ، میں بھابھی سے اپنی شادی کی بات کرونگا ۔,877 بھابھی,بھابھی ! ہم اپنی قسم کھا کر کہتے ہیں یہ تار جھوٹا نہیں ہے ، خریدا ہوا نہیں ہے ۔,882 بھابھی,سن ، جب تیری بھابھی ٹھیک ہو جائے نہ ، تو سب سے پہلے ان سے کہنا کہ تو نے اپنے لئے چمیلی ڈھونڈ لی ہے ۔,883 بھابھی,ارے جگن ! جگن ! سبھی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا ، کہہ دیا تھا کہ ہماری بھابھی اب کبھی ٹھیک نہیں ہوگی ۔,895 (,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 (,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 (,وشنوکھرے کا مضمون ` رویندر نوبل شتی کو یوں منانے کے جوکھم ` ( ۱۶ جون ) غیرمہذب ، غیرمتناسب اور بےصبر تو ہے ہی اوچھے_پن اور محرومی سے بھی بھرا ہوا ہے ۔,97 (,اسی طرح ` اننت میں مون ` ( آنجہانی شمشیرجی کے لئے عزت کے ساتھ ) کی شعری زبان سادی اور آسان ہے لیکن شعری پن بالکل خالی نہیں ۔,495 (,یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ نامہ_نگار ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ ( ایف آئی آر ) کو کبھی مکمل رپورٹ نہیں مانتا ۔,555 (,کہانی کو عمدہ_ترین بنیادی مکالمے ( سجےگھوش ) اور عمدہ_ترین ایڈیٹنگ ( نمرتاراو ) کے اعزاز سے صبر کرنا پڑا جو گجراتی ناٹک پر مبنی ایک دیگر مشہور فلم ` اومائی_گاڈ ` کے عمدہ_ترین اڈیپٹیڈ اسکرین_پلے ( بھویش منڈالیا ، اومیش شکلا ) کے انعام سے ۔,657 اسلئے,اسلئے ہم نے سوچا کہ اس گھر کو دیکھنے و سنبھالنے کے لئے ایک تم ہی ہو اور کوئی نہیں ، اور ہم چپ رہ گئے ۔,123 اسلئے,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔,213 اسلئے,اسلئے صحافت سے یہ توقع کرنا کہ جو تقسیمی عناصر سیاست میں کام کر رہے ہیں ان پر قابو پا لے گی یہ ممکن نہیں ہے ۔,361 اسلئے,مسٹر رینڈ متشدد ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ سرکار کے حکم سے ہی کر رہے ہیں اسلئے حکومت کے پاس گذارش کرنا بیکار ہے ۔,417 اسلئے,اسلئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ راجا خُشگال نے شاعری کے تئیں اپنی بےپروائی اور بےاعتنائی کے درمیان اپنے اندر کے شاعر کو زندہ رکھا ہے ۔,489 اسلئے,اسلئے نامہ_نگار کے ذرائع کو بھی اس سے رابطہ کرنے کی معلومات ہونا چاہیئے ۔,543 ہوتے,اس رسالہ میں آیوروید سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے ۔,45 ہوتے,شاعر کی زندگی میں ہی شاید دونوں میں ترمیم بھی ہوتے رہے ہیں ۔,60 ہوتے,جہاں سبھی اخبار کے لئے اہم ہوتے ہیں وہیں ، جرائم خبر اس میں الگ مقام رکھتی ہے ۔,523 ہوتے,اخبار کا قاری اس حادثہ کے بعد کی بھی جانکاری چاہتا ہے اسلئے اس کا فالواپ ہوتے رہنا چاہیئے ۔,552 ہوتے,ٹائپرائٹر کے کی_بورڈ سے انٹرنیٹ یا ٹیلیکس کے بعد سیٹیلائٹ فون اور لیپٹاپ کا زمانہ آ گیا لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ عالم_کاری کے اس دور میں دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔,675 ہوتے,معصوم لوگ کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں اور کئی بار مجرم کی واہ - واہی ہوتی ہے ۔,680 جناب,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔,195 جناب,مہاراشٹر کے عوامی زندگی کے ایک قسم سے عادی مدیر جناب مہادیو گوند راناڈے بھی اس میں اور ` اندوپرکاش ` میں لکھتے تھے ۔,415 جناب,کولہاپور کے دیوان کے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر جناب تلک اور جناب آگرکر کو سزا ہوئی اور بعد میں جب ۱۸۹۷ میں پونا میں پلیگ پھیلا اور کمشنر رینڈ کے مظالم ناقابل برداشت ہو گئے تو لوک مانیہ تلک نے ۴ مئی ، ۱۸۹۷ میں ایک مضمون لکھا تھا - ` بیماری تو بہانا ہے ، حقیقت میں سرکار لوگوں کی روح کو کچلنا چاہتی ہے ۔,416 جناب,اس طرح کے مضامین کے بعد چاپیکر بھائیوں نے ۲۲ جون کو جناب رینڈ کا قتل کر دیا تھا ۔,418 جناب,اس کا قیام جناب سبودھ چند ملک ، دیش بندھو چترنجنداس اور بپن چندرپال نے ۶ اگست ۱۹۰۶ کو جناب اروند گھوش کی ادارت میں کیا تھی ۔,435 جناب,۱۸۸۵ میں کالاکانکر سے راجا رام پال سنگھ نے ` ہندوستان ` اخبار نکالا جس کے پہلے مدیر جناب مدن موہن مالویہ تھے ۔,437 صحافیوں,پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے ۔,236 صحافیوں,دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان گہرے رشتے رہے ہیں ۔,339 صحافیوں,عوام نے بھی ۳۰ - ۴۰ صحافیوں کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا ۔,343 صحافیوں,ہندوستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان رشتوں کی کوئی قواعد آج تک نہیں بن پائی ۔,345 صحافیوں,چالاک اخبار مالکان نے ایسے صحافیوں کا فائدہ اٹھایا لیکن سیاسی نقشہ بدلنے پر انھیں مکھی کی طرح نکال پھینکنے میں دیری نہیں کی ۔,350 صحافیوں,قومیت کے نام پر اپنے پسندیدہ صحافیوں اور اخباروں کو سب سے زیادہ اجرت دی گئی ۔,352 جیسے,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔,25 جیسے,کیا ہزاروں ہندوستانی جو ذہن ، انصاف ، حوصلے اور کردار وغیرہ جیسی صفات سے آراستہ ہونے پر بھی اس کے لیے مایوس ہو گئے ہیں جیسے سورج کے سامنے شمع دھندلی پڑ جاتی ہے ۔,174 جیسے,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔,355 جیسے,لیکن اس وجہ سے راجا خُگشال جیسے قلمکار کے نئے شعری مجموعے ` پہاڑ شیرشک ہے پرتھوی کے ` کو نظرانداز قطعی نہیں کیا جا سکتا ۔,486 جیسے,بیشک نئے زمانے کے لوگ نئے رنگ میں رنگ چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی دلچسپ ہے کہ کلاسکی موسیقی اور رقص جیسے قدیم فن میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔,506 جیسے,آٹھ روزہ اس ںاٹیہ اتسو میں سلیم رضا ، سُہیلاکپور ، باپی بوس جیسے نامی گرامی ہدایتکاروں کے علاوہ مختلف موضوعات پر مرکوز کئی نامی گرامی ڈراموں کو پیش کیا جائے گا ۔,636 زندگی,اس میں تبھی موجودہ ہندی مصنفین کی تخلیقات ان کی زندگی کا تعارف اور تنقید چھپتی تھی ۔,13 زندگی,شاعر کی زندگی میں ہی شاید دونوں میں ترمیم بھی ہوتے رہے ہیں ۔,60 زندگی,بس ایک بار ہماری بات سنو گنجا ، پھر چاہے زندگی بھر ہم سے ناراض رہ لینا ۔,113 زندگی,زندگی میں موہ-مایا ہی سب کچھ تو نہیں ہوتا ہے گُنجا ، ایک فرض بھی ہوتا ہے ۔,119 زندگی,اسے بھی یہ اپنی زندگی سے زیادہ پیاری تھی ۔,137 زندگی,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔,194 ہونا,ان کی انتھک کوششوں سے ترغیب لے کر ہندی کی دیگر صلاحیتیں بھی اس میدان میں کود پڑیں اور حکومت و اس کی پالیسیوں کا بھنڈا پھوڑ ہونا شروع ہو گیا ۔,155 ہونا,میں نودل میں شامل ہونا چاہتا ہوں سر ، ایڈمرل بننا چاہتا ہوں ۔,389 ہونا,لیکن ان مدیران اور اخبارات کا فقط موجود ہونا ہی کافی نہیں مانا گیا ۔,421 ہونا,ایک اچھے نامہ_نگار کی آنکھ اور کان کی قوت کے ساتھ حسّی قوت بھی تیز ہونا چاہیئے ۔,527 ہونا,ساتھ ہی اس کی زبان اور اسلوب اتنا واضح ہونا چاہیئے کہ جو کچھ وہ ظاہر کرنا چاہتا ہو اس کی رپورٹ بالکل وہی معنیٰ رکھتی ہو ۔,529 ہونا,نامہ_نگار کو اپنے حدود کا علم ہونا چاہیئے ۔,530 فلموں,بزرگ فلم_کار باسوچٹرجی کی صدارت والی قومی فیچر فلم جیوری نے ۱۴ زبانوں میں کل ۳۸ فلموں کو مختلف انعامات کے لئے منتخب کیا جن میں کئی اہم انعامات ہندی اور مراٹھی فلموں کو گئے ہیں ۔,646 فلموں,ویسے ۶۰ ویں قومی فلم انعامات میں ہندی فلموں کا جلوہ رہا ۔,648 فلموں,۲۰۱۲ کی کچھ مشہور فلموں کو بڑے انعام نصیب نہیں ہوئے ۔,656 فلموں,ڈاکیمنٹری فلموں کے لئے نمائش کے اچھے پلیٹ_فارم دستیاب کرانے کے ایک مشورے کے سیاق میں منیش تیواری نے جیوری ارکان سے کہا کہ ان کی وزارت دہلی میں واقع سرکاری مہادیوآڈیٹوریم کو ممبئی کے پرتھوی تھئِٹر جیسا روپ دیا جا سکتا ہے ۔,662 فلموں,` کچھ کچھ ہوتا ہے ` ، ` چلتےچلتے ` جیسی کامیاب فلموں میں دونوں نے کام کیا ہے ۔,840 فلموں,وہ طویل عرصے تک یاد رکھی جانے والی فلموں کو ہی کامیاب مانتے ہیں ۔,849 کوشش,مہاتماگاندھی نے ` وشوبھارت ` کی اشاعت کو حوصلہ_مند کوشش کہا تھا ۔,20 کوشش,ہم نے بہت کوشش کی راہول ، مگر اس کی انٹرنل بلیڈنگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہم کچھ نہیں کر سکے ۔,134 کوشش,اینگلو انڈین پریس نے خصوصاً دیسی صحافت کے راستے میں ہر ممکنہ رکاوٹ کھڑی کر کے اس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی ۔,186 کوشش,کچھ تحفہ اور نقد رقم دے کر بھی نامہ_نگار کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔,244 کوشش,آزادی کے بعد ملک میں ہندوستانی زبانوں کی پہلی خبر خدمات شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔,317 کوشش,۱۹۵۹ میں ہی ایک اور خبر ایجنسی شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔,324 کم,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔,55 کم,بہت افسوس ہے کہ ایڈورڈ_سعید نے یہ تقریر نہیں دیکھی ورنہ اپنی ` اورئینٹلزم ` میں جو یوں تو کوئی بہت قابل_اطمینان کتاب نہیں ہے کم سے کم اس کا ذکر شاید وہ کرتے ۔,68 کم,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 کم,اس کے لئے ہم صحافی بھی کم مجرم نہیں ہیں ۔,226 کم,کم سے کم مناسب الفاظ میں مناسب سوال پوچھ کر صبر کے ساتھ جواب سننے کی عادت ڈالنی چاہیئے ۔,232 کم,اگر وہ اخبار اس انتخابی حلقہ میں زیادہ پڑھا جاتا ہے تو دباو زیادہ ہوگا کم پڑھا جاتا ہے تو کم ہوگا ۔,246 ذریعہ,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 ذریعہ,اعلیٰ زمرے کے سنجیدہ مفکر کے روپ میں اپنی تخلیق کے ذریعہ آریہ مذہب اور قومی مذہب کی تشہیر کی ۔,2 ذریعہ,سویڈن اکیڈمی نوبل کمیٹی کے ذریعہ رویندر ناتھ ٹیگور پر دئے گئے بیان میں بلاشبہہ ` گیتانجلی ` کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے لیکن ` دی گارڈنر ` لرکس آف لو اینڈ لائف ` گلمپز آف بنگال لائف ` ، ` دی کرسنٹ موون ` اور سادھنا ` دی ریلائزیشن آف لائف ` کے ذکر بھی ہیں ۔,51 ذریعہ,یوں تو اس محرومی مضمون کا فوری مقصد اشوک واجپیئی کے ذریعہ مجوزہ عالمی مشاعرہ کے انعقاد میں پہلے سے ہی پلیتا لگانا ہے ۔,98 ذریعہ,ان کے ذریعہ مدیر ہمیشہ شک سے دیکھے جاتے تھے اور ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ حکومت مخالف مضمون لکھتے ہیں ۔,190 ذریعہ,سماچار بھارتی ۱۴ دفاتر اور ۱۷ ٹیلی_پرنٹر مراکز کے ذریعہ روزانہ تقریباً ۳۰ ہزار الفاظ کی خبریں جاری کرتی تھی ۔,328 دے,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 دے,اس کی ماں کیسی تھی ، کون تھی ، ان سوالوں کا جواب وہ خود دے سکے ۔,139 دے,کچھ تحفہ اور نقد رقم دے کر بھی نامہ_نگار کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔,244 دے,۱۹۵۷ میں اسے ایک کوپریٹیو کمیٹی کا روپ دے دیا گیا ۔,320 دے,انھوں نے جو بھی محسوس کیا اسے عزت اور وقار کے ساتھ آسان زبان میں شاعری کا روپ دے دیا ۔,496 دے,خبری ذرائع میں نظریے کی اہمیت دن _ بہ _ دن گھٹتی دکھائی دے رہی ہے ۔,681 بڑی,ہفتہ_وار `` دھرم یُگ `` اور `` ہندستان `` کی اشاعت نے ہندی صحافت کی بڑی کمی کو پورا کیا تھا ۔,21 بڑی,انھوں نے بڑی مہارت سے اس کی شروعات کی ۔,23 بڑی,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔,182 بڑی,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔,195 بڑی,ہماری بستی کی چھوٹی سے چھوٹی بات ہمارے لئے دنیا کے دوسرے کنارے کی بڑی سے بڑی بات سے زیادہ اہم ہے ۔,240 بڑی,سیاستدانوں میں سب سے بڑی بیماری یہ رہی ہے کہ وہ اپنی ہر نکتہ_چینی کے پیچھے سازش کی بو محسوس کرنے لگتے ہیں ۔,354 کہہ,غورطلب ہے کہ سویڈی اکادمی کہہ رہی ہے کہ ٹیگور نے انگریزی ` فارم ` میں ترجمہ میں نہیں ، مغرب کو اپنی صلاحیت سے متعارف کروایا ۔,57 کہہ,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 کہہ,یہ تو کیا کہہ رہی ہے روپا ؟,146 کہہ,میں تو اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی ، کل نہ جانے میں اسے کیا کیا کہہ دیا ۔,293 کہہ,میں خود جانتی تھی کہ میں کہہ رہی ہوں لیکن میں سمجھتی کہ میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں ۔,295 کہہ,ویسے وہ کہہ رہے تھے کہ لڑکی خوبصورت ہے ، سلیقہ_مند ہے ۔,576 بار,بعد میں یہ ییٹس بھی ٹیگور کے مخالف ہو گئے اور ۱۹۳۵ میں ایک بار یوں ابل پڑے :,79 بار,یوں شروعاتی انتخاب ہو جائے تو اس بار ہندوستانی زبانوں سے چھ ہی تو اور پکڑنے رہ جائیں گے ۔,85 بار,بس ایک بار ہماری بات سنو گنجا ، پھر چاہے زندگی بھر ہم سے ناراض رہ لینا ۔,113 بار,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔,222 بار,بال کی کھال نکالنے کی مہارت بھی کئی بار دکھانی پڑتی ہے ۔,224 بار,آپ یہاں تیرنے کی پریکٹس کرنے آتی ہے یا ڈوبنے کی ، ایک آدھ بار اور کودیں گی تو ڈوبنے کی پریکٹس ہو جائے گی ۔,263 ایسے,کمال یہ ہے کہ سویڈی اکادمی کا یہ اشتہار کہیں کوئی سرکاری وجہ نہیں بتاتا کہ ٹیگور ایسے امر لمحے کو جینے اپنی ایک غیرمعمولی تقریر کرنے اسٹاک_ہوم کیوں نہیں پہنچے ۔,66 ایسے,چالاک اخبار مالکان نے ایسے صحافیوں کا فائدہ اٹھایا لیکن سیاسی نقشہ بدلنے پر انھیں مکھی کی طرح نکال پھینکنے میں دیری نہیں کی ۔,350 ایسے,مشہور طنزنگار اور جانے مانے صحافی انوج کھرے کا نام ایسے ہی کچھ ایک منتخب لوگوں میں گنایا جا سکتا ہے ۔,476 ایسے,میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا کہ کالج میں شاٹ اسکرٹ پہننا منع ہے ۔,605 ایسے,مطلب یہ ہے کہ ایسے مقامات پر سمجھدار آدمی کسی کی حمایت نہیں کرتا ۔,671 ایسے,ڈاکٹر ، وکیل یا کالج کے اساتذہ کے لئے ایسے پیشہ_ور ادارے ہیں جو ان کی قابلیت اور معیار طے کرتے ہیں لیکن پریس کے لئے ایسا کوئی پیمانہ طے نہیں کیا گیا ہے ۔,673 ہر,ہر اسٹوڈینٹ کو فقط ایک ہی منٹ دیا جائیگا ۔,151 ہر,اینگلو انڈین پریس نے خصوصاً دیسی صحافت کے راستے میں ہر ممکنہ رکاوٹ کھڑی کر کے اس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی ۔,186 ہر,پریس کانفرنسوں میں ہر صحافی کو فقط جسمانی طور سے ہی نہیں ، بلکہ ذہنی روپ سے بھی موجود رہنا چاہیئے ۔,218 ہر,مقامی اخبار ہر قاری کو قبول ہوتا ہے ۔,239 ہر,۱۹۵۹ کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کے ہر انتخاب میں ۱۰۰ سے زیادہ امیدوار صحافی رہ چکے ہیں ۔,344 ہر,سیاستدانوں میں سب سے بڑی بیماری یہ رہی ہے کہ وہ اپنی ہر نکتہ_چینی کے پیچھے سازش کی بو محسوس کرنے لگتے ہیں ۔,354 بن,یہی میری بیٹی کی یادیں بن کر رہ جائینگی ۔,142 بن,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔,228 بن,برطانیہ کے ` ہاوس آف کامنس ` میں قریب ڈیڑھ سو سال پہلے چھ اخباروں کے مالک ممبر بن گئے تھے ۔,341 بن,ہندوستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان رشتوں کی کوئی قواعد آج تک نہیں بن پائی ۔,345 بن,کبھی سیاسی مدیر کا عہدہ پا گئے تو کبھی اچھے صحافی سیاستدان بن گئے ۔,348 بن,کچھ لوگ اس چکر میں مالکان اور وزراء کے درمیان محض کڑی بن کر رہ گئے ۔,349 انگریزی,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔,56 انگریزی,غورطلب ہے کہ سویڈی اکادمی کہہ رہی ہے کہ ٹیگور نے انگریزی ` فارم ` میں ترجمہ میں نہیں ، مغرب کو اپنی صلاحیت سے متعارف کروایا ۔,57 انگریزی,ٹیگور بھی اپنی اس ` گیتانجلی ` کو جس کی شہرت اور مقبولیت کی بنیاد پر انھیں نوبل دیا گیا اپنی اصل انگریزی تخلیق ہی مانتے دکھائی دیتے تھے ۔,58 انگریزی,انعام عشائیے پر جو بہت چھوٹی تقریر کرنی ہوتی ہے اس کی جگہ انھوں نے اکادمی کو یک_سطری تار انگریزی میں بھیجا ، جسے سویڈن میں برطانوی سفارت_خانے کے موجودہ کارگزار سفیر کلائیو نے موجود مہمانوں کو پڑھ کر سنایا ۔,62 انگریزی,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 انگریزی,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 گی,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔,124 گی,کیسی باتیں کرتی ہے تو ، بھائی بہن کے اور بہن بھائی کے کام نہیں آئے گی تو کون آئے گا ، بتا کیا کام ہے ؟,253 گی,آپ یہاں تیرنے کی پریکٹس کرنے آتی ہے یا ڈوبنے کی ، ایک آدھ بار اور کودیں گی تو ڈوبنے کی پریکٹس ہو جائے گی ۔,263 گی,او بیٹھو نا ، تم نہیں بیٹھو گی تو ہمارے گلے سے کھانا کیسے اترے گا ۔,277 گی,جب منّا یہاں آئے گا تو سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کھانا کھلانا تو دونوں کو تسلی ہو جائے گی ۔,279 گی,نیکیتا ! پھر کب ملو گی ۔,288 ہوگا,مجھے مکمل یقین ہے کہ ان میں سے کئی نے نہ ٹیگور کو پڑھا ہوگا نہ پڑھنا چاہتے ہونگے ۔,93 ہوگا,اگر وہ اخبار اس انتخابی حلقہ میں زیادہ پڑھا جاتا ہے تو دباو زیادہ ہوگا کم پڑھا جاتا ہے تو کم ہوگا ۔,246 ہوگا,ضرور پچھلے جنم میں حب_الوطن رہا ہوگا ، جو ملک کی آزادی کے لئے شہید ہو گیا ۔,392 ہوگا,اسلئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ راجا خُشگال نے شاعری کے تئیں اپنی بےپروائی اور بےاعتنائی کے درمیان اپنے اندر کے شاعر کو زندہ رکھا ہے ۔,489 ہوگا,اس میں تلاش کی بھی اپنی اہمیت ہے کیونکہ فنکار کا تخیل جتنا اونچا ہوگا پیشکش اتنی ہی عمدہ ہوگی ۔,504 ہوگا,یہی جرائم خبر کا ` انٹرو ` ہوگا ۔,535 انھوں,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 انھوں,انھوں نے بڑی مہارت سے اس کی شروعات کی ۔,23 انھوں,انعام عشائیے پر جو بہت چھوٹی تقریر کرنی ہوتی ہے اس کی جگہ انھوں نے اکادمی کو یک_سطری تار انگریزی میں بھیجا ، جسے سویڈن میں برطانوی سفارت_خانے کے موجودہ کارگزار سفیر کلائیو نے موجود مہمانوں کو پڑھ کر سنایا ۔,62 انھوں,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔,194 انھوں,محترمہ بیسنٹ نے ان کے متعلق کہا تھا کہ وہ مدراس کے لیڈروں میں سب سے بہادر اور دوراندیشی رکھنے والے رہنما تھے اور انھوں نے جس لائق ستائش تقریر کے ذریعہ اول تجاویز پیش کیا وہ بہت کچھ آج بھی اتنی ہی اہم ہےں ۔,423 انھوں,پنڈت موتی لال نہرو ` لیڈر ` روزنامہ کے ڈائرکٹر کے پہلے صدر تھے اور ` لیڈر ` سے ضمانت مانگی گئی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ جب تک میرے گھر میں ایک بھی اینٹ ہے تب تک میں ` لیڈر ` کو مرنے نہیں دونگا ۔,425 گھر,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔,107 گھر,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 گھر,اسلئے ہم نے سوچا کہ اس گھر کو دیکھنے و سنبھالنے کے لئے ایک تم ہی ہو اور کوئی نہیں ، اور ہم چپ رہ گئے ۔,123 گھر,تار آیا ہے ، منا بھیّا جلدی گھر آ جاؤ ، بہت بڑی مصیبت آ پڑی ہے ۔,366 گھر,اچھا ماں میں چلتا ہوں ، شام کو گھر پر ملینگے ، اچھا ۔,393 گھر,پنڈت موتی لال نہرو ` لیڈر ` روزنامہ کے ڈائرکٹر کے پہلے صدر تھے اور ` لیڈر ` سے ضمانت مانگی گئی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ جب تک میرے گھر میں ایک بھی اینٹ ہے تب تک میں ` لیڈر ` کو مرنے نہیں دونگا ۔,425 استعمال,پولس اور جج بھی اپنے گندے اور پہلے سے طےشدہ طریقوں کو مدیروں کے خلاف استعمال کرنے سے کبھی ہچکتے نہیں تھے ۔,189 استعمال,اس وقت کا مناسب استعمال آپ تال_میل بٹھانے میں کر سکتے ہیں ۔,220 استعمال,محض سو روپئے کی ایک شرط جیتنے کے لئے آپ کا استعمال کیا جا رہا ہے ، آپ کے جذباتوں سے کھیلا جا رہا ہے ۔,304 استعمال,اس رپورٹنگ کو گزشتہ شماروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔,540 استعمال,مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی آدھی گپ اور آدھی افواہ پر چکنی _ چپڑی زبان کا استعمال کر تبصرہ کر دیا جاتا ہے ۔,678 استعمال,کچھ وقت پہلے جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونے کے حالات بن گئے تھے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات آئی تو ان ہتھیاروں سے ہونے والی تباہی کا ذکر تفصیل سے چھپنے لگا ۔,691 ابھی,گنجا ! تم فکر مت کرو یہ دیوتا ہی تمھارا خاوند دیوتا بنے گا ، ہم ابھی بات کر کے آتے ہیں ۔,130 ابھی,ابھی - ابھی آئی ۔,265 ابھی,مجھے وہ دن ابھی تک یاد ہے جس دن میں مہیش سے پہلی بار ملا تھا ۔,382 ابھی,جیوتی ! ابھی ایک سال پورے ہونے میں چار دن باقی ہیں ، ابھی تک شہربدر کا سکہ میرے ماتھے پر لگا ہوا ہے ۔,410 ابھی,کیا تمھارے پاپا ابھی بھی رات کو جوتے پہن کر سوتے ہیں ؟,590 ابھی,ان سوالوں کے نتائج پر پہنچنا تو ابھی تک ممکن نہیں ہو پایا ہے لیکن جب نوجوان فنکاروں نے ان سوالوں کو طنز و مزاح کے روپ میں اسٹیج پر پیش کیا تو ناظرین ان میں چھپی سچائی کو جاننے کی کوشش میں دکھائے دئے ۔,620 میرے,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 میرے,تم میرے لئے مسکرا دو وہی کافی ہے ۔,299 میرے,موہنی ! مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ پیار کی جس انجانی خوشبو میں ، میں بھٹک رہا ہوں وہ میرے اتنے قریب ہوگی ۔,300 میرے,ہاں ، میرے والد کا یہ ہی خواب تھا ۔,311 میرے,میرے تھانے کے سامنے سنسان گلی میں ایک بینک تھا ، جس میں اس کے ماں _ باپ دونوں نوکری کرتے تھے ۔,381 میرے,تم ایسا کرو یہاں سے چلے جاوء ، راستے میں اگر پولس ملے تو میرے پاس بھیج دینا ۔,397 وہاں,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 وہاں,لیکن اگر منتظم یا موضوع کی جانکاری پہلے سے نہیں ہو سکے تو وہاں جا کر اپنی تیز ذہنی سے کچھ پتا کر لینا چاہیئے ۔,214 وہاں,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔,233 وہاں,وہاں سے جو موٹرسائکلیں برآمد ہوئی تھیں ان کے مالکوں کا کچھ پتہ چلا ؟,369 وہاں,جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے نامہ_نگار کو وہاں کی اشیا سے چھیڑ - چھاڑ نہیں کرنا چاہیئے ۔,545 وہاں,ہاں ، وہ وہاں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔,612 سکتی,معاشی صحافت تبھی فروغ پا سکتی ہے جب معاشی شعبے میں تیزی سے سرمایہ لگا ہو ، کمپنیاں اچھا فائدہ دیں اور ان کے حصص کی قدر تیزی سے بڑھے ۔,28 سکتی,یہ صدارتی تقریر اتنی نیم کچرےپن ، شبہات اور جذبہء_ہمدردی سے پُر ہے کہ خود اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔,69 سکتی,اسی طرح آچاریہ مہاویرپرساد دیویدی کے ناقابل _ فراموش تعاون کو بھی ہندی اخبارات کبھی نہیں بھلا سکتی ۔,198 سکتی,یہ صلاحیت تجربوں سے بھی لائی جا سکتی ہے ۔,211 سکتی,میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمھیں پانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔,297 سکتی,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔,298 دنیا,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 دنیا,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 دنیا,خدا کی بیٹی دنیا کی معشوقہ اور صفات کا مجموعہ ، تم کہاں چلی گئی ؟,181 دنیا,ہماری بستی کی چھوٹی سے چھوٹی بات ہمارے لئے دنیا کے دوسرے کنارے کی بڑی سے بڑی بات سے زیادہ اہم ہے ۔,240 دنیا,دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان گہرے رشتے رہے ہیں ۔,339 دنیا,کبھی وہ ` دنیا کا چہرا ` شاعری میں بدلتے چہروں کو بیاں کرتے ہیں تو کبھی ` بھوٹئے ` نظموں میں ایک تہذیب کی کہانی کہتے ہیں ۔,492 گا,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 گا,زمانہ کیا انھیں مہمانوں کا ترجمہ کرنے و پڑھنے یا جذبے میں گھسنے تک نہیں دیا جائے گا ؟,96 گا,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔,107 گا,گنجا ! تم فکر مت کرو یہ دیوتا ہی تمھارا خاوند دیوتا بنے گا ، ہم ابھی بات کر کے آتے ہیں ۔,130 گا,کیسی باتیں کرتی ہے تو ، بھائی بہن کے اور بہن بھائی کے کام نہیں آئے گی تو کون آئے گا ، بتا کیا کام ہے ؟,253 گا,او بیٹھو نا ، تم نہیں بیٹھو گی تو ہمارے گلے سے کھانا کیسے اترے گا ۔,277 میری,سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ قارئین کو چھوڑ کر ٹیگور کو اب میری ہی طرح تقریباً نہ کوئی پڑھتا ہے نہ پڑھنا چاہتا ہے ۔,86 میری,میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی مجھے جانے ۔,138 میری,یہی میری بیٹی کی یادیں بن کر رہ جائینگی ۔,142 میری,یہ ہے میری فرینڈ موہنی ، اسے تجھ سے کچھ کام تھا ۔,254 میری,فائل کہتی ہے کہ یہ خطرناک مجرم ہے ، مگر میری یادداشت کہتی ہے کہ یہ معصوم ، جذباتی مگر جوشیلا نوجوان تھا جو اپنے ملک کے لئے مر مٹنے کو تیار تھا ۔,378 میری,جانتا تھا دو سال پہلے میری پوسٹنگ ناسک میں تھی ۔,380 والی,ہندستان میں شائع ہونے والی پہلی سائنسی میگزین ` ایشیاٹک ریسرچ ` تھی ۔,39 والی,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 والی,اگر وہ نہیں آیا تو ، تو کیا پیار میں جان دینے والی تاریخ بناتے ہیں ، کود جاو موہنی ! کود جاو ۔,262 والی,کانگریس کے بعد اقتدار میں آنے والی اہم پارٹی بھارتی جنتا پارٹی کے رہنماوں نے بھی عہدبند صحافت کو اہم مانا ۔,351 والی,بزرگ فلم_کار باسوچٹرجی کی صدارت والی قومی فیچر فلم جیوری نے ۱۴ زبانوں میں کل ۳۸ فلموں کو مختلف انعامات کے لئے منتخب کیا جن میں کئی اہم انعامات ہندی اور مراٹھی فلموں کو گئے ہیں ۔,646 والی,تعصب والی رپورٹنگ دیکھنے کو ملتی ہے ۔,679 کہانی,ہندستان پر ہوئے بڑے دہشت_گردانہ حملے کی حقیقی کہانی پر مبنی اس فلم کے کچھ مناظر پر حکومت سمیت حفاظتی اور خفیہ ایجنسیوں کو اعتراض ہے ۔,465 کہانی,کبھی وہ ` دنیا کا چہرا ` شاعری میں بدلتے چہروں کو بیاں کرتے ہیں تو کبھی ` بھوٹئے ` نظموں میں ایک تہذیب کی کہانی کہتے ہیں ۔,492 کہانی,آج میں تمھیں ایک کہانی سنانے جا رہی ہوں ۔,592 کہانی,اس کہانی میں میں ہوں ، تمھارے پاپا ہیں اور انجلی NULL ۔,593 کہانی,تقریب کے پہلے دن ناکام محبت کی لازوال علامت بن چکی ` لیلیٰ_مجنوں ` کی کہانی پیش کی گئی ۔,630 کہانی,منگل کو سعادت حسن منٹو کی سوانح اور ان کے کردار پر مبنی ڈرامے ` ایک کتے کی کہانی ` سلیم رضا کی ہدایت میں پیش کیا جائے گا ۔,640 آزادی,وہ صحافت کے ناظموں کو اعتماد میں لینا ، آزادی اور شفافیت سے خیالات ظاہر کرنا ، مصنفین کو کچھ اجرت دینا ، قارئین کو نئی جانکاری اور نئی تخلیقات فراہم کرنا بھی لازمی سمجھتے تھے ۔,10 آزادی,` او آزادی ، تم ہندستان کو چھوڑ کر کیوں بھاگ آئی اور اکیلا چھوڑ دیا ؟,180 آزادی,لارڈ بینٹک اور لارڈ میٹکاف نے جو آزادی ہندوستانی صحافت کو دی تھی وہ ۱۸۵۷ کے بعد چھین لی گئی ۔,183 آزادی,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔,184 آزادی,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔,195 آزادی,آزادی کے بعد ملک میں ہندوستانی زبانوں کی پہلی خبر خدمات شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔,317 جاتے,مجھے سویڈی اکادمی کے وہ نایاب سالانہ ` بروشیئر ` ملے جن میں انعام کمیٹی کے ممبران ، ان کے فیصلے ، فاتحین کی سوانح اور تقاریر شائع کئے جاتے ہیں ۔,53 جاتے,ان کے ذریعہ مدیر ہمیشہ شک سے دیکھے جاتے تھے اور ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ حکومت مخالف مضمون لکھتے ہیں ۔,190 جاتے,ہم پوری طرح تیار ہو کر نہیں جاتے ۔,227 جاتے,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔,233 جاتے,یہ ایک ذولسانی اخبار تھا جس میں بنگلہ اور ہندی زبان میں مضمون شائع کئے جاتے تھے ۔,456 جاتے,ان کے لئے نیک حوادث خبر نہیں بنتے بلکہ حوادث خبر بن جاتے ہیں ۔,517 ملک,جنگ عظیم کے بعد ملک میں صنعتوں کے قیام کے لئے کارپوریشن میں کچھ کمپنیاں تشکیل دی گئیں لیکن ان کے حصص_کنندگان کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔,27 ملک,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 ملک,آزادی کے بعد ملک میں ہندوستانی زبانوں کی پہلی خبر خدمات شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔,317 ملک,ایمرجنسی کے دوران خبر کی نشر و اشاعت پر زیادہ کنٹرول لاگو کرنے کے لئے حکومت نے ملک کی دو اہم انگریزی خبر ایجنسیوں پی_ٹی_آئی اور یو_این_آئی اور ہندی کے ہندوستان سماچار اور سماچار بھارتی کو ملا کر ایک نئی سماچار ایجنسی ` سماچار ` کی تشکیل کرائی ۔,329 ملک,فائل کہتی ہے کہ یہ خطرناک مجرم ہے ، مگر میری یادداشت کہتی ہے کہ یہ معصوم ، جذباتی مگر جوشیلا نوجوان تھا جو اپنے ملک کے لئے مر مٹنے کو تیار تھا ۔,378 ملک,ضرور پچھلے جنم میں حب_الوطن رہا ہوگا ، جو ملک کی آزادی کے لئے شہید ہو گیا ۔,392 بنا,اس رسالے نے اپنے علمی مضامین ، بھرپور تبصروں ، عمدہ تصاویر کے سبب اپنے لئے جلد ہی ہندی رسالوں میں خصوصی مقام بنا لیا ۔,17 بنا,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 بنا,ہیلو ، ہیلو موہنی جی ! میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہا تھا منّا آپ کو بیوقوف بنا رہا ہے ۔,303 بنا,بمبئی سے ` بامبے کرانیکل ` تو نکلا ہی ، اس کے ہی ، مدیر جناب بی جی ہارنیمین نے ` بامبے کرانیکل ` کو شدید قومیت کا ایک پرزور اخبار بنا دیا ۔,449 بنا,ماں وہ ہے جس کے بنا ہم جی نہیں سکتے ۔,571 بنا,بھگوتی چرن ورما کے مشہور ناول چندرلیکھا پر مبنی اسی نام سے بنا ڈرامہ بھی اسی تقریب میں پیش ہوگا ۔,637 دونوں,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 دونوں,عوام نے ان دونوں رسالوں کا استقبال کیا ۔,34 دونوں,کچھ برس بعد دونوں رسالوں نے دلی سے بھی اپنے شمارے نکالنے شروع کئے ۔,35 دونوں,شاعر کی زندگی میں ہی شاید دونوں میں ترمیم بھی ہوتے رہے ہیں ۔,60 دونوں,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 دونوں,ویدجی ! بچوں کی خوشی میں ہی ہم دونوں کی خوشی ہے ۔,131 پاس,ٹینا بہت کریٹیکل ہے راہول ، اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔,133 پاس,ممّا ! میں یہ آٹھ چٹھیاں آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔,140 پاس,کاشی راسلے نے کچھ سوال و جواب کئے ; کیا سول سروس کے لئے امتحان پاس کرنے کے علاوہ کوئی اور بھی خوبی ہے ؟,173 پاس,تم ایسا کرو یہاں سے چلے جاوء ، راستے میں اگر پولس ملے تو میرے پاس بھیج دینا ۔,397 پاس,دیکھو ان لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں ، کبھی بھی گولی چل سکتی ہے اور تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ، سمجھے ۔,399 پاس,مسٹر رینڈ متشدد ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ سرکار کے حکم سے ہی کر رہے ہیں اسلئے حکومت کے پاس گذارش کرنا بیکار ہے ۔,417 کئی,مجھے مکمل یقین ہے کہ ان میں سے کئی نے نہ ٹیگور کو پڑھا ہوگا نہ پڑھنا چاہتے ہونگے ۔,93 کئی,کئی مرتبہ پہلے سے تیاری کا موقع نہیں ملتا ۔,212 کئی,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔,222 کئی,بال کی کھال نکالنے کی مہارت بھی کئی بار دکھانی پڑتی ہے ۔,224 کئی,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔,228 کئی,کئی مرتبہ اس طرح کے دباووں کا بھی سہارا لیا جاتا ہے ۔,251 ایسا,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔,229 ایسا,تم ایسا کرو یہاں سے چلے جاوء ، راستے میں اگر پولس ملے تو میرے پاس بھیج دینا ۔,397 ایسا,یہ بات صرف محترمہ اینی بیسنٹ نے ہی لکھی ہو ، ایسا نہیں ہے ۔,420 ایسا,ہندستان کا کوئی صوبہ ایسا نہیں تھا جس نے قومیت کی تبلیغ کرنے والے اخبارات اور صحافیوں کو جنم نہ دیا ہو ۔,448 ایسا,ایسا فقط اسی حالت میں کیا جانا چاہیئے جب دوبارہ رپورٹ دینے کی سہولت اور وقت ہو ۔,539 ایسا,وزیراطلاعات و نشریات منیش تِواری کی صلاح پر ایسا کیا گیا جن کا ماننا ہے کہ جیوری نے غیرجانبدار ہو کر کام کیا ہے تو سب سے پہلے فاتحین کے نام کو عام کر دیا جانا چاہیئے ۔,661 ہمیں,اس کا بھی تو بیاہ ہمیں کرنا ہی ہے ، اور تم جانتے ہو کہ منّا گُنجا سے ہلا ملا بھی ہے ۔,106 ہمیں,جس میں بھیّا کی خوشی ہو کاکا ، ہمیں منظور ہے ۔,109 ہمیں,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔,124 ہمیں,تم نے سمجھ کا رکھا ہے ہمیں ؟,129 ہمیں,روپا ہمیں گائتری منتر سنائیگی ۔,143 ہمیں,موہنی ! اب ہمیں یہ روز روز کی ملاقاتیں کم کر دینی چاہیئے ۔,307 _,لارڈ ریپن جن کو اعتدال _ پسند مانا جاتا ہے ، نے بھی ۱۸۸۰ میں لاہور میں ایک دربار کیا ۔,164 _,سرکاری خدمات میں ذات و نسل کی پالیسی کا بول _ بالا تھا ۔,169 _,لہٰذا برطانوی حکومت و اس کے انتظامیہ افسران اور اینگلو _ انڈِینز نے ہندوستانی پریس کو اپنا سخت دشمن مان لیا ۔,185 _,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔,194 _,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔,195 _,اسی طرح آچاریہ مہاویرپرساد دیویدی کے ناقابل _ فراموش تعاون کو بھی ہندی اخبارات کبھی نہیں بھلا سکتی ۔,198 جاتی,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 جاتی,دیوتا نہ بھی ملے ، تو کیا پجاری کی بھکتی چھوٹ جاتی ہے ؟,126 جاتی,کیا ہزاروں ہندوستانی جو ذہن ، انصاف ، حوصلے اور کردار وغیرہ جیسی صفات سے آراستہ ہونے پر بھی اس کے لیے مایوس ہو گئے ہیں جیسے سورج کے سامنے شمع دھندلی پڑ جاتی ہے ۔,174 جاتی,یہ ایک برس کے عہد میں ہی ہندی ، اردو ، پنجابی ، گجراتی ، مراٹھی اور انگریزی میں نکلنے لگا اور کل_ملاکر اس کی لاکھوں کاپیاں چھپتی تھیں اور ہندوستان کے باہر جہاں - جہاں ہندوستانی تھے ، ان کو بھیجی جاتی تھیں ۔,431 جاتی,لیکن عنوان سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ہندی کو کافی اہمیت دی جاتی تھی ۔,457 جاتی,قلمکار کا ماننا ہے کہ خطرے نہ ہوں تو زندگی بدرنگ ہو جاتی ہے ۔,480 نا,تھوڑا بہت حق جو ہم نے اپنا سمجھ لیا تھا ، وہ تو تم نے چھین ہی لیا نا ۔,115 نا,او بیٹھو نا ، تم نہیں بیٹھو گی تو ہمارے گلے سے کھانا کیسے اترے گا ۔,277 نا,اتنا ذلیل ہونے کے بعد میں کسی کو اپنا منھ دکھانے کے لایق نہیں رہی ہوں نا ۔,285 نا,پتا ہے راہول ! وہ اپنے شرما جی ہیں نا شرما جی ، ان کا فون آیا تھا ۔,574 نا,وہی آنکھیں ، وہی چہرہ ، ہے نا انجلی ؟,588 نا,آج میری بیٹی واپس آ رہی ہے نا ، اسلئے ۔,610 صحافی,ہندی کے عظیم مصنف اور صحافی بابو ہریش چندر بھارتیندو اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کے نتیجے میں ہندی صحافت کے لئے ایک زرخیز زمین تیار ہوئی ۔,154 صحافی,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔,213 صحافی,پریس کانفرنسوں میں ہر صحافی کو فقط جسمانی طور سے ہی نہیں ، بلکہ ذہنی روپ سے بھی موجود رہنا چاہیئے ۔,218 صحافی,پرکھنے کی صلاحیت صحافی کی بھاری صفت ہے ۔,223 صحافی,اس کے لئے ہم صحافی بھی کم مجرم نہیں ہیں ۔,226 صحافی,صحافی اگر کسی خاص علاقے کے اخبار کی نمائندگی کر رہا ہے تو اسے قومی رہنما کے پریس کانفرنس میں اپنے جواب حاصل کرنا چاہیئے ۔,238 لوگ,لوگ ایک معاشی رسالہ کی ضرورت محسوس کرنے لگے ۔,30 لوگ,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 لوگ,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔,103 لوگ,یہ کیسی باتیں کر رہے تھے تم لوگ ، ہمارے لئے تم اپنی خوشیاں چھوڑ دوگے اور ہم خوش ہو جائینگے ۔,128 لوگ,کچھ لوگ اس چکر میں مالکان اور وزراء کے درمیان محض کڑی بن کر رہ گئے ۔,349 لوگ,ساری دوکانیں لٹ گئی اور آج تک ہماری پولس فورس کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کون تھے ؟,367 کہا,مہاتماگاندھی نے ` وشوبھارت ` کی اشاعت کو حوصلہ_مند کوشش کہا تھا ۔,20 کہا,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 کہا,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔,56 کہا,ٹیگور کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ` اس شعری فن کے نئے اور لائقِ_ستائش ماسٹر ہیں جو ملکہ ایلیزابیتھ کے زمانے سے برطانوی تہذیب کی تشہیر کے معتمد ہمراہی رہے ہیں ۔ ` `,72 کہا,بھکتی تحریک کو بھی مغربی مذاہب سے غیرمتاثر نہیں کہا گیا ہے ۔,74 کہا,فلپ لارکن نے تو ۱۹۵۶ میں ٹیگور کے نام کو بگاڑ کر ` روینڈرم ` کیا اور ایک نازیبا لفظ بھی کہا ۔,83 انھیں,مہاتما منشی رام جو آگے چل کر سوامی شردّھانند کے روپ میں مشہور ہوئے انھیں کے بیٹے اندر ودّیا واچسپتی ہندی صحافت کے ایک تابندہ ستارہ تھے ۔,0 انھیں,ٹیگور بھی اپنی اس ` گیتانجلی ` کو جس کی شہرت اور مقبولیت کی بنیاد پر انھیں نوبل دیا گیا اپنی اصل انگریزی تخلیق ہی مانتے دکھائی دیتے تھے ۔,58 انھیں,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 انھیں,زمانہ کیا انھیں مہمانوں کا ترجمہ کرنے و پڑھنے یا جذبے میں گھسنے تک نہیں دیا جائے گا ؟,96 انھیں,سرکار انھیں اخبار و رسائل کو معاشی مدد دیتی تھی جو اس کی حمایت کرتے تھے ۔,188 انھیں,چالاک اخبار مالکان نے ایسے صحافیوں کا فائدہ اٹھایا لیکن سیاسی نقشہ بدلنے پر انھیں مکھی کی طرح نکال پھینکنے میں دیری نہیں کی ۔,350 نامہ_نگار,نامہ_نگار سے کہیں زیادہ کی توقع ہوتی ہے ۔,203 نامہ_نگار,نامہ_نگار کو کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے کا مقصد پتہ ہو ۔,205 نامہ_نگار,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔,229 نامہ_نگار,نامہ_نگار کا کانفرنس میں اکثر سوالوں کو ٹالنے کا رویہ ہوتا ہے ۔,241 نامہ_نگار,کچھ تحفہ اور نقد رقم دے کر بھی نامہ_نگار کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔,244 نامہ_نگار,سب اس پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کس اخبار کا نامہ_نگار ہے اس کا کتنا اثر اس انتخابی علاقہ پر پڑتا ہے ۔,245 لوگوں,لیکن لگے ہاتھ کچھ اور لوگوں سے حساب چکتا کرنا بھی اس کا مقصد ہے ۔,99 لوگوں,اس کی پیشہ_ورانہ بےبسی ہے کہ وہ مختلف طرح کے لوگوں سے مسلسل تعلق رکھے ۔,247 لوگوں,تم لوگوں کا لنچ ہو گیا ؟,274 لوگوں,دیکھو ان لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں ، کبھی بھی گولی چل سکتی ہے اور تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ، سمجھے ۔,399 لوگوں,کیا برائیوں اور گناہوں کے خلاف لڑنے اور جان دینے کا حق صرف آپ وردی والوں کو ہے ، ہم لوگوں کو نہیں ؟,400 لوگوں,کولہاپور کے دیوان کے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر جناب تلک اور جناب آگرکر کو سزا ہوئی اور بعد میں جب ۱۸۹۷ میں پونا میں پلیگ پھیلا اور کمشنر رینڈ کے مظالم ناقابل برداشت ہو گئے تو لوک مانیہ تلک نے ۴ مئی ، ۱۸۹۷ میں ایک مضمون لکھا تھا - ` بیماری تو بہانا ہے ، حقیقت میں سرکار لوگوں کی روح کو کچلنا چاہتی ہے ۔,416 آ,حالات کو دیکھتے ہوئے ایک خیال آ رہا ہے ، کہئے تو کہوں ۔,104 آ,ارے ، امتحان قریب آ رہا ہے ۔,309 آ,تار آیا ہے ، منا بھیّا جلدی گھر آ جاؤ ، بہت بڑی مصیبت آ پڑی ہے ۔,366 آ,پولس میرے پیچھے کتے کے موافق پڑی ہوئی ہے اور تم جانتی ہو جب تک میں سزا کاٹ نہیں لیتا ، میں بمبئ واپس نہیں آ سکتا ۔,411 آ,بہت جلد ہی اس کی اشاعتی تعداد دس ہزار ہو گئی اور اس سے تنگ آ کر حکومتِ ہند نے ۱۹۰۸ اور ۱۹۱۰ کے آمرانہ قانون کے تحت اسے بند کرا دیا ۔,442 آ,اس کی ذمہ_داری نامہ_نگار پر آ سکتی ہے ۔,547 جانے,میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی مجھے جانے ۔,138 جانے,میں تو اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی ، کل نہ جانے میں اسے کیا کیا کہہ دیا ۔,293 جانے,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔,355 جانے,بچپن سے ہی نہ جانے اس کے دماغ میں کیا گھس گیا ہے ، دیش کے لئے مر مٹنے کی باتیں کرتا رہتا ہے ۔,391 جانے,سر ! اس عورت اور بچی کو بینک کے اندر جانے سے روکنا بہت ضروری ہے سر ۔,403 جانے,خیر ، شہر کا کونا کونا چھان مارو اور باہر جانے والے راستے بند کر دو ، اس آدمی کا پکڑا جانا میرے لیے بہت ضروری ہے ۔,408 شائع,` وشوبھارتی ` میں متعدد دانشوروں کے تحقیقی اور مفکرانہ مضامین شائع ہوئے ۔,19 شائع,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 شائع,ہندستان میں شائع ہونے والی پہلی سائنسی میگزین ` ایشیاٹک ریسرچ ` تھی ۔,39 شائع,ہندوستانی زبانوں میں شائع پہلی سائنسی میگزین ` بنگلہ ` میں ۱۸۲۱ میں شائع ` پرشناولی ` تھی ۔,41 شائع,یہ رسالہ اب بھی شائع ہو رہا ہے ۔,44 شائع,اس رسالہ میں آیوروید سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے ۔,45 زبان,ابتدا میں رسائل کی زبان سست تھی اور اس میں مقامیت بھی رہتی تھی ۔,4 زبان,عوام کے لئے آسان اور صریحی زبان و اسلوب میں لکھے رسائل ہی مفید ہو سکتے ہیں ۔,48 زبان,ادب کا نوبل انعام کسی خاص زبان کے خصوصی قلمکار کو اس کے مجموعی تخلیقی تعاون کے لئے دیا جاتا ہے توصیفی سند میں بھلے ہی اس کی کچھ خاص تخلیقات کا ذکر ہو ۔,50 زبان,ہمارا محض ایک ہدف ہے خبر نکال کر اسے قابل قراءت زبان میں تیار کر قارئین تک پہنچانا ۔,234 زبان,شروع سے ہی یونیوارتا کا مقصد رہا ہے ، سچی خبریں ، جلد خبریں اور آپ کی زبان میں خبریں ۔,334 زبان,یہ ایک ذولسانی اخبار تھا جس میں بنگلہ اور ہندی زبان میں مضمون شائع کئے جاتے تھے ۔,456 ہوتی,قواعد سے متعلق بھولیں بھی ہوتی تھی ۔,6 ہوتی,انعام عشائیے پر جو بہت چھوٹی تقریر کرنی ہوتی ہے اس کی جگہ انھوں نے اکادمی کو یک_سطری تار انگریزی میں بھیجا ، جسے سویڈن میں برطانوی سفارت_خانے کے موجودہ کارگزار سفیر کلائیو نے موجود مہمانوں کو پڑھ کر سنایا ۔,62 ہوتی,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔,103 ہوتی,نامہ_نگار سے کہیں زیادہ کی توقع ہوتی ہے ۔,203 ہوتی,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔,213 ہوتی,اس بات کی کوشش ہوتی رہی ہے کہ اقتدار کی تیکھی نکتہ_چینی کرنے والوں کو مخالف سیاستداں کی طرح جہاں تک ممکن ہو دور رکھا جائے ۔,353 پیار,اگر وہ نہیں آیا تو ، تو کیا پیار میں جان دینے والی تاریخ بناتے ہیں ، کود جاو موہنی ! کود جاو ۔,262 پیار,میں خود جانتی تھی کہ میں کہہ رہی ہوں لیکن میں سمجھتی کہ میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں ۔,295 پیار,میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمھیں پانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔,297 پیار,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔,298 پیار,موہنی ! مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ پیار کی جس انجانی خوشبو میں ، میں بھٹک رہا ہوں وہ میرے اتنے قریب ہوگی ۔,300 پیار,ماں وہ ہے جو ہم کو اتنا پیار کرتی ہے کہ کبھی کبھی ہم خود اس پیار کو سمجھ نہیں پاتے ۔,568 والے,اس دربار پر ہونے والے خرچ کو ہندستانی بادشاہوں سے یکجا کیا گیا ۔,160 والے,ٹکرانے والے ٹالنے والے جوابوں سے بغیر ہمت کے ہارے کسی بھی قیمت پر سچ اگلوانے میں کامیابی پانے کا مکمل ارادہ ہو ۔,210 والے,خیر ، شہر کا کونا کونا چھان مارو اور باہر جانے والے راستے بند کر دو ، اس آدمی کا پکڑا جانا میرے لیے بہت ضروری ہے ۔,408 والے,محترمہ بیسنٹ نے ان کے متعلق کہا تھا کہ وہ مدراس کے لیڈروں میں سب سے بہادر اور دوراندیشی رکھنے والے رہنما تھے اور انھوں نے جس لائق ستائش تقریر کے ذریعہ اول تجاویز پیش کیا وہ بہت کچھ آج بھی اتنی ہی اہم ہےں ۔,423 والے,ہندستان کا کوئی صوبہ ایسا نہیں تھا جس نے قومیت کی تبلیغ کرنے والے اخبارات اور صحافیوں کو جنم نہ دیا ہو ۔,448 والے,فائدوں کے کھیل میں لوگوں کو عام آدمی کی سچی آواز سے واقف کرانے والے بےحد کم ہی لوگ ہیں ۔,475 -,پچھلے برس سے ہی میں ۱۹۱۳ کے اس انعام کے کچھ حقائق کی تلاش میں تھا اور ایستونیا کی راجدھانی تالن میں واقع قومی لائبریری میں جس کا کچھ برسوں سے میں خوش_قسمت قاری ممبر ہوں -,52 -,جب اخبارات نے مذکورہ ڈھنگ سے بیان کیا تو سرکاری خدمات کے متعلق جگہ - جگہ پر جلسے منعقد کئے گئے ۔,175 -,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔,222 -,ابھی - ابھی آئی ۔,265 -,عوام نے بھی ۳۰ - ۴۰ صحافیوں کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا ۔,343 -,کولہاپور کے دیوان کے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر جناب تلک اور جناب آگرکر کو سزا ہوئی اور بعد میں جب ۱۸۹۷ میں پونا میں پلیگ پھیلا اور کمشنر رینڈ کے مظالم ناقابل برداشت ہو گئے تو لوک مانیہ تلک نے ۴ مئی ، ۱۸۹۷ میں ایک مضمون لکھا تھا - ` بیماری تو بہانا ہے ، حقیقت میں سرکار لوگوں کی روح کو کچلنا چاہتی ہے ۔,416 سکتا,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 سکتا,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔,229 سکتا,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔,298 سکتا,وہ عورت بینک کے اندر جا رہی ہے سر ! ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے سر ۔,396 سکتا,دیکھو ان لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں ، کبھی بھی گولی چل سکتی ہے اور تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ، سمجھے ۔,399 سکتا,پولس میرے پیچھے کتے کے موافق پڑی ہوئی ہے اور تم جانتی ہو جب تک میں سزا کاٹ نہیں لیتا ، میں بمبئ واپس نہیں آ سکتا ۔,411 دن,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 دن,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔,229 دن,مجھے وہ دن ابھی تک یاد ہے جس دن میں مہیش سے پہلی بار ملا تھا ۔,382 دن,ویسے میں نے اپنی جان ملک کے نام اسی دن لکھ دی تھی سر جس دن میں نے یہ وردی پہنی تھی ۔,402 دن,مہیش کی سب سے خوشی کا دن منٹوں میں سب سے دکھی دنوں میں بدل گیا تھا ، زندگی کو اس سے بڑا مذاق کرتے میں نے نہیں دیکھا تھا ۔,406 دن,کچھ دنوں میں مہیش اپنی بہن کو لے کر ممبئ چلا گیا تھا ، مگر اس دن کے بعد محسوس ہونے لگا کہ میرے درد کو سہنے کی طاقت بڑھ گئ ہے ۔,407 دو,ان کی اشاعت کے بیچ فقط دو ہفتہ کا فرق تھا ۔,32 دو,` آیوروید مہاسمّیلن پتریکا ` کی اشاعت کے دو برس بعد ۱۹۱۵ میں الہ_آباد کی سائنس کونسل نے ` سائنس پتریکا ` کی اشاعت شروع کی ۔,46 دو,سیدھی کھڑی رہو تم ، صرف دو فٹ پانی میں ہو تم ، کب آئی تم ؟,264 دو,تم میرے لئے مسکرا دو وہی کافی ہے ۔,299 دو,ایمرجنسی کے دوران خبر کی نشر و اشاعت پر زیادہ کنٹرول لاگو کرنے کے لئے حکومت نے ملک کی دو اہم انگریزی خبر ایجنسیوں پی_ٹی_آئی اور یو_این_آئی اور ہندی کے ہندوستان سماچار اور سماچار بھارتی کو ملا کر ایک نئی سماچار ایجنسی ` سماچار ` کی تشکیل کرائی ۔,329 دو,جانتا تھا دو سال پہلے میری پوسٹنگ ناسک میں تھی ۔,380 نام,فلپ لارکن نے تو ۱۹۵۶ میں ٹیگور کے نام کو بگاڑ کر ` روینڈرم ` کیا اور ایک نازیبا لفظ بھی کہا ۔,83 نام,یونیوارتا کے جنم کے کچھ سال بعد پی_ٹی_آئی نے بھی ۱۹۸۶ میں اپنی ہندی خدمات ` بھاشا ` نام سے شروع کی ۔,337 نام,قومیت کے نام پر اپنے پسندیدہ صحافیوں اور اخباروں کو سب سے زیادہ اجرت دی گئی ۔,352 نام,کچھ رہنما اپنے غلط کاموں کی نکتہ_چینی کو تب کے سرمایہ_دار پریس کی سازش کا نام دینے لگتے ہیں ۔,356 نام,صرف اتنا پتہ ہے کہ لوٹیا نام کے خطرناک مجرم کی گینگ تھی ، جس کی تلاش پولس کو پہلے سے ہے ، مگر وہ موہنی کو کہاں لے کر گیا ہے اس کا پتہ تک نہیں چل سکا ۔,368 نام,منا نام ہے اس کا ۔,373 ہمارے,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 ہمارے,یہ کیسی باتیں کر رہے تھے تم لوگ ، ہمارے لئے تم اپنی خوشیاں چھوڑ دوگے اور ہم خوش ہو جائینگے ۔,128 ہمارے,جو ہم کہتے ہیں ، جو ہم سوچتے ہیں ، اسی کا اثر تو ہمارے بچوں پر پڑتا ہے ۔,149 ہمارے,ہماری بستی کی چھوٹی سے چھوٹی بات ہمارے لئے دنیا کے دوسرے کنارے کی بڑی سے بڑی بات سے زیادہ اہم ہے ۔,240 ہمارے,او بیٹھو نا ، تم نہیں بیٹھو گی تو ہمارے گلے سے کھانا کیسے اترے گا ۔,277 ہمارے,سُر ، تال اور لے سے جڑ کر رقص صدیوں سے ہمارے جذبات کو زباں بناتا آیا ہے ۔,498 اشاعت,وہ اس وقت کی پابندی یا صحافت کے مستقل وقت پر اشاعت کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔,9 اشاعت,۲۰ کی دہائی کے تیسرے سال کلکتہ سے طنز و مزاح سے بھرپور ` متوالا ` کی اشاعت ہوئی ۔,12 اشاعت,ہندی کے عظیم شاعر سُرجکانت ترپاٹھی نرالا ` متوالا ` کی اشاعت سے شدید طور سے جڑے تھے ۔,14 اشاعت,رامانند جی چٹرجی کی ترغیب پاکر ۱۹۸۲ میں ماڈرن ریویو پرواسی پرکاشن سموہ نے ` وشال بھارت ` کی اشاعت شروع کی ۔,15 اشاعت,ہزاری_پرساد دیویدی کی ادارت میں شانتی نکیتن سے ۱۹۴۲ میں سہہ_ماہی ` وشوبھارتی ` کی اشاعت بھی ہندی ہفتہ_وار کی اشاعت میں میل کا پتھر تھی ۔,18 اشاعت,مہاتماگاندھی نے ` وشوبھارت ` کی اشاعت کو حوصلہ_مند کوشش کہا تھا ۔,20 جائے,یوں شروعاتی انتخاب ہو جائے تو اس بار ہندوستانی زبانوں سے چھ ہی تو اور پکڑنے رہ جائیں گے ۔,85 جائے,یہ بات الگ ہے کہ اگر ہندستان کے دوسرے ادبی نوبل کے لئے ایک عجیب لابینگ کا حصہ ہے تو شاید خود منتظم ، یا کنورنارائن یا سچّدانندن یا کسی خودساختہ دیگر امیدوار کو مل ہی جائے ۔,94 جائے,زمانہ کیا انھیں مہمانوں کا ترجمہ کرنے و پڑھنے یا جذبے میں گھسنے تک نہیں دیا جائے گا ؟,96 جائے,اس کے ساتھ ہی ہندی اخبار و رسائل نے اترپردیش اور پنجاب میں صوبائی لیجسلیٹو کونسل کے قیام کے لئے مانگ کرنی شروع کر دی تاکہ ان صوبوں کے مسائل کو سرکار کے کانوں میں ڈالا جائے ۔,176 جائے,آپ یہاں تیرنے کی پریکٹس کرنے آتی ہے یا ڈوبنے کی ، ایک آدھ بار اور کودیں گی تو ڈوبنے کی پریکٹس ہو جائے گی ۔,263 جائے,جب منّا یہاں آئے گا تو سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کھانا کھلانا تو دونوں کو تسلی ہو جائے گی ۔,279 اہم,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔,1 اہم,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔,25 اہم,اس ` گیتانجلی ` اور مبینہ اصل بنگلہ ` گیتانجلیہڑ ` میں بہت اور اہم فرق ہے ۔,59 اہم,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 اہم,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔,184 اہم,خبر کے اہم پہلووں کی قوت شامّہ ہو ۔,209 ہونے,ہندی صحافت کے جنم کے ساتھ ہی ادبی صحافت کا فروغ ہونے لگا ۔,3 ہونے,ہندستان میں شائع ہونے والی پہلی سائنسی میگزین ` ایشیاٹک ریسرچ ` تھی ۔,39 ہونے,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 ہونے,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 ہونے,اس دربار پر ہونے والے خرچ کو ہندستانی بادشاہوں سے یکجا کیا گیا ۔,160 ہونے,کیا ہزاروں ہندوستانی جو ذہن ، انصاف ، حوصلے اور کردار وغیرہ جیسی صفات سے آراستہ ہونے پر بھی اس کے لیے مایوس ہو گئے ہیں جیسے سورج کے سامنے شمع دھندلی پڑ جاتی ہے ۔,174 کرتے,بہت افسوس ہے کہ ایڈورڈ_سعید نے یہ تقریر نہیں دیکھی ورنہ اپنی ` اورئینٹلزم ` میں جو یوں تو کوئی بہت قابل_اطمینان کتاب نہیں ہے کم سے کم اس کا ذکر شاید وہ کرتے ۔,68 کرتے,سرکار انھیں اخبار و رسائل کو معاشی مدد دیتی تھی جو اس کی حمایت کرتے تھے ۔,188 کرتے,کچھ تحفہ اور نقد رقم دے کر بھی نامہ_نگار کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔,244 کرتے,میرے تھانے کے سامنے سنسان گلی میں ایک بینک تھا ، جس میں اس کے ماں _ باپ دونوں نوکری کرتے تھے ۔,381 کرتے,مہیش کی سب سے خوشی کا دن منٹوں میں سب سے دکھی دنوں میں بدل گیا تھا ، زندگی کو اس سے بڑا مذاق کرتے میں نے نہیں دیکھا تھا ۔,406 کرتے,فلم میں تین دن تک تاج_ہوٹل میں پاکستانی دہشتگردوں کے ساتھ ہوئی خونی جنگ کے دوران سرکار اور حفاظتی ایجنسیوں کو فیصلے لینے میں دیر کرتے اور ڈُہل_مل رویہ اپناتے بھی دکھایا گیا ہے ۔,473 یہاں,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔,182 یہاں,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔,184 یہاں,آپ یہاں تیرنے کی پریکٹس کرنے آتی ہے یا ڈوبنے کی ، ایک آدھ بار اور کودیں گی تو ڈوبنے کی پریکٹس ہو جائے گی ۔,263 یہاں,میں یہاں تیراکی سکھاتا ہوں ۔,266 یہاں,تم یہاں کیسے آئی ؟,269 یہاں,بہت دنوں سے تیراکی نہیں کی تھی ، پتہ چلا تم یہاں تیراکی سکھاتے ہو ، سوچا پھر سے تیراکی شروع کر دوں ۔,270 ہندوستانی,ہندوستانی زبانوں میں شائع پہلی سائنسی میگزین ` بنگلہ ` میں ۱۸۲۱ میں شائع ` پرشناولی ` تھی ۔,41 ہندوستانی,ٹیگور انگریزی نہیں جانتا کوئی بھی ہندوستانی انگریزی نہیں جانتا ۔,82 ہندوستانی,یوں شروعاتی انتخاب ہو جائے تو اس بار ہندوستانی زبانوں سے چھ ہی تو اور پکڑنے رہ جائیں گے ۔,85 ہندوستانی,کیا ہزاروں ہندوستانی جو ذہن ، انصاف ، حوصلے اور کردار وغیرہ جیسی صفات سے آراستہ ہونے پر بھی اس کے لیے مایوس ہو گئے ہیں جیسے سورج کے سامنے شمع دھندلی پڑ جاتی ہے ۔,174 ہندوستانی,` ہندی پردیپ ` رسالے نے ان شعلہ_زدہ الفاظ سے ہندوستانی عوام کو ترغیب دی اور بیدار کیا,179 ہندوستانی,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔,182 اسی,اسی وقت ` اکنامک ٹائمز ` نے کلکتہ شمارہ شروع کیا ۔,37 اسی,انگریزی میں اسی صدی موقع کو بھنانے کے لئے ان کی کچھ کتابیں ضرور چھپی ہیں لیکن بہت محدود شماروں میں ۔,89 اسی,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 اسی,یہ تو چندن کو چاہتی ہے اور چندن بھی اسی کو چاہتا ہے ۔,111 اسی,اسی میں ہم سب کا بھلا ہے ، گنجا کی مانگ تو اب چندن کو ہی بھرنے دیجئے ۔,132 اسی,جو ہم کہتے ہیں ، جو ہم سوچتے ہیں ، اسی کا اثر تو ہمارے بچوں پر پڑتا ہے ۔,149 ہوئے,مہاتما منشی رام جو آگے چل کر سوامی شردّھانند کے روپ میں مشہور ہوئے انھیں کے بیٹے اندر ودّیا واچسپتی ہندی صحافت کے ایک تابندہ ستارہ تھے ۔,0 ہوئے,"بابوراو وشنو پراڑکر کے مطابق ` سروستی ` کا ہرایک شمارہ اپنے آپ میں تکمیلیت لئے ہوئے ہوتا تھا , اس کا ہرایک شمارہ مدیر کی شخصیت کا اعلان کرتا تھا ۔",11 ہوئے,` وشوبھارتی ` میں متعدد دانشوروں کے تحقیقی اور مفکرانہ مضامین شائع ہوئے ۔,19 ہوئے,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 ہوئے,حالات کو دیکھتے ہوئے ایک خیال آ رہا ہے ، کہئے تو کہوں ۔,104 ہوئے,سر ! میری ماں اور بابو جی اندر پھنسے ہوئے ہیں اور میں یہاں سے چلا جاؤں ۔,398 لے,ان کی انتھک کوششوں سے ترغیب لے کر ہندی کی دیگر صلاحیتیں بھی اس میدان میں کود پڑیں اور حکومت و اس کی پالیسیوں کا بھنڈا پھوڑ ہونا شروع ہو گیا ۔,155 لے,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔,233 لے,اسلئے صحافت سے یہ توقع کرنا کہ جو تقسیمی عناصر سیاست میں کام کر رہے ہیں ان پر قابو پا لے گی یہ ممکن نہیں ہے ۔,361 لے,مکٹ بہاری ! چپ _ چاپ یہاں سے اپنا راشنکارڈ ٹرانسفر کروا لے اور صبح کے بعد یہاں نظر مت آنا ۔,365 لے,صرف اتنا پتہ ہے کہ لوٹیا نام کے خطرناک مجرم کی گینگ تھی ، جس کی تلاش پولس کو پہلے سے ہے ، مگر وہ موہنی کو کہاں لے کر گیا ہے اس کا پتہ تک نہیں چل سکا ۔,368 لے,آپ کی وردی دیکھ کر ڈاکو گولی چلا سکتے ہیں ، میں جا کر عورت کو واپس لے آتا ہوں سر ۔,404 دی,جنگ عظیم کے بعد ملک میں صنعتوں کے قیام کے لئے کارپوریشن میں کچھ کمپنیاں تشکیل دی گئیں لیکن ان کے حصص_کنندگان کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔,27 دی,سویڈن اکیڈمی نوبل کمیٹی کے ذریعہ رویندر ناتھ ٹیگور پر دئے گئے بیان میں بلاشبہہ ` گیتانجلی ` کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے لیکن ` دی گارڈنر ` لرکس آف لو اینڈ لائف ` گلمپز آف بنگال لائف ` ، ` دی کرسنٹ موون ` اور سادھنا ` دی ریلائزیشن آف لائف ` کے ذکر بھی ہیں ۔,51 دی,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 دی,اس دربار کے سبب اس نے ہندوستانیوں کی ہمدردی کھو دی ۔,165 دی,اس کے ساتھ ہی ہندی اخبار و رسائل نے اترپردیش اور پنجاب میں صوبائی لیجسلیٹو کونسل کے قیام کے لئے مانگ کرنی شروع کر دی تاکہ ان صوبوں کے مسائل کو سرکار کے کانوں میں ڈالا جائے ۔,176 دی,` ہندی پردیپ ` رسالے نے ان شعلہ_زدہ الفاظ سے ہندوستانی عوام کو ترغیب دی اور بیدار کیا,179 ارے,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔,103 ارے,ارے بیٹی ! تو پوجا پاٹھ میں دھیان نہیں رکھیگی تو اپنے بچوں کو کیا سکھائیگی ؟,148 ارے,ارے ، ڈائیونگ میں تو مجھے تین چار میڈل مل چکے ہیں ۔,273 ارے,ارے ، امتحان قریب آ رہا ہے ۔,309 ارے,ارے ہاں پریم بیٹا ، آخر کب تک یہاں بیٹھے رہینگے ؟,864 ارے,ارے بھائی ایک منٹ ، آپ لوگوں کو ٹھیک سے رخصت تو کر دیں ۔,871 صحافت,مہاتما منشی رام جو آگے چل کر سوامی شردّھانند کے روپ میں مشہور ہوئے انھیں کے بیٹے اندر ودّیا واچسپتی ہندی صحافت کے ایک تابندہ ستارہ تھے ۔,0 صحافت,ہندی صحافت کے جنم کے ساتھ ہی ادبی صحافت کا فروغ ہونے لگا ۔,3 صحافت,دیویدی جی نے ادبی صحافت کے لئے کچھ اصول بنائے ۔,8 صحافت,وہ اس وقت کی پابندی یا صحافت کے مستقل وقت پر اشاعت کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔,9 صحافت,وہ صحافت کے ناظموں کو اعتماد میں لینا ، آزادی اور شفافیت سے خیالات ظاہر کرنا ، مصنفین کو کچھ اجرت دینا ، قارئین کو نئی جانکاری اور نئی تخلیقات فراہم کرنا بھی لازمی سمجھتے تھے ۔,10 صحافت,ہفتہ_وار `` دھرم یُگ `` اور `` ہندستان `` کی اشاعت نے ہندی صحافت کی بڑی کمی کو پورا کیا تھا ۔,21 پھر,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔,25 پھر,اس کی دیکھا دیکھی ` فائننشیل ایکسپریس ` نے پہلے چِنّئی اور پھر کلکتہ سے اور ` اکنامک ٹائمز ` نے احمدآباد سے اپنے شمارے نکالے ۔,38 پھر,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 پھر,پھر سینئر منگلیش ڈبرال سے ۔,101 پھر,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔,103 پھر,بس ایک بار ہماری بات سنو گنجا ، پھر چاہے زندگی بھر ہم سے ناراض رہ لینا ۔,113 اخبارات,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 اخبارات,لہٰذا ہندی اخبارات نے اس کی مخالفت میں زبردست مہم چلائی تھی اور کہا کہ اس دربار کے تناظر میں فقط سامراجیت کو دکھانے کی منشا تھی ۔,163 اخبارات,اس غیرمنصفانہ سرکاری پالیسی کے خلاف ہندی اخبارات نے ڈٹ کر تبلیغ کیا اور ہندستانی عوام کو جگایا ۔,172 اخبارات,جب اخبارات نے مذکورہ ڈھنگ سے بیان کیا تو سرکاری خدمات کے متعلق جگہ - جگہ پر جلسے منعقد کئے گئے ۔,175 اخبارات,عسکریت_پسند اخبارات و رسائل کے مدیروں کے مضامین نے برطانوی حکومت کے خلاف آگ کے شعلے اگلنے شروع کر دیئے ۔,178 اخبارات,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔,184 ہندوستان,منوہرشیام جوشی کی ادارت میں ` ساپتاہک ہندوستان ` نے بڑا ریکارڈ بنایا ۔,26 ہندوستان,پچھلے ۱۱۲ برسوں کی یہ اصل یادگاری کتابیں ہندوستان میں شاید کہیں دستیاب نہیں ہیں ۔,54 ہندوستان,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 ہندوستان,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 ہندوستان,اسی تعلق سے لارڈ لٹن نے یکم جنوری ، ۱۸۷۷ کو ملکہ وکٹوریہ کے ہندوستان کی ملکہ بننے کے اعلان کے لئے ایک دربار کیا ۔,153 ہندوستان,اسی تعلق سے لارڈ لٹن نے یکم جنوری ، ۱۸۷۷ کو ملکہ وکٹوریہ کے ہندوستان کی ملکہ بننے کے اعلان کے لئے ایک دربار کیا ۔,158 کرنا,وہ صحافت کے ناظموں کو اعتماد میں لینا ، آزادی اور شفافیت سے خیالات ظاہر کرنا ، مصنفین کو کچھ اجرت دینا ، قارئین کو نئی جانکاری اور نئی تخلیقات فراہم کرنا بھی لازمی سمجھتے تھے ۔,10 کرنا,یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ٹیگور کو اس سے ماقبل تحریر بیان کا علم تھا یا نہیں یا یہ ان کی غیرموجودگی سے متاثر تھا ۔,77 کرنا,لیکن لگے ہاتھ کچھ اور لوگوں سے حساب چکتا کرنا بھی اس کا مقصد ہے ۔,99 کرنا,اس کا بھی تو بیاہ ہمیں کرنا ہی ہے ، اور تم جانتے ہو کہ منّا گُنجا سے ہلا ملا بھی ہے ۔,106 کرنا,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 کرنا,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔,233 زیادہ,وہ اس وقت کی پابندی یا صحافت کے مستقل وقت پر اشاعت کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔,9 زیادہ,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔,81 زیادہ,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 زیادہ,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 زیادہ,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 زیادہ,ٹینا بہت کریٹیکل ہے راہول ، اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔,133 ہوتا,"بابوراو وشنو پراڑکر کے مطابق ` سروستی ` کا ہرایک شمارہ اپنے آپ میں تکمیلیت لئے ہوئے ہوتا تھا , اس کا ہرایک شمارہ مدیر کی شخصیت کا اعلان کرتا تھا ۔",11 ہوتا,زندگی میں موہ-مایا ہی سب کچھ تو نہیں ہوتا ہے گُنجا ، ایک فرض بھی ہوتا ہے ۔,119 ہوتا,انومودن کا انت ، سمپادک کی ودائی ، ماگھ کا پربھات ورڑن ، دمینتی کا چندرپالمبھ وغیرہ مضامین میں ان کے جذباتی اسلوب کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔,202 ہوتا,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔,213 ہوتا,اسی طرح کانفرنس کے اختتام کے بعد بھی اگر بہت دیر نہیں ہو رہی ہو تو فوراً بھاگنا مفید نہیں ہوتا ۔,221 ہوتا,اکثر دوردرشن پر وزیراعظم یا کسی دیگر انتہائی خاص شخص یا پریس کانفرنس دیکھ کر ناظرین و سامعین کا ردعمل ہوتا ہے کہ ` مزہ نہیں آیا ` ۔,225 ہوا,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 ہوا,وشنوکھرے کا مضمون ` رویندر نوبل شتی کو یوں منانے کے جوکھم ` ( ۱۶ جون ) غیرمہذب ، غیرمتناسب اور بےصبر تو ہے ہی اوچھے_پن اور محرومی سے بھی بھرا ہوا ہے ۔,97 ہوا,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔,355 ہوا,سر وائرلس پر ایک پیغام ملا ہے کہ ایک شہربدر اپنے علاقے میں داخل ہوا ہے ۔,371 ہوا,آج سے سال پہلے اس علاقے سے اسے شہربدر کا حکم ہوا تھا ۔,374 ہوا,جیوتی ! ابھی ایک سال پورے ہونے میں چار دن باقی ہیں ، ابھی تک شہربدر کا سکہ میرے ماتھے پر لگا ہوا ہے ۔,410 اگر,یہ بات الگ ہے کہ اگر ہندستان کے دوسرے ادبی نوبل کے لئے ایک عجیب لابینگ کا حصہ ہے تو شاید خود منتظم ، یا کنورنارائن یا سچّدانندن یا کسی خودساختہ دیگر امیدوار کو مل ہی جائے ۔,94 اگر,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 اگر,بیٹا اومکار ! تم اگر گُنجا سے شادی کر لو تو سارا مسئلہ حل ہو جائیگا ۔,105 اگر,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 اگر,ہم سمجھتے تھے اگر ہماری محبت میں طاقت ہوگی تو ہم تمھیں ضرور پا لینگے ۔,118 اگر,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔,124 ہوئی,۲۰ کی دہائی کے تیسرے سال کلکتہ سے طنز و مزاح سے بھرپور ` متوالا ` کی اشاعت ہوئی ۔,12 ہوئی,اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے معاشی رسالوں ، `` اکنامِک ٹائمز `` اور `` فائننشیئل ایکسپریس `` کی اشاعت شروع ہوئی ۔,31 ہوئی,اس کی اشاعت ۱۹۱۳ میں شروع ہوئی ۔,43 ہوئی,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟,112 ہوئی,ہندی کے عظیم مصنف اور صحافی بابو ہریش چندر بھارتیندو اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کے نتیجے میں ہندی صحافت کے لئے ایک زرخیز زمین تیار ہوئی ۔,154 ہوئی,وہاں سے جو موٹرسائکلیں برآمد ہوئی تھیں ان کے مالکوں کا کچھ پتہ چلا ؟,369 کام,متعدد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا ۔,29 کام,پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے ۔,236 کام,کیسی باتیں کرتی ہے تو ، بھائی بہن کے اور بہن بھائی کے کام نہیں آئے گی تو کون آئے گا ، بتا کیا کام ہے ؟,253 کام,یہ ہے میری فرینڈ موہنی ، اسے تجھ سے کچھ کام تھا ۔,254 کام,اس نے ۱۹۶۱ میں کام کرنا شروع کیا لیکن کچھ ہی ماہ بعد اس نے اپنا کام سمیٹ لیا ۔,323 کام,اس کام میں مغربی_بنگال کے معاصر وزیراعلیٰ ڈاکٹر ودھان چند رائے نے بھی گہری دلچسپی لی ۔,325 گئے,سویڈن اکیڈمی نوبل کمیٹی کے ذریعہ رویندر ناتھ ٹیگور پر دئے گئے بیان میں بلاشبہہ ` گیتانجلی ` کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے لیکن ` دی گارڈنر ` لرکس آف لو اینڈ لائف ` گلمپز آف بنگال لائف ` ، ` دی کرسنٹ موون ` اور سادھنا ` دی ریلائزیشن آف لائف ` کے ذکر بھی ہیں ۔,51 گئے,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔,55 گئے,ایک عجیب سچ ہے کہ ٹیگور خود انعام لینے سویڈن نہیں گئے ۔,61 گئے,بعد میں یہ ییٹس بھی ٹیگور کے مخالف ہو گئے اور ۱۹۳۵ میں ایک بار یوں ابل پڑے :,79 گئے,ان کی خوشی کی خاطر ہی ہم اپنا سب کچھ نِچھاور کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔,121 گئے,اسلئے ہم نے سوچا کہ اس گھر کو دیکھنے و سنبھالنے کے لئے ایک تم ہی ہو اور کوئی نہیں ، اور ہم چپ رہ گئے ۔,123 آج,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 آج,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 آج,پھر آج کے زمانے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ غیرجانبدار سے غیرجانبدار نامہ_نگار کا کوئی بھی سیاسی جھکاو نہ ہو ۔,250 آج,اگر اپنے خیرخواہ پر بھروسہ نہیں ہو تو آج شام گولڈن گیٹ جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے گا ۔,306 آج,ہندوستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان رشتوں کی کوئی قواعد آج تک نہیں بن پائی ۔,345 آج,ساری دوکانیں لٹ گئی اور آج تک ہماری پولس فورس کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کون تھے ؟,367 چاہیئے,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔,70 چاہیئے,لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ تمھیں یہ بچہ کتنا چاہیئے ۔,136 چاہیئے,لیکن اگر منتظم یا موضوع کی جانکاری پہلے سے نہیں ہو سکے تو وہاں جا کر اپنی تیز ذہنی سے کچھ پتا کر لینا چاہیئے ۔,214 چاہیئے,پھر جو تحریری بیان ملے اسے جھٹ پٹ دھیان سے پڑھ و سمجھ لینا چاہیئے ۔,215 چاہیئے,اس کی بنیاد پر عقلمند سوال سوچ سمجھ کر تیار کر داغ دینا چاہیئے ۔,216 چاہیئے,پریس کانفرنسوں میں ہر صحافی کو فقط جسمانی طور سے ہی نہیں ، بلکہ ذہنی روپ سے بھی موجود رہنا چاہیئے ۔,218 مدیر,"بابوراو وشنو پراڑکر کے مطابق ` سروستی ` کا ہرایک شمارہ اپنے آپ میں تکمیلیت لئے ہوئے ہوتا تھا , اس کا ہرایک شمارہ مدیر کی شخصیت کا اعلان کرتا تھا ۔",11 مدیر,بنارسیداس چترویدی اس کے مدیر تھے ۔,16 مدیر,` دھرم یگ ` کے پہلے مدیر جوشی برادران ڈاکٹر ہیمچند جوشی اور الاچند جوشی تھے ۔,22 مدیر,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔,25 مدیر,ان کے ذریعہ مدیر ہمیشہ شک سے دیکھے جاتے تھے اور ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ حکومت مخالف مضمون لکھتے ہیں ۔,190 مدیر,جب کبھی کوئی اخبار تلخیوں کے متعلق لکھتا تو اس کے مدیر کو جرمانہ اور سزا دونوں بھگتنا پڑتا ۔,193 جاتا,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔,33 جاتا,ادب کا نوبل انعام کسی خاص زبان کے خصوصی قلمکار کو اس کے مجموعی تخلیقی تعاون کے لئے دیا جاتا ہے توصیفی سند میں بھلے ہی اس کی کچھ خاص تخلیقات کا ذکر ہو ۔,50 جاتا,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔,55 جاتا,لارڈ ریپن جن کو اعتدال _ پسند مانا جاتا ہے ، نے بھی ۱۸۸۰ میں لاہور میں ایک دربار کیا ۔,164 جاتا,ان کے ذریعہ مدیر ہمیشہ شک سے دیکھے جاتے تھے اور ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ حکومت مخالف مضمون لکھتے ہیں ۔,190 جاتا,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔,222 جس,پچھلے برس سے ہی میں ۱۹۱۳ کے اس انعام کے کچھ حقائق کی تلاش میں تھا اور ایستونیا کی راجدھانی تالن میں واقع قومی لائبریری میں جس کا کچھ برسوں سے میں خوش_قسمت قاری ممبر ہوں -,52 جس,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔,56 جس,ٹیگور بھی اپنی اس ` گیتانجلی ` کو جس کی شہرت اور مقبولیت کی بنیاد پر انھیں نوبل دیا گیا اپنی اصل انگریزی تخلیق ہی مانتے دکھائی دیتے تھے ۔,58 جس,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 جس,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 جس,جس میں بھیّا کی خوشی ہو کاکا ، ہمیں منظور ہے ۔,109 خبر,خبر کے اہم پہلووں کی قوت شامّہ ہو ۔,209 خبر,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔,222 خبر,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔,229 خبر,ایسی حالت میں اگر شائع خبر کی جانکاری نہیں ہوگی تو سوال و جواب پلّے کہاں سے پڑیگا ۔,230 خبر,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔,233 خبر,ہمارا محض ایک ہدف ہے خبر نکال کر اسے قابل قراءت زبان میں تیار کر قارئین تک پہنچانا ۔,234 مجھے,مجھے سویڈی اکادمی کے وہ نایاب سالانہ ` بروشیئر ` ملے جن میں انعام کمیٹی کے ممبران ، ان کے فیصلے ، فاتحین کی سوانح اور تقاریر شائع کئے جاتے ہیں ۔,53 مجھے,مجھے مکمل یقین ہے کہ ان میں سے کئی نے نہ ٹیگور کو پڑھا ہوگا نہ پڑھنا چاہتے ہونگے ۔,93 مجھے,میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی مجھے جانے ۔,138 مجھے,جی ، مجھے آپ کے سائیکولوجی کے نوٹس چاہیئے تھے ۔,255 مجھے,یہ تو مجھے دیکھتا ہی نہیں ۔,258 مجھے,تم مجھے ڈائیونگ سکھا سکتے ہو ؟,272 وقت,وہ اس وقت کی پابندی یا صحافت کے مستقل وقت پر اشاعت کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔,9 وقت,اسی وقت ` اکنامک ٹائمز ` نے کلکتہ شمارہ شروع کیا ۔,37 وقت,ٹینا بہت کریٹیکل ہے راہول ، اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔,133 وقت,اس وقت کی ہندی صحافت کا فروغ متعدد معاشی وجوہات سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔,187 وقت,وقت سے پہلے پہنچنے کے بھی اپنے فوائد ہیں ۔,219 وقت,اس وقت کا مناسب استعمال آپ تال_میل بٹھانے میں کر سکتے ہیں ۔,220 کبھی,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔,55 کبھی,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 کبھی,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔,107 کبھی,ہم تمھارا اعتماد نہیں توڑینگے چندن ، کبھی نہیں NULL ، تم جو بھی کہو گے ہم وہی کرینگے ۔,127 کبھی,ان میں کچھ تو اتنے قرضدار ہو گئے کہ وہ کبھی بحال ہو ہی نہیں سکے ۔,161 کبھی,پولس اور جج بھی اپنے گندے اور پہلے سے طےشدہ طریقوں کو مدیروں کے خلاف استعمال کرنے سے کبھی ہچکتے نہیں تھے ۔,189 کسی,ادب کا نوبل انعام کسی خاص زبان کے خصوصی قلمکار کو اس کے مجموعی تخلیقی تعاون کے لئے دیا جاتا ہے توصیفی سند میں بھلے ہی اس کی کچھ خاص تخلیقات کا ذکر ہو ۔,50 کسی,یہ بات الگ ہے کہ اگر ہندستان کے دوسرے ادبی نوبل کے لئے ایک عجیب لابینگ کا حصہ ہے تو شاید خود منتظم ، یا کنورنارائن یا سچّدانندن یا کسی خودساختہ دیگر امیدوار کو مل ہی جائے ۔,94 کسی,ٹکرانے والے ٹالنے والے جوابوں سے بغیر ہمت کے ہارے کسی بھی قیمت پر سچ اگلوانے میں کامیابی پانے کا مکمل ارادہ ہو ۔,210 کسی,اکثر دوردرشن پر وزیراعظم یا کسی دیگر انتہائی خاص شخص یا پریس کانفرنس دیکھ کر ناظرین و سامعین کا ردعمل ہوتا ہے کہ ` مزہ نہیں آیا ` ۔,225 کسی,صحافی اگر کسی خاص علاقے کے اخبار کی نمائندگی کر رہا ہے تو اسے قومی رہنما کے پریس کانفرنس میں اپنے جواب حاصل کرنا چاہیئے ۔,238 کسی,اتنا ذلیل ہونے کے بعد میں کسی کو اپنا منھ دکھانے کے لایق نہیں رہی ہوں نا ۔,285 جی,دیویدی جی نے ادبی صحافت کے لئے کچھ اصول بنائے ۔,8 جی,رامانند جی چٹرجی کی ترغیب پاکر ۱۹۸۲ میں ماڈرن ریویو پرواسی پرکاشن سموہ نے ` وشال بھارت ` کی اشاعت شروع کی ۔,15 جی,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 جی,بھارتیندو جی آنرری مجسٹریٹ مقرر کئے گئے تب بھی وہ نڈر ہوکر لکھتے رہے ۔,196 جی,آچاریہ دیویدی جی نے ` سرسوتی ` کے جنوری ۱۹۰۴ کے شمارے میں ` مدیروں کے لئے اسکول ` جون ۱۹۰۷ میں ` مدیرانہ لیاقت ` اور فروی ۱۹۰۹ میں ` امریکہ میں عمدہ _ ترین مدیر ` عناوین پر جو تبصرے لکھے ہیں ان میں کامیاب مدیر بننے کے لئے لازمی لیاقت اور تعلیم کا ذکر ہے ۔,199 جی,جی ، مجھے آپ کے سائیکولوجی کے نوٹس چاہیئے تھے ۔,255 بعد,بعد میں دھرم ویر بھارتی نے اپنی ادارت سے اس میں چار چاند لگائے ۔,24 بعد,جنگ عظیم کے بعد ملک میں صنعتوں کے قیام کے لئے کارپوریشن میں کچھ کمپنیاں تشکیل دی گئیں لیکن ان کے حصص_کنندگان کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔,27 بعد,کچھ برس بعد دونوں رسالوں نے دلی سے بھی اپنے شمارے نکالنے شروع کئے ۔,35 بعد,` آیوروید مہاسمّیلن پتریکا ` کی اشاعت کے دو برس بعد ۱۹۱۵ میں الہ_آباد کی سائنس کونسل نے ` سائنس پتریکا ` کی اشاعت شروع کی ۔,46 بعد,بعد میں ان کا اس پر کیا ردعمل تھا اس کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا ۔,78 بعد,بعد میں یہ ییٹس بھی ٹیگور کے مخالف ہو گئے اور ۱۹۳۵ میں ایک بار یوں ابل پڑے :,79 جب,معاشی صحافت تبھی فروغ پا سکتی ہے جب معاشی شعبے میں تیزی سے سرمایہ لگا ہو ، کمپنیاں اچھا فائدہ دیں اور ان کے حصص کی قدر تیزی سے بڑھے ۔,28 جب,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 جب,جب اخبارات نے مذکورہ ڈھنگ سے بیان کیا تو سرکاری خدمات کے متعلق جگہ - جگہ پر جلسے منعقد کئے گئے ۔,175 جب,جب کبھی کوئی اخبار تلخیوں کے متعلق لکھتا تو اس کے مدیر کو جرمانہ اور سزا دونوں بھگتنا پڑتا ۔,193 جب,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔,195 جب,یہ تبھی ممکن ہے جب اسے موضوع کی مکمل جانکاری ہو ۔,204 رہا,یہ رسالہ اب بھی شائع ہو رہا ہے ۔,44 رہا,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔,70 رہا,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 رہا,حالات کو دیکھتے ہوئے ایک خیال آ رہا ہے ، کہئے تو کہوں ۔,104 رہا,ان دنوں ہندستان میں قحط پڑ رہا تھا اور معاشی بحران کے کالے بادل منڈلا رہے تھے ۔,159 رہا,اس وقت کی ہندی صحافت کا فروغ متعدد معاشی وجوہات سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔,187 شروع,رامانند جی چٹرجی کی ترغیب پاکر ۱۹۸۲ میں ماڈرن ریویو پرواسی پرکاشن سموہ نے ` وشال بھارت ` کی اشاعت شروع کی ۔,15 شروع,متعدد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا ۔,29 شروع,اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے معاشی رسالوں ، `` اکنامِک ٹائمز `` اور `` فائننشیئل ایکسپریس `` کی اشاعت شروع ہوئی ۔,31 شروع,کچھ برس بعد دونوں رسالوں نے دلی سے بھی اپنے شمارے نکالنے شروع کئے ۔,35 شروع,۱۹۷۵ میں ` بزنس اسٹینڈرڈ ` نے کلکتہ سے اشاعت شروع کیا ۔,36 شروع,اسی وقت ` اکنامک ٹائمز ` نے کلکتہ شمارہ شروع کیا ۔,37 ہوں,پچھلے برس سے ہی میں ۱۹۱۳ کے اس انعام کے کچھ حقائق کی تلاش میں تھا اور ایستونیا کی راجدھانی تالن میں واقع قومی لائبریری میں جس کا کچھ برسوں سے میں خوش_قسمت قاری ممبر ہوں -,52 ہوں,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔,88 ہوں,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 ہوں,میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی مجھے جانے ۔,138 ہوں,ممّا ! میں یہ آٹھ چٹھیاں آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔,140 ہوں,ان میں وہ ساری باتیں ہیں جو میں اپنی بیٹی کو کہنا چاہتی ہوں ۔,141 اسے,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔,70 اسے,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 اسے,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔,107 اسے,اسے بھی یہ اپنی زندگی سے زیادہ پیاری تھی ۔,137 اسے,یہ تبھی ممکن ہے جب اسے موضوع کی مکمل جانکاری ہو ۔,204 اسے,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔,213 پہلے,` دھرم یگ ` کے پہلے مدیر جوشی برادران ڈاکٹر ہیمچند جوشی اور الاچند جوشی تھے ۔,22 پہلے,اس کی دیکھا دیکھی ` فائننشیل ایکسپریس ` نے پہلے چِنّئی اور پھر کلکتہ سے اور ` اکنامک ٹائمز ` نے احمدآباد سے اپنے شمارے نکالے ۔,38 پہلے,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 پہلے,یوں تو اس محرومی مضمون کا فوری مقصد اشوک واجپیئی کے ذریعہ مجوزہ عالمی مشاعرہ کے انعقاد میں پہلے سے ہی پلیتا لگانا ہے ۔,98 پہلے,سب سے پہلے نوجوان شاعر ویومیش شکل سے ۔,100 پہلے,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔,120 بہت,اس ` گیتانجلی ` اور مبینہ اصل بنگلہ ` گیتانجلیہڑ ` میں بہت اور اہم فرق ہے ۔,59 بہت,انعام عشائیے پر جو بہت چھوٹی تقریر کرنی ہوتی ہے اس کی جگہ انھوں نے اکادمی کو یک_سطری تار انگریزی میں بھیجا ، جسے سویڈن میں برطانوی سفارت_خانے کے موجودہ کارگزار سفیر کلائیو نے موجود مہمانوں کو پڑھ کر سنایا ۔,62 بہت,بہت افسوس ہے کہ ایڈورڈ_سعید نے یہ تقریر نہیں دیکھی ورنہ اپنی ` اورئینٹلزم ` میں جو یوں تو کوئی بہت قابل_اطمینان کتاب نہیں ہے کم سے کم اس کا ذکر شاید وہ کرتے ۔,68 بہت,انگریزی میں اسی صدی موقع کو بھنانے کے لئے ان کی کچھ کتابیں ضرور چھپی ہیں لیکن بہت محدود شماروں میں ۔,89 بہت,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 بہت,تھوڑا بہت حق جو ہم نے اپنا سمجھ لیا تھا ، وہ تو تم نے چھین ہی لیا نا ۔,115 اپنی,اعلیٰ زمرے کے سنجیدہ مفکر کے روپ میں اپنی تخلیق کے ذریعہ آریہ مذہب اور قومی مذہب کی تشہیر کی ۔,2 اپنی,بعد میں دھرم ویر بھارتی نے اپنی ادارت سے اس میں چار چاند لگائے ۔,24 اپنی,غورطلب ہے کہ سویڈی اکادمی کہہ رہی ہے کہ ٹیگور نے انگریزی ` فارم ` میں ترجمہ میں نہیں ، مغرب کو اپنی صلاحیت سے متعارف کروایا ۔,57 اپنی,ٹیگور بھی اپنی اس ` گیتانجلی ` کو جس کی شہرت اور مقبولیت کی بنیاد پر انھیں نوبل دیا گیا اپنی اصل انگریزی تخلیق ہی مانتے دکھائی دیتے تھے ۔,58 اپنی,اس سے بھی عجیب واقعہ یہ ہے کہ ٹیگور نے اپنی کوئی نوبل_انعام کی حصول تقریر بھی نہیں بھیجی کہ اکادمی کا کوئی جیوری یا افسر اس تاریخی موقع پر پڑھ سکے ۔,64 اپنی,حال کے برسوں میں ہماری متعارف آسٹریائی ناول_نگار ، شاعرہ و ڈرامہ_نگار ایلفریڈے یلینیک جنھیں بھیڑ کے درمیان رہنے اور اس کے سامنے بولنے سے وحشت ہے ، اپنی نوبل تقریر ویڈیو کر کے بھجوایا تھا اور وہی دکھایا ، سنایا گیا ۔,65 و,ہندی اخبار و رسائل کے ابتدائی مدیروں ، بالمکند گپت ، مہاویرپرساد دیویدی ، درگاپرساد مشر ، مدن_موہن مالویہ ، بابوراووشنو پراڑکر ، امبیکاپرساد واجپیئی اور لکشمینارائن گردے نے ان کمیوں کو دور کرنے اور ہندی نثر کو فروغ دینے میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ۔,7 و,۲۰ کی دہائی کے تیسرے سال کلکتہ سے طنز و مزاح سے بھرپور ` متوالا ` کی اشاعت ہوئی ۔,12 و,عوام کے لئے آسان اور صریحی زبان و اسلوب میں لکھے رسائل ہی مفید ہو سکتے ہیں ۔,48 و,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔,56 و,حال کے برسوں میں ہماری متعارف آسٹریائی ناول_نگار ، شاعرہ و ڈرامہ_نگار ایلفریڈے یلینیک جنھیں بھیڑ کے درمیان رہنے اور اس کے سامنے بولنے سے وحشت ہے ، اپنی نوبل تقریر ویڈیو کر کے بھجوایا تھا اور وہی دکھایا ، سنایا گیا ۔,65 و,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔,71 جا,یہ صدارتی تقریر اتنی نیم کچرےپن ، شبہات اور جذبہء_ہمدردی سے پُر ہے کہ خود اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔,69 جا,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔,73 جا,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 جا,ممّا ! میں یہ آٹھ چٹھیاں آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔,140 جا,یہ صلاحیت تجربوں سے بھی لائی جا سکتی ہے ۔,211 جا,لیکن اگر منتظم یا موضوع کی جانکاری پہلے سے نہیں ہو سکے تو وہاں جا کر اپنی تیز ذہنی سے کچھ پتا کر لینا چاہیئے ۔,214 اب,یہ رسالہ اب بھی شائع ہو رہا ہے ۔,44 اب,اس پرچہ کی اشاعت میں شروع سے اب تک الہ_آباد یونیورسٹی کے سائنس شعبہ کے ممبر اور چوٹی کے سائنسداں تعاون دیتے رہے ہیں ۔,47 اب,سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ قارئین کو چھوڑ کر ٹیگور کو اب میری ہی طرح تقریباً نہ کوئی پڑھتا ہے نہ پڑھنا چاہتا ہے ۔,86 اب,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔,91 اب,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔,92 اب,تم سے ناراض رہنے کا اب کا حق ہے ہمارا ؟,114 طرح,کپل_سبّل اور نریندر مودی کی طرح وہ بھی تو شاعر ہیں ۔,84 طرح,سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ قارئین کو چھوڑ کر ٹیگور کو اب میری ہی طرح تقریباً نہ کوئی پڑھتا ہے نہ پڑھنا چاہتا ہے ۔,86 طرح,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔,95 طرح,انگریزی حکومت نے بھی اس روایت کو اپنایا اور اس پر کثیر رقم پانی کی طرح بہایا ۔,157 طرح,اسی طرح کا دربار لارڈ کرزن نے بھی کیا ۔,166 طرح,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔,182 رہی,غورطلب ہے کہ سویڈی اکادمی کہہ رہی ہے کہ ٹیگور نے انگریزی ` فارم ` میں ترجمہ میں نہیں ، مغرب کو اپنی صلاحیت سے متعارف کروایا ۔,57 رہی,ممّا ! میں یہ آٹھ چٹھیاں آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔,140 رہی,یہ تو کیا کہہ رہی ہے روپا ؟,146 رہی,اسی طرح کانفرنس کے اختتام کے بعد بھی اگر بہت دیر نہیں ہو رہی ہو تو فوراً بھاگنا مفید نہیں ہوتا ۔,221 رہی,سوچ کیا رہی ہو موہنی ! کود جاوء ۔,261 رہی,منا ! میں جا رہی ہوں ۔,281 نہ,سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ قارئین کو چھوڑ کر ٹیگور کو اب میری ہی طرح تقریباً نہ کوئی پڑھتا ہے نہ پڑھنا چاہتا ہے ۔,86 نہ,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 نہ,مجھے مکمل یقین ہے کہ ان میں سے کئی نے نہ ٹیگور کو پڑھا ہوگا نہ پڑھنا چاہتے ہونگے ۔,93 نہ,دیوتا نہ بھی ملے ، تو کیا پجاری کی بھکتی چھوٹ جاتی ہے ؟,126 نہ,ذاتیات میں آپ یقین بھلے نہ کریں اگر اتفاق سے آپ کی اور امیدوار کی ذات ایک ہے تو ذات کی بنیاد پر متاثر کرنے کی کوششیں ہونگی ۔,249 نہ,پھر آج کے زمانے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ غیرجانبدار سے غیرجانبدار نامہ_نگار کا کوئی بھی سیاسی جھکاو نہ ہو ۔,250 تک,اس پرچہ کی اشاعت میں شروع سے اب تک الہ_آباد یونیورسٹی کے سائنس شعبہ کے ممبر اور چوٹی کے سائنسداں تعاون دیتے رہے ہیں ۔,47 تک,زمانہ کیا انھیں مہمانوں کا ترجمہ کرنے و پڑھنے یا جذبے میں گھسنے تک نہیں دیا جائے گا ؟,96 تک,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔,120 تک,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔,182 تک,ہمارا محض ایک ہدف ہے خبر نکال کر اسے قابل قراءت زبان میں تیار کر قارئین تک پہنچانا ۔,234 تک,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔,298 گئی,سویڈن اکیڈمی نوبل کمیٹی کے ذریعہ رویندر ناتھ ٹیگور پر دئے گئے بیان میں بلاشبہہ ` گیتانجلی ` کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے لیکن ` دی گارڈنر ` لرکس آف لو اینڈ لائف ` گلمپز آف بنگال لائف ` ، ` دی کرسنٹ موون ` اور سادھنا ` دی ریلائزیشن آف لائف ` کے ذکر بھی ہیں ۔,51 گئی,ٹیگور کو اس سب سے متاثر بلکہ ان کا ایک ` ` پروڈکٹ ` ` نما صوفی ، فلسفی ، مذہبی انسان تقریباً ایک پیغمبر جیسا پیش کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے ۔,76 گئی,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔,122 گئی,ہم نے بہت کوشش کی راہول ، مگر اس کی انٹرنل بلیڈنگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہم کچھ نہیں کر سکے ۔,134 گئی,گائتری منتر تو میں بھول گئی ۔,144 گئی,سنا بہنوں ہماری روپا گائتری منتر بھول گئی ۔,147 ہندی,مہاتما منشی رام جو آگے چل کر سوامی شردّھانند کے روپ میں مشہور ہوئے انھیں کے بیٹے اندر ودّیا واچسپتی ہندی صحافت کے ایک تابندہ ستارہ تھے ۔,0 ہندی,ہندی صحافت کے جنم کے ساتھ ہی ادبی صحافت کا فروغ ہونے لگا ۔,3 ہندی,ہندی اخبار و رسائل کے ابتدائی مدیروں ، بالمکند گپت ، مہاویرپرساد دیویدی ، درگاپرساد مشر ، مدن_موہن مالویہ ، بابوراووشنو پراڑکر ، امبیکاپرساد واجپیئی اور لکشمینارائن گردے نے ان کمیوں کو دور کرنے اور ہندی نثر کو فروغ دینے میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ۔,7 ہندی,اس میں تبھی موجودہ ہندی مصنفین کی تخلیقات ان کی زندگی کا تعارف اور تنقید چھپتی تھی ۔,13 ہندی,ہندی کے عظیم شاعر سُرجکانت ترپاٹھی نرالا ` متوالا ` کی اشاعت سے شدید طور سے جڑے تھے ۔,14 ہندی,اس رسالے نے اپنے علمی مضامین ، بھرپور تبصروں ، عمدہ تصاویر کے سبب اپنے لئے جلد ہی ہندی رسالوں میں خصوصی مقام بنا لیا ۔,17 رہے,اس پرچہ کی اشاعت میں شروع سے اب تک الہ_آباد یونیورسٹی کے سائنس شعبہ کے ممبر اور چوٹی کے سائنسداں تعاون دیتے رہے ہیں ۔,47 رہے,شاعر کی زندگی میں ہی شاید دونوں میں ترمیم بھی ہوتے رہے ہیں ۔,60 رہے,ٹیگور کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ` اس شعری فن کے نئے اور لائقِ_ستائش ماسٹر ہیں جو ملکہ ایلیزابیتھ کے زمانے سے برطانوی تہذیب کی تشہیر کے معتمد ہمراہی رہے ہیں ۔ ` `,72 رہے,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔,90 رہے,یہ کیسی باتیں کر رہے تھے تم لوگ ، ہمارے لئے تم اپنی خوشیاں چھوڑ دوگے اور ہم خوش ہو جائینگے ۔,128 رہے,ان دنوں ہندستان میں قحط پڑ رہا تھا اور معاشی بحران کے کالے بادل منڈلا رہے تھے ۔,159