dropped,sentences چل کر ہوئے تھے,مہاتما منشی رام جو آگے چل کر سوامی شردّھانند کے روپ میں مشہور ہوئے انھیں کے بیٹے اندر ودّیا واچسپتی ہندی صحافت کے ایک تابندہ ستارہ تھے ۔ دیا,سددھرم پرچارک ( 1911 ) ، وجے ( 1918 ) ، ستیہوادی ہفتہ_وار ( 1923 ) اور جن ستّا ( 1952 ) وغیرہ کی بہترین ادارت کے ذریعہ انھوں نے شمالی ہندستان میں عوامی بیداری کا اہم کارنامہ انجام دیا ۔ کی,اعلیٰ زمرے کے سنجیدہ مفکر کے روپ میں اپنی تخلیق کے ذریعہ آریہ مذہب اور قومی مذہب کی تشہیر کی ۔ ہونے لگا,ہندی صحافت کے جنم کے ساتھ ہی ادبی صحافت کا فروغ ہونے لگا ۔ تھی رہتی تھی,ابتدا میں رسائل کی زبان سست تھی اور اس میں مقامیت بھی رہتی تھی ۔ تھی,املا میں یکسانیت نہیں تھی ۔ ہوتی تھی,قواعد سے متعلق بھولیں بھی ہوتی تھی ۔ کرنے دینے دیا,ہندی اخبار و رسائل کے ابتدائی مدیروں ، بالمکند گپت ، مہاویرپرساد دیویدی ، درگاپرساد مشر ، مدن_موہن مالویہ ، بابوراووشنو پراڑکر ، امبیکاپرساد واجپیئی اور لکشمینارائن گردے نے ان کمیوں کو دور کرنے اور ہندی نثر کو فروغ دینے میں قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ۔ بنائے,دیویدی جی نے ادبی صحافت کے لئے کچھ اصول بنائے ۔ دیتے تھے,وہ اس وقت کی پابندی یا صحافت کے مستقل وقت پر اشاعت کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔ لینا کرنا دینا کرنا سمجھتے تھے,وہ صحافت کے ناظموں کو اعتماد میں لینا ، آزادی اور شفافیت سے خیالات ظاہر کرنا ، مصنفین کو کچھ اجرت دینا ، قارئین کو نئی جانکاری اور نئی تخلیقات فراہم کرنا بھی لازمی سمجھتے تھے ۔ لئے ہوئے ہوتا تھا کرتا تھا,"بابوراو وشنو پراڑکر کے مطابق ` سروستی ` کا ہرایک شمارہ اپنے آپ میں تکمیلیت لئے ہوئے ہوتا تھا , اس کا ہرایک شمارہ مدیر کی شخصیت کا اعلان کرتا تھا ۔" ہوئی,۲۰ کی دہائی کے تیسرے سال کلکتہ سے طنز و مزاح سے بھرپور ` متوالا ` کی اشاعت ہوئی ۔ چھپتی تھی,اس میں تبھی موجودہ ہندی مصنفین کی تخلیقات ان کی زندگی کا تعارف اور تنقید چھپتی تھی ۔ جڑے تھے,ہندی کے عظیم شاعر سُرجکانت ترپاٹھی نرالا ` متوالا ` کی اشاعت سے شدید طور سے جڑے تھے ۔ پاکر کی,رامانند جی چٹرجی کی ترغیب پاکر ۱۹۸۲ میں ماڈرن ریویو پرواسی پرکاشن سموہ نے ` وشال بھارت ` کی اشاعت شروع کی ۔ تھے,بنارسیداس چترویدی اس کے مدیر تھے ۔ بنا لیا,اس رسالے نے اپنے علمی مضامین ، بھرپور تبصروں ، عمدہ تصاویر کے سبب اپنے لئے جلد ہی ہندی رسالوں میں خصوصی مقام بنا لیا ۔ تھی,ہزاری_پرساد دیویدی کی ادارت میں شانتی نکیتن سے ۱۹۴۲ میں سہہ_ماہی ` وشوبھارتی ` کی اشاعت بھی ہندی ہفتہ_وار کی اشاعت میں میل کا پتھر تھی ۔ ہوئے,` وشوبھارتی ` میں متعدد دانشوروں کے تحقیقی اور مفکرانہ مضامین شائع ہوئے ۔ کہا تھا,مہاتماگاندھی نے ` وشوبھارت ` کی اشاعت کو حوصلہ_مند کوشش کہا تھا ۔ کیا تھا,ہفتہ_وار `` دھرم یُگ `` اور `` ہندستان `` کی اشاعت نے ہندی صحافت کی بڑی کمی کو پورا کیا تھا ۔ تھے,` دھرم یگ ` کے پہلے مدیر جوشی برادران ڈاکٹر ہیمچند جوشی اور الاچند جوشی تھے ۔ کی,انھوں نے بڑی مہارت سے اس کی شروعات کی ۔ لگائے,بعد میں دھرم ویر بھارتی نے اپنی ادارت سے اس میں چار چاند لگائے ۔ کرنے دیا,` دھرم یگ ` ، ` ساگریکا ` ، ` پراگ ` اور پھر `` سنڈے میل `` میں کنھیّا لال نندن جیسے ادیب اور مدیر نے سماجی ، ثقافتی سروکاروں کا تحفظ کرنے میں اہم تعاون دیا ۔ بنایا,منوہرشیام جوشی کی ادارت میں ` ساپتاہک ہندوستان ` نے بڑا ریکارڈ بنایا ۔ دی گئیں تھی,جنگ عظیم کے بعد ملک میں صنعتوں کے قیام کے لئے کارپوریشن میں کچھ کمپنیاں تشکیل دی گئیں لیکن ان کے حصص_کنندگان کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔ پا سکتی ہے لگا ہو دیں بڑھے,معاشی صحافت تبھی فروغ پا سکتی ہے جب معاشی شعبے میں تیزی سے سرمایہ لگا ہو ، کمپنیاں اچھا فائدہ دیں اور ان کے حصص کی قدر تیزی سے بڑھے ۔ کیا,متعدد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا ۔ کرنے لگے,لوگ ایک معاشی رسالہ کی ضرورت محسوس کرنے لگے ۔ کرنے ہوئی,اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے معاشی رسالوں ، `` اکنامِک ٹائمز `` اور `` فائننشیئل ایکسپریس `` کی اشاعت شروع ہوئی ۔ تھا,ان کی اشاعت کے بیچ فقط دو ہفتہ کا فرق تھا ۔ ہوئے کہا جاتا تھا,یہ دونوں اخبارات ممبئی سے شائع ہوئے جسے ملک کی معاشی راجدھانی کہا جاتا تھا ۔ کیا,عوام نے ان دونوں رسالوں کا استقبال کیا ۔ نکالنے کئے,کچھ برس بعد دونوں رسالوں نے دلی سے بھی اپنے شمارے نکالنے شروع کئے ۔ کیا,۱۹۷۵ میں ` بزنس اسٹینڈرڈ ` نے کلکتہ سے اشاعت شروع کیا ۔ کیا,اسی وقت ` اکنامک ٹائمز ` نے کلکتہ شمارہ شروع کیا ۔ دیکھا دیکھی NULL نکالے,اس کی دیکھا دیکھی ` فائننشیل ایکسپریس ` نے پہلے چِنّئی اور پھر کلکتہ سے اور ` اکنامک ٹائمز ` نے احمدآباد سے اپنے شمارے نکالے ۔ ہونے تھی,ہندستان میں شائع ہونے والی پہلی سائنسی میگزین ` ایشیاٹک ریسرچ ` تھی ۔ کیا تھا,اس کی اشاعت ۱۷۸۸ میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی نے کیا تھا ۔ تھی,ہندوستانی زبانوں میں شائع پہلی سائنسی میگزین ` بنگلہ ` میں ۱۸۲۱ میں شائع ` پرشناولی ` تھی ۔ کرنے ہے,ہندی میں سائنسی رسالے کا آغاز کرنے کا سہرا ` آیوروید مہاسمّیلن پتریکا ` کو ہے ۔ ہوئی,اس کی اشاعت ۱۹۱۳ میں شروع ہوئی ۔ ہو رہا ہے,یہ رسالہ اب بھی شائع ہو رہا ہے ۔ ہوتے تھے,اس رسالہ میں آیوروید سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے ۔ کی,` آیوروید مہاسمّیلن پتریکا ` کی اشاعت کے دو برس بعد ۱۹۱۵ میں الہ_آباد کی سائنس کونسل نے ` سائنس پتریکا ` کی اشاعت شروع کی ۔ دیتے رہے ہیں,اس پرچہ کی اشاعت میں شروع سے اب تک الہ_آباد یونیورسٹی کے سائنس شعبہ کے ممبر اور چوٹی کے سائنسداں تعاون دیتے رہے ہیں ۔ لکھے ہو سکتے ہیں,عوام کے لئے آسان اور صریحی زبان و اسلوب میں لکھے رسائل ہی مفید ہو سکتے ہیں ۔ نکلتے ہیں,ہندی میں اس قسم کے متعدد ہفتہ_وار ، پندرہ_روزہ اور ماہانہ رسائل نکلتے ہیں ۔ دیا جاتا ہے ہو,ادب کا نوبل انعام کسی خاص زبان کے خصوصی قلمکار کو اس کے مجموعی تخلیقی تعاون کے لئے دیا جاتا ہے توصیفی سند میں بھلے ہی اس کی کچھ خاص تخلیقات کا ذکر ہو ۔ دئے گئے دی گئی ہے ہیں,سویڈن اکیڈمی نوبل کمیٹی کے ذریعہ رویندر ناتھ ٹیگور پر دئے گئے بیان میں بلاشبہہ ` گیتانجلی ` کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے لیکن ` دی گارڈنر ` لرکس آف لو اینڈ لائف ` گلمپز آف بنگال لائف ` ، ` دی کرسنٹ موون ` اور سادھنا ` دی ریلائزیشن آف لائف ` کے ذکر بھی ہیں ۔ تھا ہوں,پچھلے برس سے ہی میں ۱۹۱۳ کے اس انعام کے کچھ حقائق کی تلاش میں تھا اور ایستونیا کی راجدھانی تالن میں واقع قومی لائبریری میں جس کا کچھ برسوں سے میں خوش_قسمت قاری ممبر ہوں - ملے کئے جاتے ہیں,مجھے سویڈی اکادمی کے وہ نایاب سالانہ ` بروشیئر ` ملے جن میں انعام کمیٹی کے ممبران ، ان کے فیصلے ، فاتحین کی سوانح اور تقاریر شائع کئے جاتے ہیں ۔ ہیں,پچھلے ۱۱۲ برسوں کی یہ اصل یادگاری کتابیں ہندوستان میں شاید کہیں دستیاب نہیں ہیں ۔ دیے گئے ہیں چھاپا جاتا ہے,ان میں متعلقہ برس کے انعامات کسے کیوں دیے گئے ہیں اس کا ایک سطری اور کبھی اس سے بھی کم ، خلاصہ بھی چھاپا جاتا ہے ۔ کہا گیا ہے کروا سکی,ٹیگور کے متعلق اصل فرانسیسی کے اس کچے ہندی ترجمے میں کہا گیا ہے ، اس گہری اور بلیغ تاثر ، اس جمالیات اور نئےپن کے لئے ، جس کا تعارف ان کی صلاحیت ، انگریزی رنگ و روپ میں مغربی ادب سے کروا سکی ۔ ہے کہہ رہی ہے کروایا,غورطلب ہے کہ سویڈی اکادمی کہہ رہی ہے کہ ٹیگور نے انگریزی ` فارم ` میں ترجمہ میں نہیں ، مغرب کو اپنی صلاحیت سے متعارف کروایا ۔ دیا گیا مانتے دکھائی دیتے تھے,ٹیگور بھی اپنی اس ` گیتانجلی ` کو جس کی شہرت اور مقبولیت کی بنیاد پر انھیں نوبل دیا گیا اپنی اصل انگریزی تخلیق ہی مانتے دکھائی دیتے تھے ۔ ہے,اس ` گیتانجلی ` اور مبینہ اصل بنگلہ ` گیتانجلیہڑ ` میں بہت اور اہم فرق ہے ۔ ہوتے رہے ہیں,شاعر کی زندگی میں ہی شاید دونوں میں ترمیم بھی ہوتے رہے ہیں ۔ ہے لینے گئے,ایک عجیب سچ ہے کہ ٹیگور خود انعام لینے سویڈن نہیں گئے ۔ کرنی ہوتی ہے بھیجا پڑھ کر سنایا,انعام عشائیے پر جو بہت چھوٹی تقریر کرنی ہوتی ہے اس کی جگہ انھوں نے اکادمی کو یک_سطری تار انگریزی میں بھیجا ، جسے سویڈن میں برطانوی سفارت_خانے کے موجودہ کارگزار سفیر کلائیو نے موجود مہمانوں کو پڑھ کر سنایا ۔ کیا,کلائیو نے ہی ٹیگور کی غیرموجودگی میں ان کا انعام بھی حاصل کیا ۔ ہے بھیجی پڑھ سکے,اس سے بھی عجیب واقعہ یہ ہے کہ ٹیگور نے اپنی کوئی نوبل_انعام کی حصول تقریر بھی نہیں بھیجی کہ اکادمی کا کوئی جیوری یا افسر اس تاریخی موقع پر پڑھ سکے ۔ رہنے بولنے ہے کر کے بھجوایا تھا دکھایا سنایا گیا,حال کے برسوں میں ہماری متعارف آسٹریائی ناول_نگار ، شاعرہ و ڈرامہ_نگار ایلفریڈے یلینیک جنھیں بھیڑ کے درمیان رہنے اور اس کے سامنے بولنے سے وحشت ہے ، اپنی نوبل تقریر ویڈیو کر کے بھجوایا تھا اور وہی دکھایا ، سنایا گیا ۔ ہے بتاتا جینے کرنے پہنچے,کمال یہ ہے کہ سویڈی اکادمی کا یہ اشتہار کہیں کوئی سرکاری وجہ نہیں بتاتا کہ ٹیگور ایسے امر لمحے کو جینے اپنی ایک غیرمعمولی تقریر کرنے اسٹاک_ہوم کیوں نہیں پہنچے ۔ کی,اس کے عوض میں سویڈی اکادمی نوبل کمیٹی کے صدر ، ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر ہارالڈ ہیئر نے ٹیگور پر اپنی ایک نسبتاً لمبی تقریر کی ۔ ہے دیکھی ہے کرتے,بہت افسوس ہے کہ ایڈورڈ_سعید نے یہ تقریر نہیں دیکھی ورنہ اپنی ` اورئینٹلزم ` میں جو یوں تو کوئی بہت قابل_اطمینان کتاب نہیں ہے کم سے کم اس کا ذکر شاید وہ کرتے ۔ ہے لکھی جا سکتی ہے,یہ صدارتی تقریر اتنی نیم کچرےپن ، شبہات اور جذبہء_ہمدردی سے پُر ہے کہ خود اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ NULL ہے NULL رہا لایا جانا چاہیئے,پتہ نہیں اس کا ترجمہ بنگلہ ادب میں ہے یا نہیں اور اس پر اپنے شونار قلمکاروں کا کیا ردعمل رہا لیکن اس صدی برس میں ہندی میں تو اسے لایا ہی جانا چاہیئے ۔ کر دیا گیا ہے لیا گیا ہے بنا دیا گیا ہے,اول تو اس میں ٹیگور کو پہلے ہی اینگلو و انڈین پوئیٹ اعلان کر دیا گیا ہے ، گیتانجلی کو بےخوفی سے ` ایک کلیکشن آف ریلیجیس پوئمس ` تو مان ہی لیا گیا ہے اسے انگریزی ادب کی ملکیت بنا دیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے ہیں رہے ہیں,ٹیگور کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ` اس شعری فن کے نئے اور لائقِ_ستائش ماسٹر ہیں جو ملکہ ایلیزابیتھ کے زمانے سے برطانوی تہذیب کی تشہیر کے معتمد ہمراہی رہے ہیں ۔ ` ` ہے کیا جا سکتا دے دیا گیا ہے,تقریر میں ہندوستان کے نشاۃالثانیہ کا پورا سہرا جس میں جدید ہندی زبانوں کا طلوع اور فروغ بھی شامل ہے عیسائی مشنریوں کو جن کے جزوی تعاون سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا ، دے دیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے,بھکتی تحریک کو بھی مغربی مذاہب سے غیرمتاثر نہیں کہا گیا ہے ۔ کیا گیا ہے,اس سے بڑا دعویٰ ` برہمو سماج ` کے لئے کیا گیا ہے ۔ کرنے چھوڑی گئی ہے,ٹیگور کو اس سب سے متاثر بلکہ ان کا ایک ` ` پروڈکٹ ` ` نما صوفی ، فلسفی ، مذہبی انسان تقریباً ایک پیغمبر جیسا پیش کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے ۔ کرنا ہے تھا تھا,یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ٹیگور کو اس سے ماقبل تحریر بیان کا علم تھا یا نہیں یا یہ ان کی غیرموجودگی سے متاثر تھا ۔ تھا چلتا,بعد میں ان کا اس پر کیا ردعمل تھا اس کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ ہو گئے ابل پڑے,بعد میں یہ ییٹس بھی ٹیگور کے مخالف ہو گئے اور ۱۹۳۵ میں ایک بار یوں ابل پڑے : جائیں,` ` بھاڑ میں جائیں ٹیگور ` ` ۔ نکالی سوچا ہونے ہے جاننا بھرا چھپوانا کر دیا کر لیا,ہم ( اسٹرج مور اور میں ) نے ( اس کی ) تین اچھی کتابیں نکالی اور پھر کیونکہ اس نے سوچا کہ عظیم شاعر ہونے سے زیادہ اہم ہے انگریزی جاننا ، تو اس نے جذبات بھرا کوڑا چھپوانا شروع کر دیا اور اپنی شہرت کو برباد کر لیا ۔ جانتا جانتا,ٹیگور انگریزی نہیں جانتا کوئی بھی ہندوستانی انگریزی نہیں جانتا ۔ بگاڑ کر کیا کہا,فلپ لارکن نے تو ۱۹۵۶ میں ٹیگور کے نام کو بگاڑ کر ` روینڈرم ` کیا اور ایک نازیبا لفظ بھی کہا ۔ ہیں,کپل_سبّل اور نریندر مودی کی طرح وہ بھی تو شاعر ہیں ۔ ہو جائے پکڑنے رہ جائیں گے,یوں شروعاتی انتخاب ہو جائے تو اس بار ہندوستانی زبانوں سے چھ ہی تو اور پکڑنے رہ جائیں گے ۔ ہے چھوڑ کر پڑھتا ہے پڑھنا چاہتا ہے,سنجیدہ معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ قارئین کو چھوڑ کر ٹیگور کو اب میری ہی طرح تقریباً نہ کوئی پڑھتا ہے نہ پڑھنا چاہتا ہے ۔ ہے NULL,عالمی ادب میں ان کی شہرت تاریخی ہے زندہء_جاوید نہیں ۔ کہہ چکا ہوں ہے دیتے ہیں,میں بےغیرتی ، پشیمانی سے کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے آج ہندوستان میں ٹیگور سے کہیں زیادہ موزوں نامدیوڈھسال ہے جس کی شاعری اور مشتبہ سیاسی چال چلن ایک تیکھی بحث جنم تو دیتے ہیں ۔ چھپی ہیں NULL,انگریزی میں اسی صدی موقع کو بھنانے کے لئے ان کی کچھ کتابیں ضرور چھپی ہیں لیکن بہت محدود شماروں میں ۔ سننے آتا ہے کھوج لیا گیا ہے بھول رہے ہیں ہوا ہو,فرانس میں تو کبھی کبھی سننے میں آتا ہے کہ جب سے ہندی سے ایک عوضی کھوج لیا گیا ہے ٹیگور کو لوگ بھول رہے ہیں بھلے ہی مثلاً ٹیٹی_نگر میں بھی اس کا طلوع نہ ہوا ہو ۔ ہے خریدا پڑھا جا رہا ہے لیتا,بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ٹیگور کا ہم عصر شاعر خلیل_جبران اب بھی ان سے ہزاروں گنا زیادہ خریدا پڑھا جا رہا ہے جبکہ جبران اور ٹیگور دونوں دنیا کے موافق ، حقیقی ادب کے شعبے میں آج کوئی بہت سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ ہے ہے ہو چکی ہونے کہی جاتی ہے,ایک عجب اتفاق ہے کہ اسی سال جبران کی ۱۳۰ ویں سالگرہ ہے اور بیسیوں تراجم اور کروڑوں کاپیوں میں فروخت ہو چکی ان کی تخلیق ` دی پروفٹ ` کی ۹۰ سالگرہ بھی جو شیکسپئر کے بعد دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوسری ادبی کتاب کہی جاتی ہے ۔ ہے پڑھا ہوگا پڑھنا چاہتے ہونگے,مجھے مکمل یقین ہے کہ ان میں سے کئی نے نہ ٹیگور کو پڑھا ہوگا نہ پڑھنا چاہتے ہونگے ۔ ہے ہے مل جائے,یہ بات الگ ہے کہ اگر ہندستان کے دوسرے ادبی نوبل کے لئے ایک عجیب لابینگ کا حصہ ہے تو شاید خود منتظم ، یا کنورنارائن یا سچّدانندن یا کسی خودساختہ دیگر امیدوار کو مل ہی جائے ۔ سوچتا ہوں ملے گا کرتا ہے دیتے ہیں دیتا ہے,حالانکہ ہندی کے کچھ دیگر بیوقوف رجائیت_پسندوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ملے گا تو منگلیش ڈبرال کو جو اس پر بھی کم و بیش منحصر کرتا ہے کہ اشوک انھیں اپنے عالمی مشاعرے میں کیا رول دیتے ہیں یا شریکانت جی کے لہجے میں دیتا بھی ہے یا نہیں ۔ کرنے پڑھنے گھسنے دیا جائے گا,زمانہ کیا انھیں مہمانوں کا ترجمہ کرنے و پڑھنے یا جذبے میں گھسنے تک نہیں دیا جائے گا ؟ منانے ہے بھرا ہوا ہے,وشنوکھرے کا مضمون ` رویندر نوبل شتی کو یوں منانے کے جوکھم ` ( ۱۶ جون ) غیرمہذب ، غیرمتناسب اور بےصبر تو ہے ہی اوچھے_پن اور محرومی سے بھی بھرا ہوا ہے ۔ لگانا ہے,یوں تو اس محرومی مضمون کا فوری مقصد اشوک واجپیئی کے ذریعہ مجوزہ عالمی مشاعرہ کے انعقاد میں پہلے سے ہی پلیتا لگانا ہے ۔ چکتا کرنا ہے,لیکن لگے ہاتھ کچھ اور لوگوں سے حساب چکتا کرنا بھی اس کا مقصد ہے ۔ NULL,سب سے پہلے نوجوان شاعر ویومیش شکل سے ۔ NULL,پھر سینئر منگلیش ڈبرال سے ۔ لا کر ڈال سکتے,نہیں ، سوتیلی ماں لا کر ہم منّا کو اور دکھ میں نہیں ڈال سکتے ۔ ہوتی ہے ہیں دیکھنے ملیگا,ارے سوتیلی ماں کیا ہمیشہ خراب ہوتی ہے ، اور پھر ہم لوگ جو ہیں منّے کو دیکھنے کے لئے ، اس کو دکھ کیسے ملیگا ۔ دیکھتے ہوئے آ رہا ہے کہئے کہوں,حالات کو دیکھتے ہوئے ایک خیال آ رہا ہے ، کہئے تو کہوں ۔ کر لو ہو جائیگا,بیٹا اومکار ! تم اگر گُنجا سے شادی کر لو تو سارا مسئلہ حل ہو جائیگا ۔ کرنا ہے جانتے ہو ہلا ملا ہے,اس کا بھی تو بیاہ ہمیں کرنا ہی ہے ، اور تم جانتے ہو کہ منّا گُنجا سے ہلا ملا بھی ہے ۔ دیکھا سمجھا ہے جانتے ہو سمجھ پائے گا ہے NULL,گنجا نے یہ گھر دیکھا سمجھا ہے ، تم سب بھی اسے جانتے ہو ، منا کبھی بھی نہیں سمجھ پائے گا کہ گنجا اس کی ماں ہے یا نہیں ۔ کہتے ہو,کاہے چندن ! تم کا کہتے ہو ؟ ہو ہے,جس میں بھیّا کی خوشی ہو کاکا ، ہمیں منظور ہے ۔ سمجھا تھا کر کے آئے ہیں,چاچا ! اس نے تو سمجھا تھا کہ آپ اس کا بیاہ چندن سے طے کر کے آئے ہیں ۔ چاہتی ہے چاہتا ہے,یہ تو چندن کو چاہتی ہے اور چندن بھی اسی کو چاہتا ہے ۔ کرنا چاہتا تھا ہوئی تھا کہا,لیکن چندن اگر گنجا سے بیاہ کرنا چاہتا تھا تو جس دن یہ بات طے ہوئی ، اس دن وہ بھی وہاں تھا ، اس نے کچھ کیوں نہیں کہا ؟ سنو رہ لینا,بس ایک بار ہماری بات سنو گنجا ، پھر چاہے زندگی بھر ہم سے ناراض رہ لینا ۔ رہنے ہے,تم سے ناراض رہنے کا اب کا حق ہے ہمارا ؟ سمجھ لیا تھا چھین لیا,تھوڑا بہت حق جو ہم نے اپنا سمجھ لیا تھا ، وہ تو تم نے چھین ہی لیا نا ۔ آتی لیا,بس ایک بات نہیں سمجھ آتی کہ تم نے کس بات کا بدلہ لیا ہم سے ؟ تھا,تمھارا بڑا بھروسہ تھا چندن ! سمجھتے تھے ہوگی پا لینگے,ہم سمجھتے تھے اگر ہماری محبت میں طاقت ہوگی تو ہم تمھیں ضرور پا لینگے ۔ ہوتا ہے ہوتا ہے,زندگی میں موہ-مایا ہی سب کچھ تو نہیں ہوتا ہے گُنجا ، ایک فرض بھی ہوتا ہے ۔ آئیں کھلی جانا تھا NULL,تم تو بہت بعد آئیں گنجا ، آنکھ کھلی تو پہلے بھیّا کو جانا تھا ، باپ و ماں کے تو چہرے تک یاد نہیں ہم کو ۔ کرنے ہو گئے,ان کی خوشی کی خاطر ہی ہم اپنا سب کچھ نِچھاور کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ رہ گئی تھی تھی تھی NULL تھی,گنجا ! بات صرف ہماری نہیں رہ گئی تھی ، بھیّا کی خوشی کی بات تھی ، اس گھر کی بات تھی جسے بھابھی نے اتنے جتن سے سنوارا و سجایا ، بات ہمارے منّا کی تھی ۔ سوچا دیکھنے سنبھالنے ہو NULL رہ گئے,اسلئے ہم نے سوچا کہ اس گھر کو دیکھنے و سنبھالنے کے لئے ایک تم ہی ہو اور کوئی نہیں ، اور ہم چپ رہ گئے ۔ تھا سنو گی سمجھو گی کر دوگی,گنجا ! ہمیں اتنا بھروسہ تھا تم پر کہ اگر تم ہماری مجبوری کو سنو گی تو ہمیں سمجھو گی اور معاف کر دوگی ۔ ہو چاہتی تھیں کرینگے,تم بہت بڑے ہو چندن ! ہاں ، پہلے تمھیں فقط چاہتی تھیں ، لیکن اب عقیدت کرینگے ۔ ملے چھوٹ جاتی ہے,دیوتا نہ بھی ملے ، تو کیا پجاری کی بھکتی چھوٹ جاتی ہے ؟ توڑینگے NULL کہو گے کرینگے,ہم تمھارا اعتماد نہیں توڑینگے چندن ، کبھی نہیں NULL ، تم جو بھی کہو گے ہم وہی کرینگے ۔ کر رہے تھے چھوڑ دوگے ہو جائینگے,یہ کیسی باتیں کر رہے تھے تم لوگ ، ہمارے لئے تم اپنی خوشیاں چھوڑ دوگے اور ہم خوش ہو جائینگے ۔ سمجھ رکھا ہے,تم نے سمجھ کا رکھا ہے ہمیں ؟ مت کرو بنے گا کر کے آتے ہیں,گنجا ! تم فکر مت کرو یہ دیوتا ہی تمھارا خاوند دیوتا بنے گا ، ہم ابھی بات کر کے آتے ہیں ۔ ہے,ویدجی ! بچوں کی خوشی میں ہی ہم دونوں کی خوشی ہے ۔ ہے بھرنے دیجئے,اسی میں ہم سب کا بھلا ہے ، گنجا کی مانگ تو اب چندن کو ہی بھرنے دیجئے ۔ ہے ہے,ٹینا بہت کریٹیکل ہے راہول ، اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔ کی بڑھ گئی تھی کر سکے,ہم نے بہت کوشش کی راہول ، مگر اس کی انٹرنل بلیڈنگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہم کچھ نہیں کر سکے ۔ کہا تھا ہونگی,میں نے اس سے پہلے ہی کہا تھا کہ اس کی ڈلیوری میں کامپلیکیشنس ہونگی ۔ جانتی تھی چاہیئے,لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ تمھیں یہ بچہ کتنا چاہیئے ۔ تھی,اسے بھی یہ اپنی زندگی سے زیادہ پیاری تھی ۔ چاہتی ہوں جانے,میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی مجھے جانے ۔ تھی تھی دے سکے,اس کی ماں کیسی تھی ، کون تھی ، ان سوالوں کا جواب وہ خود دے سکے ۔ چھوڑ کر جا رہی ہوں,ممّا ! میں یہ آٹھ چٹھیاں آپ کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔ ہیں کہنا چاہتی ہوں,ان میں وہ ساری باتیں ہیں جو میں اپنی بیٹی کو کہنا چاہتی ہوں ۔ بن کر رہ جائینگی,یہی میری بیٹی کی یادیں بن کر رہ جائینگی ۔ سنائیگی,روپا ہمیں گائتری منتر سنائیگی ۔ بھول گئی,گائتری منتر تو میں بھول گئی ۔ ,کیا ؟ کہہ رہی ہے,یہ تو کیا کہہ رہی ہے روپا ؟ سنا بھول گئی,سنا بہنوں ہماری روپا گائتری منتر بھول گئی ۔ رکھیگی سکھائیگی,ارے بیٹی ! تو پوجا پاٹھ میں دھیان نہیں رکھیگی تو اپنے بچوں کو کیا سکھائیگی ؟ کہتے ہیں سوچتے ہیں پڑتا ہے,جو ہم کہتے ہیں ، جو ہم سوچتے ہیں ، اسی کا اثر تو ہمارے بچوں پر پڑتا ہے ۔ جاؤٔ ہو جاؤ,جاؤٔ اسکول فنکشن کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ دیا جائیگا,ہر اسٹوڈینٹ کو فقط ایک ہی منٹ دیا جائیگا ۔ ہے,ہماری پہلی کانٹیسٹ ہے جسبندر سنگھ ۔ بننے کیا,اسی تعلق سے لارڈ لٹن نے یکم جنوری ، ۱۸۷۷ کو ملکہ وکٹوریہ کے ہندوستان کی ملکہ بننے کے اعلان کے لئے ایک دربار کیا ۔ ہوئی,ہندی کے عظیم مصنف اور صحافی بابو ہریش چندر بھارتیندو اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کے نتیجے میں ہندی صحافت کے لئے ایک زرخیز زمین تیار ہوئی ۔ لے کر کود پڑیں ہونا ہو گیا,ان کی انتھک کوششوں سے ترغیب لے کر ہندی کی دیگر صلاحیتیں بھی اس میدان میں کود پڑیں اور حکومت و اس کی پالیسیوں کا بھنڈا پھوڑ ہونا شروع ہو گیا ۔ لگانے ہے,بھارت میں دربار لگانے کی روایت بہت قدیم ہے ۔ اپنایا بہایا,انگریزی حکومت نے بھی اس روایت کو اپنایا اور اس پر کثیر رقم پانی کی طرح بہایا ۔ بننے کیا,اسی تعلق سے لارڈ لٹن نے یکم جنوری ، ۱۸۷۷ کو ملکہ وکٹوریہ کے ہندوستان کی ملکہ بننے کے اعلان کے لئے ایک دربار کیا ۔ پڑ رہا تھا منڈلا رہے تھے,ان دنوں ہندستان میں قحط پڑ رہا تھا اور معاشی بحران کے کالے بادل منڈلا رہے تھے ۔ ہونے کیا گیا,اس دربار پر ہونے والے خرچ کو ہندستانی بادشاہوں سے یکجا کیا گیا ۔ ہو گئے ہو سکے,ان میں کچھ تو اتنے قرضدار ہو گئے کہ وہ کبھی بحال ہو ہی نہیں سکے ۔ ملا,تحفتاً ان کو کچھ بھی نہیں ملا ۔ چلائی تھی کہا دکھانے تھی,لہٰذا ہندی اخبارات نے اس کی مخالفت میں زبردست مہم چلائی تھی اور کہا کہ اس دربار کے تناظر میں فقط سامراجیت کو دکھانے کی منشا تھی ۔ مانا جاتا ہے کیا,لارڈ ریپن جن کو اعتدال _ پسند مانا جاتا ہے ، نے بھی ۱۸۸۰ میں لاہور میں ایک دربار کیا ۔ کھو دی,اس دربار کے سبب اس نے ہندوستانیوں کی ہمدردی کھو دی ۔ کیا,اسی طرح کا دربار لارڈ کرزن نے بھی کیا ۔ تھی,ان دنوں بھی ہندستانی سماج کی معاشی حالت نہایت تشویشناک تھی ۔ چوکنے تھا,لیکن کرزن اپنے بداعمالیوں سے چوکنے والا نہیں تھا ۔ تھا,سرکاری خدمات میں ذات و نسل کی پالیسی کا بول _ بالا تھا ۔ تھا کیا,کارنوالس سب سے پہلا انگریز تھا جس نے مکمل سرکاری اعلیٰ عہدوں کو گوروں کے لئے محفوظ کیا ۔ کیا,اس نے ہندستانیوں کو عمداً سرکاری خدمات سے محروم کیا ۔ ڈٹ کر کیا جگایا,اس غیرمنصفانہ سرکاری پالیسی کے خلاف ہندی اخبارات نے ڈٹ کر تبلیغ کیا اور ہندستانی عوام کو جگایا ۔ کئے کرنے ہے,کاشی راسلے نے کچھ سوال و جواب کئے ; کیا سول سروس کے لئے امتحان پاس کرنے کے علاوہ کوئی اور بھی خوبی ہے ؟ ہونے ہو گئے ہیں دھندلی پڑ جاتی ہے,کیا ہزاروں ہندوستانی جو ذہن ، انصاف ، حوصلے اور کردار وغیرہ جیسی صفات سے آراستہ ہونے پر بھی اس کے لیے مایوس ہو گئے ہیں جیسے سورج کے سامنے شمع دھندلی پڑ جاتی ہے ۔ کیا کئے گئے,جب اخبارات نے مذکورہ ڈھنگ سے بیان کیا تو سرکاری خدمات کے متعلق جگہ - جگہ پر جلسے منعقد کئے گئے ۔ کرنی کر دی ڈالا جائے,اس کے ساتھ ہی ہندی اخبار و رسائل نے اترپردیش اور پنجاب میں صوبائی لیجسلیٹو کونسل کے قیام کے لئے مانگ کرنی شروع کر دی تاکہ ان صوبوں کے مسائل کو سرکار کے کانوں میں ڈالا جائے ۔ کہا کی جائیں چلانے ملیگا,` آریہ متر ` نے کہا کہ اگر بمبئی ، کلکتہ اور مدراس جیسی لیجسلِٹیو کونسل ان صوبوں میں قائم کی جائیں تو لفٹیننٹ گورنر کو حکومت ، مہارت کے ساتھ چلانے میں تعاون ملیگا ۔ اگلنے کر دیئے,عسکریت_پسند اخبارات و رسائل کے مدیروں کے مضامین نے برطانوی حکومت کے خلاف آگ کے شعلے اگلنے شروع کر دیئے ۔ دی کیا,` ہندی پردیپ ` رسالے نے ان شعلہ_زدہ الفاظ سے ہندوستانی عوام کو ترغیب دی اور بیدار کیا چھوڑ کر بھاگ آئی چھوڑ دیا,` او آزادی ، تم ہندستان کو چھوڑ کر کیوں بھاگ آئی اور اکیلا چھوڑ دیا ؟ چلی گئی,خدا کی بیٹی دنیا کی معشوقہ اور صفات کا مجموعہ ، تم کہاں چلی گئی ؟ رہے ہیں جھیلنی پڑی,ہندوستانی اس نقصان پر بری طرح سبک رہے ہیں ، یہاں تک کہ سفر میں ہندی رسائل اور ان کے مدیروں کو بڑی بڑی تکالیف جھیلنی پڑی ۔ دی تھی چھین لی گئی,لارڈ بینٹک اور لارڈ میٹکاف نے جو آزادی ہندوستانی صحافت کو دی تھی وہ ۱۸۵۷ کے بعد چھین لی گئی ۔ نبھایا تھا,پہلی جنگ آزادی میں یہاں کے اردو اخبارات نے بھی اہم رول نبھایا تھا ۔ مان لیا,لہٰذا برطانوی حکومت و اس کے انتظامیہ افسران اور اینگلو _ انڈِینز نے ہندوستانی پریس کو اپنا سخت دشمن مان لیا ۔ کر کے روکنے کی,اینگلو انڈین پریس نے خصوصاً دیسی صحافت کے راستے میں ہر ممکنہ رکاوٹ کھڑی کر کے اس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی ۔ ہو پا رہا تھا,اس وقت کی ہندی صحافت کا فروغ متعدد معاشی وجوہات سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔ دیتی تھی کرتے تھے,سرکار انھیں اخبار و رسائل کو معاشی مدد دیتی تھی جو اس کی حمایت کرتے تھے ۔ کرنے ہچکتے تھے,پولس اور جج بھی اپنے گندے اور پہلے سے طےشدہ طریقوں کو مدیروں کے خلاف استعمال کرنے سے کبھی ہچکتے نہیں تھے ۔ دیکھے جاتے تھے لگایا جاتا تھا لکھتے ہیں,ان کے ذریعہ مدیر ہمیشہ شک سے دیکھے جاتے تھے اور ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ حکومت مخالف مضمون لکھتے ہیں ۔ دکھا رہے تھے,حقیقت میں یہ ہندوستانی عوام کی تکلیفوں کو اپنے مضامین میں دکھا رہے تھے ۔ کر دیا تھا,مثال کے لئے میرٹھ کے کلیکٹر نے ` میرٹھ گزٹ ` کو مذکورہ اسباب سے ہی بند کر دیا تھا ۔ لکھتا بھگتنا پڑتا,جب کبھی کوئی اخبار تلخیوں کے متعلق لکھتا تو اس کے مدیر کو جرمانہ اور سزا دونوں بھگتنا پڑتا ۔ لکھے کی,بھارتیندو ہریش چند نے جہاں اپنی زندگی میں ۱۷ ڈرامہ ، ۳ ناول ، ایک مضمون اور متعدد شعری مجموعے لکھے ، وہیں انھوں نے ` ہریشچنسدریکا ، ` کوی _ وچن سدُدھا ` اور ` بالا بودھنی ` نامی تین اخبارات کی ادارت بھی کی ۔ لکھا ہے ہوکر کرنے لگی چلی,جناب بالمکند گپت نے لکھا ہے کہ ` کوی _ وچن سُدھا ` جب پندرہ_روزہ ہوکر سیاست سے متعلق اور دیگر مضامین آزادی کے جذبے سے شائع کرنے لگی تو بڑی تحریک چلی ۔ کئے گئے ہوکر لکھتے رہے,بھارتیندو جی آنرری مجسٹریٹ مقرر کئے گئے تب بھی وہ نڈر ہوکر لکھتے رہے ۔ ہونے لگی,عوام میں ان کے اخبارات کی عزت ہونے لگی ۔ بھلا سکتی,اسی طرح آچاریہ مہاویرپرساد دیویدی کے ناقابل _ فراموش تعاون کو بھی ہندی اخبارات کبھی نہیں بھلا سکتی ۔ لکھے ہیں بننے ہے,آچاریہ دیویدی جی نے ` سرسوتی ` کے جنوری ۱۹۰۴ کے شمارے میں ` مدیروں کے لئے اسکول ` جون ۱۹۰۷ میں ` مدیرانہ لیاقت ` اور فروی ۱۹۰۹ میں ` امریکہ میں عمدہ _ ترین مدیر ` عناوین پر جو تبصرے لکھے ہیں ان میں کامیاب مدیر بننے کے لئے لازمی لیاقت اور تعلیم کا ذکر ہے ۔ تھے,آچاریہ مہاویرپرساد دیویدی ایک نڈر مدیر ، انصاف _ پسند تنقید _ نگار ، ذمہ _ دار مصلح اور محنتی مضمون _ نگار تھے ۔ رہا,ان کا مدبرانہ مدیر ان کے جذباتی ادیب پر حاوی رہا ۔ ہوتا ہے,انومودن کا انت ، سمپادک کی ودائی ، ماگھ کا پربھات ورڑن ، دمینتی کا چندرپالمبھ وغیرہ مضامین میں ان کے جذباتی اسلوب کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔ ہوتی ہے,نامہ_نگار سے کہیں زیادہ کی توقع ہوتی ہے ۔ ہے ہو,یہ تبھی ممکن ہے جب اسے موضوع کی مکمل جانکاری ہو ۔ ہو,نامہ_نگار کو کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے کا مقصد پتہ ہو ۔ لگا کر پوچھنے ہو,تیکھے سوالات کو استحکام و شائستگی اور شیریں بیانی کا لیپ لگا کر پوچھنے کی صلاحیت ہو ۔ سمجھنے ہو,شکل و طرز عمل کو سمجھنے کی عقل ہو ۔ الجھنے ہو,بحث میں نہیں الجھنے کا مثبت عزم ہو ۔ ہو,خبر کے اہم پہلووں کی قوت شامّہ ہو ۔ ٹکرانے ٹالنے ہارے اگلوانے پانے ہو,ٹکرانے والے ٹالنے والے جوابوں سے بغیر ہمت کے ہارے کسی بھی قیمت پر سچ اگلوانے میں کامیابی پانے کا مکمل ارادہ ہو ۔ لائی جا سکتی ہے,یہ صلاحیت تجربوں سے بھی لائی جا سکتی ہے ۔ ملتا,کئی مرتبہ پہلے سے تیاری کا موقع نہیں ملتا ۔ ہوتا ہوتی,پھر بھی صحافی لاعلم تو ہوتا نہیں اسلئے اسے دقت نہیں ہوتی ۔ ہو سکے جا کر کر لینا چاہیئے,لیکن اگر منتظم یا موضوع کی جانکاری پہلے سے نہیں ہو سکے تو وہاں جا کر اپنی تیز ذہنی سے کچھ پتا کر لینا چاہیئے ۔ ملے پڑھ سمجھ لینا چاہیئے,پھر جو تحریری بیان ملے اسے جھٹ پٹ دھیان سے پڑھ و سمجھ لینا چاہیئے ۔ سوچ سمجھ کر کر داغ دینا چاہیئے,اس کی بنیاد پر عقلمند سوال سوچ سمجھ کر تیار کر داغ دینا چاہیئے ۔ ہو جائیگا بنتے جائینگے,پھر تو سلسلہ صحیح شروع ہو جائیگا اور راستے اپنے آپ بنتے جائینگے ۔ رہنا چاہیئے,پریس کانفرنسوں میں ہر صحافی کو فقط جسمانی طور سے ہی نہیں ، بلکہ ذہنی روپ سے بھی موجود رہنا چاہیئے ۔ پہنچنے ہیں,وقت سے پہلے پہنچنے کے بھی اپنے فوائد ہیں ۔ بٹھانے کر سکتے ہیں,اس وقت کا مناسب استعمال آپ تال_میل بٹھانے میں کر سکتے ہیں ۔ ہو رہی ہو بھاگنا ہوتا,اسی طرح کانفرنس کے اختتام کے بعد بھی اگر بہت دیر نہیں ہو رہی ہو تو فوراً بھاگنا مفید نہیں ہوتا ۔ مل جاتا ہے,بعد میں غیررسمی بات - چیت میں کئی بار خصوصی جانکاری یا خصوصی خبر کا سراغ مل جاتا ہے ۔ پرکھنے ہے,پرکھنے کی صلاحیت صحافی کی بھاری صفت ہے ۔ نکالنے دکھانی پڑتی ہے,بال کی کھال نکالنے کی مہارت بھی کئی بار دکھانی پڑتی ہے ۔ دیکھ کر ہوتا ہے آیا,اکثر دوردرشن پر وزیراعظم یا کسی دیگر انتہائی خاص شخص یا پریس کانفرنس دیکھ کر ناظرین و سامعین کا ردعمل ہوتا ہے کہ ` مزہ نہیں آیا ` ۔ ہیں,اس کے لئے ہم صحافی بھی کم مجرم نہیں ہیں ۔ ہو کر جاتے,ہم پوری طرح تیار ہو کر نہیں جاتے ۔ ہونگی بن سکتے ہیں,کئی ایسی خبریں ہونگی جن پر اچھے سوال بن سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے داغ رہا ہو,کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی دن کی شائع خبر پر کوئی دوسرا نامہ_نگار سوال داغ رہا ہو ۔ ہوگی پڑیگا,ایسی حالت میں اگر شائع خبر کی جانکاری نہیں ہوگی تو سوال و جواب پلّے کہاں سے پڑیگا ۔ بگھارنے جھاڑنے ہے,پریس کانفرنس میں اپنا علم بگھارنے یا تقریر جھاڑنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے ۔ پوچھ کر سننے ڈالنی چاہیئے,کم سے کم مناسب الفاظ میں مناسب سوال پوچھ کر صبر کے ساتھ جواب سننے کی عادت ڈالنی چاہیئے ۔ لے جاتے ہیں کرنا چاہیئے کرنا چاہیئے بتانے ہے,ہم وہاں خبر لے جاتے ہیں دوسروں کو کیا کرنا چاہیئے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ بتانے کا ذمہ ہمارا نہیں ہے ۔ ہے نکال کر کر پہنچانا,ہمارا محض ایک ہدف ہے خبر نکال کر اسے قابل قراءت زبان میں تیار کر قارئین تک پہنچانا ۔ ہونگے بولینگے,حقایق دمدار ہونگے تو وہ خود بولینگے ۔ رکھنا چاہیئے,پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے ۔ دینے بچنا چاہیئے,فالتو کا مشورہ دینے سے بچنا چاہیئے ۔ کر رہا ہے کرنا چاہیئے,صحافی اگر کسی خاص علاقے کے اخبار کی نمائندگی کر رہا ہے تو اسے قومی رہنما کے پریس کانفرنس میں اپنے جواب حاصل کرنا چاہیئے ۔ ہوتا ہے,مقامی اخبار ہر قاری کو قبول ہوتا ہے ۔ ہے,ہماری بستی کی چھوٹی سے چھوٹی بات ہمارے لئے دنیا کے دوسرے کنارے کی بڑی سے بڑی بات سے زیادہ اہم ہے ۔ ٹالنے ہوتا ہے,نامہ_نگار کا کانفرنس میں اکثر سوالوں کو ٹالنے کا رویہ ہوتا ہے ۔ کریگا,اسے کوئی بھی اصلی صحافی بآسانی قبول نہیں کریگا ۔ پا کر لےگا,وہ اپنا تیز دماغ کا معقول جواب پا کر ہی دم لےگا ۔ دے کر خریدنے کرتے ہیں,کچھ تحفہ اور نقد رقم دے کر بھی نامہ_نگار کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کرتا ہے ہے پڑتا ہے,سب اس پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کس اخبار کا نامہ_نگار ہے اس کا کتنا اثر اس انتخابی علاقہ پر پڑتا ہے ۔ پڑھا جاتا ہے ہوگا پڑھا جاتا ہے ہوگا,اگر وہ اخبار اس انتخابی حلقہ میں زیادہ پڑھا جاتا ہے تو دباو زیادہ ہوگا کم پڑھا جاتا ہے تو کم ہوگا ۔ ہے رکھے,اس کی پیشہ_ورانہ بےبسی ہے کہ وہ مختلف طرح کے لوگوں سے مسلسل تعلق رکھے ۔ نبھانے رہتا ہے,ان تعلقات کو نبھانے کا ایک دباو بھی نامہ_نگار پر رہتا ہے ۔ کریں ہے کرنے ہونگی,ذاتیات میں آپ یقین بھلے نہ کریں اگر اتفاق سے آپ کی اور امیدوار کی ذات ایک ہے تو ذات کی بنیاد پر متاثر کرنے کی کوششیں ہونگی ۔ ہے ہو,پھر آج کے زمانے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ غیرجانبدار سے غیرجانبدار نامہ_نگار کا کوئی بھی سیاسی جھکاو نہ ہو ۔ لیا جاتا ہے,کئی مرتبہ اس طرح کے دباووں کا بھی سہارا لیا جاتا ہے ۔ بنائے رکھنے کھونے ہوتا ہے,لیکن اعتماد بنائے رکھنے سے اندرونی روابط کے کھونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ کرتی ہے آئے گی آئے گا بتا ہے,کیسی باتیں کرتی ہے تو ، بھائی بہن کے اور بہن بھائی کے کام نہیں آئے گی تو کون آئے گا ، بتا کیا کام ہے ؟ ہے تھا,یہ ہے میری فرینڈ موہنی ، اسے تجھ سے کچھ کام تھا ۔ چاہیئے تھے,جی ، مجھے آپ کے سائیکولوجی کے نوٹس چاہیئے تھے ۔ پڑھا دیتے,اور اگر آپ خود پڑھا دیتے تو ۔۔۔ وہ کیا ہے کہ سکھانے میں کوئی پرابلم نہیں ہے ، دراصل ٹائم کا پرابلم ہے ۔,وہ کیا ہے کہ سکھانے میں کوئی پرابلم نہیں ہے ، دراصل ٹائم کا پرابلم ہے ۔ دیکھتا,یہ تو مجھے دیکھتا ہی نہیں ۔ لگتا ہے سوچ رہا ہے,لگتا ہے نیکیتا کے بارے میں سوچ رہا ہے ، کریں,اب کیا کریں ؟ سوچ رہی ہو کود جاوء,سوچ کیا رہی ہو موہنی ! کود جاوء ۔ آیا دینے بناتے ہیں کود جاو کود جاو,اگر وہ نہیں آیا تو ، تو کیا پیار میں جان دینے والی تاریخ بناتے ہیں ، کود جاو موہنی ! کود جاو ۔ تیرنے کرنے آتی ہے ڈوبنے کودیں گی ڈوبنے ہو جائے گی,آپ یہاں تیرنے کی پریکٹس کرنے آتی ہے یا ڈوبنے کی ، ایک آدھ بار اور کودیں گی تو ڈوبنے کی پریکٹس ہو جائے گی ۔ کھڑی رہو ہو آئی,سیدھی کھڑی رہو تم ، صرف دو فٹ پانی میں ہو تم ، کب آئی تم ؟ آئی,ابھی - ابھی آئی ۔ سکھاتا ہوں,میں یہاں تیراکی سکھاتا ہوں ۔ ڈوبا چکے ہو,کتنوں کو ڈوبا چکے ہو تم ؟ ,یہی کوئی تیس چالیس کو ۔ آئی,تم یہاں کیسے آئی ؟ کی تھی چلا سکھاتے ہو سوچا کر دوں,بہت دنوں سے تیراکی نہیں کی تھی ، پتہ چلا تم یہاں تیراکی سکھاتے ہو ، سوچا پھر سے تیراکی شروع کر دوں ۔ ,کیوں نہیں ، کیوں نہیں ۔ سکھا سکتے ہو,تم مجھے ڈائیونگ سکھا سکتے ہو ؟ مل چکے ہیں,ارے ، ڈائیونگ میں تو مجھے تین چار میڈل مل چکے ہیں ۔ ہو گیا,تم لوگوں کا لنچ ہو گیا ؟ ہو رہا ہے,بس بھیّا کا انتظار ہو رہا ہے ۔ بیٹھ جاؤں,میں بھی بیٹھ جاؤں ؟ بیٹھو بیٹھو گی اترے گا,او بیٹھو نا ، تم نہیں بیٹھو گی تو ہمارے گلے سے کھانا کیسے اترے گا ۔ سوچا,میں نے سوچا یہاں منّا ۔۔۔ آئے گا بیٹھ کر کھلانا ہو جائے گی,جب منّا یہاں آئے گا تو سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کھانا کھلانا تو دونوں کو تسلی ہو جائے گی ۔ ہوتا ہیں آتی,مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ یہاں پر تم جیسی بیہودہ لڑکیاں ہیں ، تو میں یہاں کبھی نہیں آتی ۔ جا رہی ہوں,منا ! میں جا رہی ہوں ۔ چھوڑ کر,کالج چھوڑ کر ؟ چھوڑ کر,نہیں ، یہ شہر چھوڑ کر ۔ چھوڑ دوگی,ایک پاگل لڑکی کی بکواس پر تم شہر چھوڑ دوگی ۔ ہونے دکھانے رہی ہوں,اتنا ذلیل ہونے کے بعد میں کسی کو اپنا منھ دکھانے کے لایق نہیں رہی ہوں نا ۔ سمجھاؤں لینے ہے,نیکیتا ! میں تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ یہ سب اتنا سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سوچتے ہو ہے چلتا ہوں,یہ سب تم جتنا سوچتے ہو ، اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے ، چلتا ہوں ۔ ملو گی,نیکیتا ! پھر کب ملو گی ۔ ,کبھی نہیں ۔ ,اتفاق سے کبھی نہیں ؟ ,اتفاق سے بھی نہِیں ۔ چلی گئی,کیا نیکیتا چلی گئی ؟ مانگنا چاہتی تھی جانے کہہ دیا,میں تو اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی ، کل نہ جانے میں اسے کیا کیا کہہ دیا ۔ ہو گیا,یہ مجھ سے کیا ہو گیا منا ؟ جانتی تھی کہہ رہی ہوں سمجھتی کرنے لگی ہوں,میں خود جانتی تھی کہ میں کہہ رہی ہوں لیکن میں سمجھتی کہ میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں ۔ ,مجھ سے ؟ ہاں منّا ! کرتی ہوں پانے کر سکتی ہوں,میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمھیں پانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔ ہو رہا کر سکتی ہے NULL کر سکتا ہے,مجھے یقین نہیں ہو رہا موہنی کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنا پیار کر سکتی ہے اور وہ بھی تمھارے جیسی لڑکی جس کے لئے کالج کا کوئی بھی لڑکا قتل تک کر سکتا ہے ۔ دو ہے,تم میرے لئے مسکرا دو وہی کافی ہے ۔ ہو رہا ہے بھٹک رہا ہوں ہوگی,موہنی ! مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ پیار کی جس انجانی خوشبو میں ، میں بھٹک رہا ہوں وہ میرے اتنے قریب ہوگی ۔ اپناؤگے,تو منّا ! تم مجھے اپناؤگے ؟ ,ہاں موہنی ۔ کہنا چاہ رہا تھا بنا رہا ہے,ہیلو ، ہیلو موہنی جی ! میں آپ سے یہ کہنا چاہ رہا تھا منّا آپ کو بیوقوف بنا رہا ہے ۔ جیتنے کیا جا رہا ہے کھیلا جا رہا ہے,محض سو روپئے کی ایک شرط جیتنے کے لئے آپ کا استعمال کیا جا رہا ہے ، آپ کے جذباتوں سے کھیلا جا رہا ہے ۔ ہے,یہ کیا مذاق ہے ؟ ہو جا کر دیکھ لیجئے گا,اگر اپنے خیرخواہ پر بھروسہ نہیں ہو تو آج شام گولڈن گیٹ جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے گا ۔ کر دینی چاہیئے,موہنی ! اب ہمیں یہ روز روز کی ملاقاتیں کم کر دینی چاہیئے ۔ ,کیوں ؟ آ رہا ہے,ارے ، امتحان قریب آ رہا ہے ۔ بننا چاہتے ہو,تم نیوی کا آفیسر بننا چاہتے ہو ؟ تھا,ہاں ، میرے والد کا یہ ہی خواب تھا ۔ خریدے,سبھی اخبارات نے اس کے شیئر خریدے ۔ تھے,اخبارات ہی اس کی خدمت کے گاہک بھی تھے ۔ رکھا گیا,اس طرح اسے ذاتی اجارہ_داری اور غیرملکی اثر سے آزاد رکھا گیا ۔ دیا گیا,یو_پی_آئی کو بڑھاوا دیا گیا ۔ NULL تھی,لیکن یو_پی_آئی کا خرچ زیادہ اور آمدنی کم تھی ۔ کرنے کی گئی,آزادی کے بعد ملک میں ہندوستانی زبانوں کی پہلی خبر خدمات شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ہو گیا,دسمبر ۱۹۴۸ میں ہندوستان سماچار کی تشکیل کے ساتھ یہ مقصد پورا ہو گیا ۔ کیا گیا تھا,اس کا قیام ایک پرائیویٹ لیمٹیڈ کمپنی کے روپ میں کیا گیا تھا ۔ دے دیا گیا,۱۹۵۷ میں اسے ایک کوپریٹیو کمیٹی کا روپ دے دیا گیا ۔ دیتی تھی,یہ ایجنسی ہندی کے علاوہ نو ہندوستانی زبانوں میں خبر دیتی تھی ۔ کی گئی,یو_پی_آئی کے اختتام کے بعد رام ناتھ گوینکا کی کوششوں سے ۱۹۵۹ میں انڈین نیوز سروس ، ایک نئی خبر خدمت شروع کی گئی ۔ کرنا کیا سمیٹ لیا,اس نے ۱۹۶۱ میں کام کرنا شروع کیا لیکن کچھ ہی ماہ بعد اس نے اپنا کام سمیٹ لیا ۔ کرنے کی گئی,۱۹۵۹ میں ہی ایک اور خبر ایجنسی شروع کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لی,اس کام میں مغربی_بنگال کے معاصر وزیراعلیٰ ڈاکٹر ودھان چند رائے نے بھی گہری دلچسپی لی ۔ کیا گیا,اکتوبر ۱۹۶۶ میں ایک اور لسانی خبر ایجنسی ، سماچار بھارتی کا قیام پبلک لمیٹیڈ کمپنی کے روپ میں کیا گیا ۔ خریدے,سات ریاستی سرکاروں نے بھی اس کے شیئر خریدے ۔ کرتی تھی,سماچار بھارتی ۱۴ دفاتر اور ۱۷ ٹیلی_پرنٹر مراکز کے ذریعہ روزانہ تقریباً ۳۰ ہزار الفاظ کی خبریں جاری کرتی تھی ۔ کرنے ملا کر کرائی,ایمرجنسی کے دوران خبر کی نشر و اشاعت پر زیادہ کنٹرول لاگو کرنے کے لئے حکومت نے ملک کی دو اہم انگریزی خبر ایجنسیوں پی_ٹی_آئی اور یو_این_آئی اور ہندی کے ہندوستان سماچار اور سماچار بھارتی کو ملا کر ایک نئی سماچار ایجنسی ` سماچار ` کی تشکیل کرائی ۔ ہو گیا,اس طرح سبھی بین_الاقوامی اور اندرونی خبر ایجنسیوں پر ایک ہی خبر ایجنسی کا کنٹرول ہو گیا ۔ آئی کر کے کر دیا,ایمرجنسی کے بعد جب ۱۹۷۷ میں عوامی سرکار اقتدار میں آئی تو اس نے ` سماچار ` کو ختم کر کے پہلی حالت کو بحال کر دیا ۔ کی,اس درمیان یو_این_آئی نے مئی ۱۹۸۲ میں ہندی خدمات یونیوارتا شروع کی ۔ لینے لگے,جلد ہی ۲۰۰ اخبارات اس کی خدمت لینے لگے ۔ رہا ہے,شروع سے ہی یونیوارتا کا مقصد رہا ہے ، سچی خبریں ، جلد خبریں اور آپ کی زبان میں خبریں ۔ دیتی ہیں,وارتا اپنی خدمات میں علاقائی ، قومی ، بین_الاقوامی ، معاشی ، کھیل کود سبھی طرح کی خبریں دیتی ہیں ۔ ہے,یونیوارتا اس وقت ہندی کی پیش_رو خبر ایجنسی ہے ۔ کی,یونیوارتا کے جنم کے کچھ سال بعد پی_ٹی_آئی نے بھی ۱۹۸۶ میں اپنی ہندی خدمات ` بھاشا ` نام سے شروع کی ۔ تھے,` بھاشا ` کے پہلے مدیر وید پرتاپ ویدک تھے ۔ رہے ہیں,دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان گہرے رشتے رہے ہیں ۔ رہے ہیں,سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کے اپنے اخبار بھی رہے ہیں ۔ بن گئے تھے,برطانیہ کے ` ہاوس آف کامنس ` میں قریب ڈیڑھ سو سال پہلے چھ اخباروں کے مالک ممبر بن گئے تھے ۔ ہو گئی,پھر یہ تعداد دوگنی ہو گئی ۔ چن کر بھیجا,عوام نے بھی ۳۰ - ۴۰ صحافیوں کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا ۔ رہ چکے ہیں,۱۹۵۹ کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کے ہر انتخاب میں ۱۰۰ سے زیادہ امیدوار صحافی رہ چکے ہیں ۔ بن پائی,ہندوستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے درمیان رشتوں کی کوئی قواعد آج تک نہیں بن پائی ۔ جگانے نکالے,حصولِ آزادی سے قبل اور بعد کے ابتدائی برسوں میں کئی سیاستدانوں نے آزادی کی جوت جگانے کے لئے اخبار نکالے ۔ بڑھنے لگی بنتے بگڑتے رہے,اخباروں کی پیشہ_واریت بڑھنے لگی اور اسی نظریے سے رشتے بنتے و بگڑتے رہے ۔ پا گئے بن گئے,کبھی سیاسی مدیر کا عہدہ پا گئے تو کبھی اچھے صحافی سیاستدان بن گئے ۔ بن کر رہ گئے,کچھ لوگ اس چکر میں مالکان اور وزراء کے درمیان محض کڑی بن کر رہ گئے ۔ اٹھایا بدلنے نکال پھینکنے کی,چالاک اخبار مالکان نے ایسے صحافیوں کا فائدہ اٹھایا لیکن سیاسی نقشہ بدلنے پر انھیں مکھی کی طرح نکال پھینکنے میں دیری نہیں کی ۔ آنے مانا,کانگریس کے بعد اقتدار میں آنے والی اہم پارٹی بھارتی جنتا پارٹی کے رہنماوں نے بھی عہدبند صحافت کو اہم مانا ۔ دی گئی,قومیت کے نام پر اپنے پسندیدہ صحافیوں اور اخباروں کو سب سے زیادہ اجرت دی گئی ۔ ہوتی رہی ہے کرنے ہو رکھا جائے,اس بات کی کوشش ہوتی رہی ہے کہ اقتدار کی تیکھی نکتہ_چینی کرنے والوں کو مخالف سیاستداں کی طرح جہاں تک ممکن ہو دور رکھا جائے ۔ رہی ہے کرنے لگتے ہیں,سیاستدانوں میں سب سے بڑی بیماری یہ رہی ہے کہ وہ اپنی ہر نکتہ_چینی کے پیچھے سازش کی بو محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ کر دیا جاتا تھا کرنے کیا جانے لگا,کانگریس راج میں جیسے ہر چھوٹے بڑے حادثے کے لئے سی_آئی_اے کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا تھا اسی طرح غیرکانگریسی راج میں سیکولرزم کے آدرشوں کی بات کرنے والوں کو مجرم کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔ دینے لگتے ہیں,کچھ رہنما اپنے غلط کاموں کی نکتہ_چینی کو تب کے سرمایہ_دار پریس کی سازش کا نام دینے لگتے ہیں ۔ کر سکتی کی,کوئی بھی سیاسی جماعت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے تقسیمی عناصر کو بھنانے کی کوشش نہیں کی ۔ دیا گیا,صحافت میں بھی اس طرح کے تقسیمی عناصر کو بڑھاوا دیا گیا ۔ جڑ گئی,ایک طرح سے صحافت فوری سیاست سے جڑ گئی ۔ آئیں گھس گئیں,لہٰذا فوری سیاست میں جو تقسیمی قوتیں سطح پر آئیں وہ صحافت میں بھی اندر تک گھس گئیں ۔ کرنا کر رہے ہیں پا لے گی ہے,اسلئے صحافت سے یہ توقع کرنا کہ جو تقسیمی عناصر سیاست میں کام کر رہے ہیں ان پر قابو پا لے گی یہ ممکن نہیں ہے ۔ ہے,کچھ اتا پتا معلوم ہے تیرے کو ؟ NULL دکھا چل رہا ہے پہچاننا ہے,کچھ نہیں ، اور اندھیرے میں ان کا تھوبڑا تک نہیں دکھا اور آجکل گلی میں نوراتری کا ڈانڈیا چل رہا ہے ، اسے بھیڑ میں پہچاننا بھی مشکل ہے ۔ ہے,تم میں سے مکٹ بہاری کون ہے ؟ کروا لے آنا,مکٹ بہاری ! چپ _ چاپ یہاں سے اپنا راشنکارڈ ٹرانسفر کروا لے اور صبح کے بعد یہاں نظر مت آنا ۔ آیا ہے آ جاؤ آ پڑی ہے,تار آیا ہے ، منا بھیّا جلدی گھر آ جاؤ ، بہت بڑی مصیبت آ پڑی ہے ۔ لٹ گئی چلا تھے,ساری دوکانیں لٹ گئی اور آج تک ہماری پولس فورس کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ لوگ کون تھے ؟ ہے تھی ہے لے کر گیا ہے چل سکا,صرف اتنا پتہ ہے کہ لوٹیا نام کے خطرناک مجرم کی گینگ تھی ، جس کی تلاش پولس کو پہلے سے ہے ، مگر وہ موہنی کو کہاں لے کر گیا ہے اس کا پتہ تک نہیں چل سکا ۔ ہوئی تھیں چلا,وہاں سے جو موٹرسائکلیں برآمد ہوئی تھیں ان کے مالکوں کا کچھ پتہ چلا ؟ کی ہوئی تھیں,سر ! وہ سب چوری کی ہوئی موٹر سائکلیں تھیں ۔ ملا ہے ہوا ہے,سر وائرلس پر ایک پیغام ملا ہے کہ ایک شہربدر اپنے علاقے میں داخل ہوا ہے ۔ ہے,کون ہے وہ ؟ ہے,منا نام ہے اس کا ۔ ہوا تھا,آج سے سال پہلے اس علاقے سے اسے شہربدر کا حکم ہوا تھا ۔ رہی,یہ رہی اس کی فائل ۔ ہے ہو گیا,یہ تو مہیش دیشمکھ ہے ، منا کیسے ہو گیا ؟ جانا جاتا ہے کاٹ چکا ہے,سر ! وہ اس علاقے میں منا کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس سے پہلے خون کے جرم میں ایک سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔ کہتی ہے ہے کہتی ہے تھا مر مٹنے تھا,فائل کہتی ہے کہ یہ خطرناک مجرم ہے ، مگر میری یادداشت کہتی ہے کہ یہ معصوم ، جذباتی مگر جوشیلا نوجوان تھا جو اپنے ملک کے لئے مر مٹنے کو تیار تھا ۔ جانتے ہیں,آپ اسے جانتے ہیں سر ؟ جانتا تھا تھی,جانتا تھا دو سال پہلے میری پوسٹنگ ناسک میں تھی ۔ تھا کرتے تھے,میرے تھانے کے سامنے سنسان گلی میں ایک بینک تھا ، جس میں اس کے ماں _ باپ دونوں نوکری کرتے تھے ۔ ہے ملا تھا,مجھے وہ دن ابھی تک یاد ہے جس دن میں مہیش سے پہلی بار ملا تھا ۔ کہا تھا جیت کر دکھاؤں گا دیکھئے,بابو جی ! بابو جی ! میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ میں بیسٹ نیوی کیڈٹ کا کپ جیت کر دکھاؤں گا ، دیکھئے ۔ ,بیسٹ نیوی کیڈٹ کا کپ ؟ ہیو ڈن ہیو ڈن,ہاں ماں ! بیسٹ نیوی کیڈٹ کپ ، آئی ہیو ڈن اٹ ڈیڈ ، آئی ہیو ڈن اٹ ۔ کھلانی پڑے گی کر دی ہے,دیشمکھ صاحب ! اب تو مٹھائی کھلانی پڑے گی ، آپ کی تمنا آپ کے بیٹے نے پوری کر دی ہے ۔ ہوئی ہونے دیجئے,ہاں ، میری تمنا تو پوری ہوئی ، اب مہیش کا خواب بھی تو پورا ہونے دیجئے ۔ بننا چاہتے ہو,کیا بننا چاہتے ہو مہیش ؟ ہونا چاہتا ہوں بننا چاہتا ہوں,میں نودل میں شامل ہونا چاہتا ہوں سر ، ایڈمرل بننا چاہتا ہوں ۔ ,اچھا ، دیٹس ویری گڈ ۔ جانے گھس گیا ہے مر مٹنے کرتا رہتا ہے,بچپن سے ہی نہ جانے اس کے دماغ میں کیا گھس گیا ہے ، دیش کے لئے مر مٹنے کی باتیں کرتا رہتا ہے ۔ رہا ہوگا ہو گیا,ضرور پچھلے جنم میں حب_الوطن رہا ہوگا ، جو ملک کی آزادی کے لئے شہید ہو گیا ۔ چلتا ہوں ملینگے,اچھا ماں میں چلتا ہوں ، شام کو گھر پر ملینگے ، اچھا ۔ دیکھو کھا رہا ہوں کرنا ہے,دیکھو ، میں بیس سال سے اس بینک کا نمک کھا رہا ہوں اور ان کے پیسوں کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے ۔ دینی پڑی NULL,فرض کے ليے مجھے اگر جان بھی دینی پڑی تو مجھے اس کی فکر نہیں ۔ جا رہی ہے ہو سکتا ہے,وہ عورت بینک کے اندر جا رہی ہے سر ! ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے سر ۔ کرو چلے جاوء ملے بھیج دینا,تم ایسا کرو یہاں سے چلے جاوء ، راستے میں اگر پولس ملے تو میرے پاس بھیج دینا ۔ پھنسے ہوئے ہیں چلا جاؤں,سر ! میری ماں اور بابو جی اندر پھنسے ہوئے ہیں اور میں یہاں سے چلا جاؤں ۔ دیکھو ہیں چل سکتی ہے ہو سکتا ہے سمجھے,دیکھو ان لوگوں کے پاس بندوقیں ہیں ، کبھی بھی گولی چل سکتی ہے اور تمھاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ، سمجھے ۔ لڑنے دینے ہے NULL,کیا برائیوں اور گناہوں کے خلاف لڑنے اور جان دینے کا حق صرف آپ وردی والوں کو ہے ، ہم لوگوں کو نہیں ؟ ,کیوں سر ؟ لکھ دی تھی پہنی تھی,ویسے میں نے اپنی جان ملک کے نام اسی دن لکھ دی تھی سر جس دن میں نے یہ وردی پہنی تھی ۔ جانے روکنا ہے,سر ! اس عورت اور بچی کو بینک کے اندر جانے سے روکنا بہت ضروری ہے سر ۔ دیکھ کر چلا سکتے ہیں جا کر لے آتا ہوں,آپ کی وردی دیکھ کر ڈاکو گولی چلا سکتے ہیں ، میں جا کر عورت کو واپس لے آتا ہوں سر ۔ گو دیجئے,پلیز گو می آرڈر سر ! آپ مجھے حکم دیجئے ، پلیز سر ۔ بدل گیا تھا کرتے دیکھا تھا,مہیش کی سب سے خوشی کا دن منٹوں میں سب سے دکھی دنوں میں بدل گیا تھا ، زندگی کو اس سے بڑا مذاق کرتے میں نے نہیں دیکھا تھا ۔ لے کر چلا گیا تھا ہونے لگا سہنے بڑھ گئ ہے,کچھ دنوں میں مہیش اپنی بہن کو لے کر ممبئ چلا گیا تھا ، مگر اس دن کے بعد محسوس ہونے لگا کہ میرے درد کو سہنے کی طاقت بڑھ گئ ہے ۔ چھان مارو جانے کر دو پکڑا جانا ہے,خیر ، شہر کا کونا کونا چھان مارو اور باہر جانے والے راستے بند کر دو ، اس آدمی کا پکڑا جانا میرے لیے بہت ضروری ہے ۔ جاننا چاہتا ہوں بن گیا,کیونکہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ مہیش سے منا کیسے بن گیا ؟ ہونے ہیں لگا ہوا ہے,جیوتی ! ابھی ایک سال پورے ہونے میں چار دن باقی ہیں ، ابھی تک شہربدر کا سکہ میرے ماتھے پر لگا ہوا ہے ۔ پڑی ہوئی ہے جانتی ہو کاٹ لیتا آ سکتا,پولس میرے پیچھے کتے کے موافق پڑی ہوئی ہے اور تم جانتی ہو جب تک میں سزا کاٹ نہیں لیتا ، میں بمبئ واپس نہیں آ سکتا ۔ بتاؤ بلایا,بتاؤ کس کے لئے بلایا مجھے ؟ لکھتا تھا,یہ عوامی اہمیت کے سوالات پر بہت موثر ڈھنگ سے لکھتا تھا ۔ بلانے کیا تھا,اسی ادارے نے پونا میں کانگریس بلانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ لکھتے تھے,مہاراشٹر کے عوامی زندگی کے ایک قسم سے عادی مدیر جناب مہادیو گوند راناڈے بھی اس میں اور ` اندوپرکاش ` میں لکھتے تھے ۔ کرنے ہوئی پھیلا ہو گئے لکھا تھا ہے کچلنا چاہتی ہے,کولہاپور کے دیوان کے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر جناب تلک اور جناب آگرکر کو سزا ہوئی اور بعد میں جب ۱۸۹۷ میں پونا میں پلیگ پھیلا اور کمشنر رینڈ کے مظالم ناقابل برداشت ہو گئے تو لوک مانیہ تلک نے ۴ مئی ، ۱۸۹۷ میں ایک مضمون لکھا تھا - ` بیماری تو بہانا ہے ، حقیقت میں سرکار لوگوں کی روح کو کچلنا چاہتی ہے ۔ ہیں کر رہے ہیں کر رہے ہیں کرنا,مسٹر رینڈ متشدد ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ سرکار کے حکم سے ہی کر رہے ہیں اسلئے حکومت کے پاس گذارش کرنا بیکار ہے ۔ کر دیا تھا,اس طرح کے مضامین کے بعد چاپیکر بھائیوں نے ۲۲ جون کو جناب رینڈ کا قتل کر دیا تھا ۔ دیکھتے ہیں دیا گیا ہے تھے,اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہندوستانی قومی کانگریس کے پہلے دن آزادی کے کام میں نمائندوں کی فہرست میں اول مقام دیا گیا ہے وہ ہندوستانی اخبارات کے کچھ مدیر تھے ۔ لکھی ہو ہے,یہ بات صرف محترمہ اینی بیسنٹ نے ہی لکھی ہو ، ایسا نہیں ہے ۔ ہونا مانا گیا,لیکن ان مدیران اور اخبارات کا فقط موجود ہونا ہی کافی نہیں مانا گیا ۔ کیا تھا کی گئی تھی کرے,پہلی کانگریس کی پہلی تجویز مدراس کے ' ہندو ' کے مدیر جی سبرمنیم ایّر نے پیش کیا تھا ، جس میں یہ مانگ کی گئی تھی کہ سرکار ہندوستانی انتظامیہ کی جانچ کے لئے ایک کمیشن مقرر کرے ۔ کہا تھا رکھنے تھے کیا ہےں,محترمہ بیسنٹ نے ان کے متعلق کہا تھا کہ وہ مدراس کے لیڈروں میں سب سے بہادر اور دوراندیشی رکھنے والے رہنما تھے اور انھوں نے جس لائق ستائش تقریر کے ذریعہ اول تجاویز پیش کیا وہ بہت کچھ آج بھی اتنی ہی اہم ہےں ۔ کی ہوا,محترم مدن موہن مالویہ جنھوں نے ` دینک ہندوستان ` کی ادارت کی اور ہفتہ_وار اور روزنامہ ` ابھیودے ` اور دلی کے ہندوستان ٹائمس کو قومی روزنامہ کا خاکہ حاصل ہوا ۔ تھے مانگی گئی تھی کہا تھا ہے مرنے دونگا,پنڈت موتی لال نہرو ` لیڈر ` روزنامہ کے ڈائرکٹر کے پہلے صدر تھے اور ` لیڈر ` سے ضمانت مانگی گئی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ جب تک میرے گھر میں ایک بھی اینٹ ہے تب تک میں ` لیڈر ` کو مرنے نہیں دونگا ۔ کیا,انھوں نے ` انڈپنڈنٹ ` روزنامہ کا قیام کیا ۔ نکلے,لالا لاجپت رائے کی ترغیب سے ` پنجابی ` ، ` وندےماترم ` اور ` پیپُل ` نام کے تین روزنامے لاہور سے نکلے ۔ ہے NULL ہوئ,جہاں تک انقلابی تحریک کا تعلق ہے ، ہندوستان کی انقلابی تحریک بندوق اور بم کے ساتھ نہیں ، اخبارات سے شروع ہوئ ۔ ہیں,جن میں کچھ نام نہایت فخریہ ہیں ۔ تھا,خود ` غدر ` اخبار اپنے آپ میں انقلاب کا بڑا سفیر تھا ۔ نکلنے لگا چھپتی تھیں تھے بھیجی جاتی تھیں,یہ ایک برس کے عہد میں ہی ہندی ، اردو ، پنجابی ، گجراتی ، مراٹھی اور انگریزی میں نکلنے لگا اور کل_ملاکر اس کی لاکھوں کاپیاں چھپتی تھیں اور ہندوستان کے باہر جہاں - جہاں ہندوستانی تھے ، ان کو بھیجی جاتی تھیں ۔ ہے,غیرممالک میں اخبارات کے ذریعہ ہندوستانی آزادی کے لئے کوششوں کی تاریخ کافی پرانی ہے ۔ کی ہوتا تھا دیا جاتا تھا,ہندوستانی قومی کانگریس نے اپنی ابتدا سے ہی برطانیہ میں کانگریس کی ایک شاخ قائم کی ، جس کی جانب سے ` انڈیا ` نام کا ایک اخبار شائع ہوتا تھا اور اس کا خرچ کانگریس کی جانب سے دیا جاتا تھا ۔ نبھایا,` یگانتر ` کے بعد ہندستان میں ` وندےماترم ` اخبار نے قومی تحریک میں بڑا رول نبھایا ۔ کیا تھی,اس کا قیام جناب سبودھ چند ملک ، دیش بندھو چترنجنداس اور بپن چندرپال نے ۶ اگست ۱۹۰۶ کو جناب اروند گھوش کی ادارت میں کیا تھی ۔ ہے نکلے رہتی تھی تھا نکالا ہوتی رہی,جہاں تک ہندی اخبارات کا تعلق ہے ، آغاز میں جو اخبار کلکتہ سے نکلے ، انھیں سرکاری امداد کی توقع رہتی تھی لیکن اس نظر سے سب سے اہم رول بھارتیندو ہریش چندر کا تھا ، جنھوں نے ۱۸۶۸ میں ` کویوچن سُدھا ` نامی شاعری کا ایک رسالہ نکالا مگر بعد میں اس میں نثر بھی شامل ہوتی رہی ۔ نکالا تھے,۱۸۸۵ میں کالاکانکر سے راجا رام پال سنگھ نے ` ہندوستان ` اخبار نکالا جس کے پہلے مدیر جناب مدن موہن مالویہ تھے ۔ تھے NULL کر چکے ہیں بڑھایا,وہ جناب بال کرشن بھٹّ کی روایت کے تھے اور انھوں نے نہ صرف ` ہندوستھان ` کے ذریعہ بلکہ بعد میں دیگر اخبارات کے ذریعہ جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں قومی تحریک کو بڑھایا ۔ تھا نکلا,کلکتہ کا ایک مشہور ہندی اخبار ` بھارت مِتر ` تھا ، جو مئی ، ۱۸۷۸ کو پندرہ روزہ اخبار کے بطور نکلا ۔ ہو گیا کیا,بعد میں یہ روزنامہ ہو گیا اور اس اخبار نے قومی تحریک میں بہت بڑا تعاون کیا ۔ نکالا تھا چھپتے تھے,پنڈت سندرلال نے الہ_آباد سے ` کرم یوگی ` ہفتہ_وار نکالا جو شدید نظریے کا اخبار تھا اور جس میں اروند گھوش کے ` کرم یوگی ` اور لوک مانیہ تلک کے ` کیسری ` میں شائع مضامین بھی چھپتے تھے ۔ ہو گئی آ کر کرا دیا,بہت جلد ہی اس کی اشاعتی تعداد دس ہزار ہو گئی اور اس سے تنگ آ کر حکومتِ ہند نے ۱۹۰۸ اور ۱۹۱۰ کے آمرانہ قانون کے تحت اسے بند کرا دیا ۔ نکالا ہوئی بھیجے گئے ہوئی,جناب سندرلال جی کی ترغیب اور تعاون سے جناب شیونارائن بھٹناگر نے اردو کا ` سوراج ` اخبار نکالا جس کے نو مدیر کو ملک غدّاری کے تحت سزا ہوئی اور ایک کے بعد ایک جیل بھیجے گئے کئی کو کالے پانی کی سزا ہوئی ۔ کی رہے,لاہور میں جناب خوشحال چند کھُرسند نے ` ملاپ ` اور جناب کرشن نے اردو اخبارات کی اشاعت کی اور یہ اخبار بھی قومی تحریک کے مبلغ رہے ۔ رہی ہے,پنجاب میں اخبارات کی روایت کافی پرانی رہی ہے ۔ کی,۱۸۸۱ میں سردار دیال سنگھ مجیٹحیا نے جناب سریندرناتھ بنرجی کے مشورے سے جناب شیتلاکانت چٹرجی کی ادارت میں انگریزی اخبار ` ٹربیون ` کی اشاعت شروع کی ۔ کی کر رہے تھے ہوئے تھے ہو گئے رہے,کچھ دنوں تک جناب بپن چند پال نے بھی اس اخبار میں ادارت کی اور بعد میں ۱۹۱۷ میں جناب کالیناتھ رائے ، جو پہلے ` بنگالی ` اخبار میں کام کر رہے تھے اور جو ۱۹۱۱ میں لالا لاجپت رائے کے ` پنجابی ` اخبار کے مدیر ہوئے تھے اس کے مدیر ہو گئے اور دسمبر ۱۹۴۵ تک اس کے مدیر رہے ۔ تھا کرنے دیا ہو,ہندستان کا کوئی صوبہ ایسا نہیں تھا جس نے قومیت کی تبلیغ کرنے والے اخبارات اور صحافیوں کو جنم نہ دیا ہو ۔ نکلا بنا دیا,بمبئی سے ` بامبے کرانیکل ` تو نکلا ہی ، اس کے ہی ، مدیر جناب بی جی ہارنیمین نے ` بامبے کرانیکل ` کو شدید قومیت کا ایک پرزور اخبار بنا دیا ۔ رہے,بہار کے قومی اخبارات میں جناب سچّدانند سنہا کے ذریعہ قائم ` سرچ لائٹ ` اخبار جناب مرلی منوہر سنہا کی ادارت میں قومی تحریک کے بڑے حامی رہے ۔ رہے,بہار کے ہندی اخبارات میں جناب دیوورت شاستری کے ذریعہ قائم ` نوشکتی ` اور راشٹروانی ` ہندستانی تحریک کے اخبار رہے ۔ دیا,` ہفتہ_وار یوگی ` اور ` ہنکار ` نے بھی عوامی بیداری میں تعاون دیا ۔ ہے ہو گیا تھا کرنے نکالنا سمجھا,تحریک آزادی میں صحافیوں کے تعاون کی تاریخ دراصل تحریک آزادی کی تاریخ ہے کیونکہ یا تو اخبار کا مدیر خود آزادی کا رہنما ہو گیا تھا یا رہنما نے اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کے لئے اخبار نکالنا لازمی سمجھا ۔ کیا,تحریک آزادی کے دور میں ہی ۸ جون ، ۱۸۵۴ کو کلکتہ سے بابو شیام سندر سین نے ہندی کا پہلا روزنامہ اخبار ` سماچار سدھارورشن ` شائع کیا ۔ نکلتی ہے,شمار میں یہ تاریخ ۹ جون نکلتی ہے ۔ تھا کئے جاتے تھے,یہ ایک ذولسانی اخبار تھا جس میں بنگلہ اور ہندی زبان میں مضمون شائع کئے جاتے تھے ۔ چل جاتا ہے دی جاتی تھی,لیکن عنوان سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ہندی کو کافی اہمیت دی جاتی تھی ۔ ہوئی ہو چکی تھی,` سماچار سدھاورشن ` کی اشاعت جب شروع ہوئی تب تک ہندستان میں صحافت ۷۵ برس کے تجربے سے متمول ہو چکی تھی ۔ تھا,کولکاتا اس کا منبع اور اہم مرکز تھا ۔ گنے جا سکنے تھے نکل رہے تھے,اگرچہ روزنامہ اخبارات تو اس وقت انگلیوں پر گنے جا سکنے لائق ہی تھے لیکن تب تک ملک کے مختلف مقامات سے الگ الگ زبانوں میں بیسیوں ہفتہ_وار ` پندرہ روزہ ` ماہانہ اخبارات نکل رہے تھے ۔ کرنے نبھا رہے تھے,سماج کو خواندہ ، مطّلع اور راغب کرنے کا رول نبھا رہے تھے ۔ نکل کر اٹھانے لگے تھے,عیسائی مذہب کی تبلیغ اور اس کے انتقام کے عہد سے باہر نکل کر اخبارات و رسائل اور سائنس کے تئیں بیداری ، سماجی اصلاح ، معاشی ترقی اور سیاسی حقوق کے معاملے اٹھانے لگے تھے ۔ دیا گیا ہے دیا گیا ہے,عمدہ_ترین غیرفیچر فلم کا انعام راجاشبیرخان کی فلم ` شیفرڈ آف پیراڈائز ` کو دیا گیا ہے جبکہ سنیما پر عمدہ_ترین کتاب کا انعام بی ڈی گرگ کی ` سائلنٹ سنیما آف انڈیا اے پکٹوریل جرنی ` کو دیا گیا ہے ۔ بنی چھا گئے ہیں,ممبئی دہشت_گردانہ حملے پر بنی ، مشہور فلمکار رام گوپال ورما کی فلم ` دی اٹیکس آف 26 / 11 ` پر کچھ حساس مناظر کی وجہ سے خطرے کے بادل چھا گئے ہیں ۔ ہوئے ہے,ہندستان پر ہوئے بڑے دہشت_گردانہ حملے کی حقیقی کہانی پر مبنی اس فلم کے کچھ مناظر پر حکومت سمیت حفاظتی اور خفیہ ایجنسیوں کو اعتراض ہے ۔ دیکھ کر کرنے کہا ہے,وزارتِ_داخلہ نے مرکزی سنسربورڈ سے فلم کو دوبارہ دیکھ کر کچھ مناظر کا تبصرہ کرنے کو کہا ہے ۔ جڑے رہے دیکھ کر مانا جا رہا ہے کرنی پڑ سکتی ہے,26 / 11 حملے کے بعد تنازعات سے جڑے رہے ورما کی فلم پر سرکاری مصیبتوں کو دیکھ کر مانا جا رہا ہے کہ انھیں کچھ مناظر سے کانٹ چھانٹ کرنی پڑ سکتی ہے ۔ لکھا ہے,اعلیٰ_منصبی ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے سنسربورڈ کو خط لکھا ہے ۔ کہا گیا ہے ہے,اس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اندرونی حفاظت کی ذمہ_داری وزارت_داخلہ کی ہے ۔ رکھا جائے,لہٰذا اسے ` دی اٹیکس آف 26 / 11 ` کے بارے میں یقین میں رکھا جائے ۔ کرانے کہا ہے,اعتراضات کی فہرست کے ساتھ وزارت نے سنسربورڈ سے کچھ مکالمات اور مناظر میں ترمیم کرانے کو بھی کہا ہے ۔ کیا دکھایا گیا ہے,ذرائع کے مطابق خفیہ محکمے نے سرکار کو آگاہ کیا کہ فلم میں حملے کے دوران ریاستی اور مرکزی سرکاروں کو مایوس اور تذبذب میں دکھایا گیا ہے ۔ ہوئی لینے کرتے اپناتے دکھایا گیا ہے,فلم میں تین دن تک تاج_ہوٹل میں پاکستانی دہشتگردوں کے ساتھ ہوئی خونی جنگ کے دوران سرکار اور حفاظتی ایجنسیوں کو فیصلے لینے میں دیر کرتے اور ڈُہل_مل رویہ اپناتے بھی دکھایا گیا ہے ۔ رہے ہیں,ناناپاٹیکر فلم میں اہم پولس افسر کے رول میں رہے ہیں ۔ کرانے ہیں,فائدوں کے کھیل میں لوگوں کو عام آدمی کی سچی آواز سے واقف کرانے والے بےحد کم ہی لوگ ہیں ۔ گنایا جا سکتا ہے,مشہور طنزنگار اور جانے مانے صحافی انوج کھرے کا نام ایسے ہی کچھ ایک منتخب لوگوں میں گنایا جا سکتا ہے ۔ ہے,` چلّرچنتن ` کے بعد کھرے کا یہ دوسرا طنزیہ مجموعہ ہے ۔ مانتے ہیں کھڑکے ہو کھلے بدلے ہو لکھنے NULL,کھرے خود مانتے ہیں کہ کوئی پتہ نہ کھڑکے ، کسی کے اندر ہلچل نہ ہو ، کوئی گل نہ کھلے ، کوئی نظام نہ بدلے کوئی کھیل نہ ہو تو لکھنے سے بھلا کیا فائدہ ؟ آتا ہے,فائدے کا یہی راز ان کے طنز کی دھار میں نظر آتا ہے ۔ ماننا ہے ہوں ہو جاتی ہے,قلمکار کا ماننا ہے کہ خطرے نہ ہوں تو زندگی بدرنگ ہو جاتی ہے ۔ کئے چلائی ہے,لہٰذا داد یا حقارت کی پرواہ کئے بغیر اس نے قلم چلائی ہے ۔ لینی ہو پگھلنے دیکھنا اٹھانا ہو کھڑے ہو کر بڑھنے کرنا ہوئے ہیں,روٹین کے انقلابیوں کی خبر لینی ہو یا انقلاب کے امکانات کو پگھلنے کے کگار پر دیکھنا ، تند خیالات کا تابوت اٹھانا ہو یا اپنا قد کتابوں پر کھڑے ہو کر بڑھنے والوں کی تعریف کرنا انوج ایکدم کھرے ثابت ہوئے ہیں ۔ کیا ہے سادھا ہے پکڑ پانے رہے ہیں گئی لکھ مارے ہیں,انھوں نے جذبہءمذمت کا جدیدترین شمارہ بھی تلاش کیا ہے اور سمپیتھی مینجمنٹ کو بھی سادھا ہے وہ لَو کا لوچا پکڑ پانے میں کامیاب رہے ہیں تو مائکے گئی بیوی کو ایک بےرنگ خط بھی لکھ مارے ہیں ۔ ہے پکڑ لیتی ہے کہے جا رہے ہیں,ان کی زبان میں مست مولاپن اور چوکنّی شوخی ہے جو پکڑ لیتی ہے کہ کہے جا رہے لفظ کے مضمرات کیا ہیں ۔ آنا بھرا ہو سکتا ہے,تقریباً ۲۰ برس کے وقفے کے بعد کسی قلمکار کے نئے تخلیقی عمل کا آنا حیرانی بھرا ہو سکتا ہے ۔ ہے کیا جا سکتا,لیکن اس وجہ سے راجا خُگشال جیسے قلمکار کے نئے شعری مجموعے ` پہاڑ شیرشک ہے پرتھوی کے ` کو نظرانداز قطعی نہیں کیا جا سکتا ۔ ہے,۱۹۸۳ میں مکالمے کے سلسلے اور ۱۹۹۱ میں شائع ` صدی کے شیش ورش ` کے بعد یہ راجاخُشگال کا تیسرا شعری مجموعہ ہے ۔ لے کر جڑا آتا ہے,ان کی شاعری میں وقت سماج ، تہذیب اور نظام سے لے کر ماحول سے جڑا تفکر نظر آتا ہے ۔ کہنا ہوگا رکھا ہے,اسلئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ راجا خُشگال نے شاعری کے تئیں اپنی بےپروائی اور بےاعتنائی کے درمیان اپنے اندر کے شاعر کو زندہ رکھا ہے ۔ ہونے دیا۔,لمبے عرصے کے باوجود ان کے اندر کے شاعر نے اپنے وقت اور سماج کو شاعری سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ ہیں,راجا خُشگال کی شاعری کے کئی رنگ ہیں ۔ بدلتے کرتے ہیں کہتے ہیں,کبھی وہ ` دنیا کا چہرا ` شاعری میں بدلتے چہروں کو بیاں کرتے ہیں تو کبھی ` بھوٹئے ` نظموں میں ایک تہذیب کی کہانی کہتے ہیں ۔ ہے ہے,` میل کا پتھر ` چھوٹی سی نظم ہے لیکن ایک مطلب بہت بڑا ہے ۔ مانتے ہیں,میل کے پتھروں کو بھی وہ راہبر اور ہمسفر مانتے ہیں ۔ اسی طرح ` اننت میں مون ` ( آنجہانی شمشیرجی کے لئے عزت کے ساتھ ) کی شعری زبان سادی اور آسان ہے لیکن شعری پن بالکل خالی نہیں ۔,اسی طرح ` اننت میں مون ` ( آنجہانی شمشیرجی کے لئے عزت کے ساتھ ) کی شعری زبان سادی اور آسان ہے لیکن شعری پن بالکل خالی نہیں ۔ کیا دے دیا,انھوں نے جو بھی محسوس کیا اسے عزت اور وقار کے ساتھ آسان زبان میں شاعری کا روپ دے دیا ۔ ہے ہے,لفظ اگر اظہار کا ذریعہ ہے تو رقص اظہار کا ایک طرز ہے ۔ جڑ کر بناتا آیا ہے,سُر ، تال اور لے سے جڑ کر رقص صدیوں سے ہمارے جذبات کو زباں بناتا آیا ہے ۔ بدلے NULL,موسم بدلے یا ماحول کیا ہے,ہر موقعے کے مطابق ایک علاحدہ رقص نے ہمارے ملک کی روایات کو متمول کیا ہے ۔ آتا ہے پہچانا جانے لگتا ہے,ان روایات کا تعاون تب اور بھی صاف نظر آتا ہے جب رقص کے نام سے ہی ایک ریاست کو پہچانا جانے لگتا ہے ۔ ہے,حالانکہ ہر علم کے ساتھ فنکار کی اپنی علمیت کی بھی بہت اہمیت ہے ۔ دیتا ہے ہوتی ہے,جب کوئی بھی اچھا فنکار پیشکش دیتا ہے تو اس سے روایت مضبوط ہوتی ہے ۔ ہے ہوگا ہوگی,اس میں تلاش کی بھی اپنی اہمیت ہے کیونکہ فنکار کا تخیل جتنا اونچا ہوگا پیشکش اتنی ہی عمدہ ہوگی ۔ لائیں جوڑیں,پھر چاہے رادھاوکرشن کو اسٹیج پر لائیں یا کسی اور عنوان کو اپنے فن سے جوڑیں ۔ رنگ چکے ہیں ہے لینے بڑھ رہی ہے,بیشک نئے زمانے کے لوگ نئے رنگ میں رنگ چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی دلچسپ ہے کہ کلاسکی موسیقی اور رقص جیسے قدیم فن میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ کرنا کہا جائے گا,اس کی سب سے بڑی وجہ فنکاروں کا گہرائی سے کام کرنا کہا جائے گا ۔ جڑے ہو رہتا ہے,تہذیبی سرگرمیوں سے جڑے فنکار کے اندر اپنے فن کے لئے عزت ، وقار اور لگن ہو تو اس کا طرز ہمیشہ مناسب رہتا ہے ۔ ہے,یہی ہماری سماجی تہذیب کی پہچان ہے ۔ ہے,ہندوستان کا کلاسکی رقص پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ ہوتی ہے,ویسے بھی رقص کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے ۔ ہے ڈوبنے ہے,اگر ہمارے ملک میں یہ قدیم روایت ہے تو دنیا بھر میں اس میں ڈوبنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے ۔ آئی ہے ہے ہے,وقت کے ساتھ بھلے ہی اس کے طرز میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن اس میں حرکات وسکنات کا جو مرکب ہے وہ دلچسپ ہے ۔ ہے,قانون کی زبان میں `` گناہ `` بھی جرم ہے ۔ ہے,اسیلئے جرائم حادثات کا سیدھا تعلق شخص و سماج ، ملک و عہد اور مذہب سے ہے ۔ رہنے ہوتا ہے,سماج میں رہنے والا ہر شخص براہراست یا بالاواسطہ طور سے جرائم سے متاثر ہوتا ہے ۔ بنتے بن جاتے ہیں,ان کے لئے نیک حوادث خبر نہیں بنتے بلکہ حوادث خبر بن جاتے ہیں ۔ کرتے کرنا پڑتا ہے,خبر کا تعین کرتے وقت جرائم خبر کا تعین بہت ہی احتیاط سے کرنا پڑتا ہے ۔ رکھتا ہے,اسیلئے ` کھوجی صحافت ` میں جرائم نامہ_نگار خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ مانا جاتا ہے,مغربی ممالک میں تو کرائم رپورٹر بہت ہی سینئر نامہ_نگار مانا جاتا ہے ۔ دی جاتی ہے ہو,اور جرائم کی رپورٹنگ اس نامہ_نگار کو دی جاتی ہے جسے صحافت کے ہر شعبہ اور پہلو کا پورا پورا علم ہو ۔ کرنے مانا جاتا ہے,ایک روزنامہ اخبار میں جرائم اخباروں کو جمع کرنے والا نامہ_نگار نہایت اہم ممبر مانا جاتا ہے ۔ ہوتے ہیں رکھتی ہے,جہاں سبھی اخبار کے لئے اہم ہوتے ہیں وہیں ، جرائم خبر اس میں الگ مقام رکھتی ہے ۔ کرنے کر دیا گیا,لیکن بعد میں بڑے گروپوں کے اخبارات میں سماجی یا شہری نامہ_نگاروں سے جرائم خبر جمع کرنے والے نامہ_نگار کو الگ کر دیا گیا ۔ پکڑا ہوا ہے بھر گئی ہے,جرائم سے متعلق خبروں کے مجموعه نے اب جو پہلو پکڑا ہوا ہے اس سے نہایت خاص اور اہم کام میں کچھ سیاہی بھر گئی ہے ۔ دیتا,اخبار انتظامیہ بھی اسے خاص عزت نہیں دیتا ۔ ہونا چاہیئے,ایک اچھے نامہ_نگار کی آنکھ اور کان کی قوت کے ساتھ حسّی قوت بھی تیز ہونا چاہیئے ۔ ہونے لگا سکتا ہے بیٹھا سکتا ہے,چھٹی حس کی طاقت پر جرم کے واقعہ کے ساتھ وہ مستقبل میں ہونے والے حادثے کا اندازہ لگا سکتا ہے اور پچھلے حادثات کا موجودہ حوادث کے ساتھ تال_میل بیٹھا سکتا ہے ۔ ہونا چاہیئے کرنا چاہتا ہو رکھتی ہو,ساتھ ہی اس کی زبان اور اسلوب اتنا واضح ہونا چاہیئے کہ جو کچھ وہ ظاہر کرنا چاہتا ہو اس کی رپورٹ بالکل وہی معنیٰ رکھتی ہو ۔ ہونا چاہیئے,نامہ_نگار کو اپنے حدود کا علم ہونا چاہیئے ۔ کر رہا ہے ہے,وہ فقط جرائم واقعات کی رپورٹنگ کر رہا ہے اور اس کی حد میں وہ مدیر نہیں ہے ۔ لکھتے ہوئے کرنے بچنا چاہیئے,اسے خبر لکھتے ہوئے تبصرہ کرنے سے بچنا چاہیئے ۔ کرنا ہوتا ہے,تبصرہ کرنا مدیر ، نائب مدیر یا مضمون_نگار کے بطور مناسب ہوتا ہے ۔ لکھنی ہو نچوڑ کر ڈال دینا چاہیئے,جس حادثہ کی خبر لکھنی ہو اس کو نچوڑ کر پہلے یا دوسرے پیراگراف میں ڈال دینا چاہیئے ۔ ہوگا,یہی جرائم خبر کا ` انٹرو ` ہوگا ۔ ہونے بچانے بڑھانی چاہیئے,خبر کو بوجھل ہونے سے بچانے کے لئے غیرضروری طور سے اپنی خبر نہیں بڑھانی چاہیئے ۔ ہونا چاہیئے جانے رہنا چاہیئے,نامہ_نگار کو جسمانی طور سے چست ہونا چاہیئے اور جائے حادثہ پر جانے کے لئے تیار رہنا چاہیئے ۔ ہو کر لینی چاہیئے,لیکن اس سے قبل اگر ممکن ہو تو اپنے ذرائع سے جرم اور جائے وقوعہ کی لازمی جانکاری یکجا کر لینی چاہیئے ۔ کیا جانا چاہیئے دینے ہو,ایسا فقط اسی حالت میں کیا جانا چاہیئے جب دوبارہ رپورٹ دینے کی سہولت اور وقت ہو ۔ کیا جا سکتا ہے,اس رپورٹنگ کو گزشتہ شماروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ لینے کرتا ہے ہو سکتا,جرائم سے متعلق خبر لینے والا جو نامہ_نگار فقط پولس کی اطلاع پر منحصر کرتا ہے کامیاب نامہ_نگار نہیں ہو سکتا ۔ کرنے کرنا چاہیئے کر سکے,اسے اطلاعات یکجا کرنے کے لئے اپنے ذرائع یکجا کرنا چاہیئے جس سے وہ زیادہ سے زیادہ لیکن حقیقی معلومات حاصل کر سکے ۔ کرنے ہونا چاہیئے,اسلئے نامہ_نگار کے ذرائع کو بھی اس سے رابطہ کرنے کی معلومات ہونا چاہیئے ۔ ہوتی ہے,متعدد واقعات کی اطلاع جرائم نامہ_نگار کو اس کے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے ۔ لیتے ہوئے کرنا چاہیئے,جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے نامہ_نگار کو وہاں کی اشیا سے چھیڑ - چھاڑ نہیں کرنا چاہیئے ۔ مٹ جانے رہتا ہے,اس سے حقائق مٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے ۔ آ سکتی ہے,اس کی ذمہ_داری نامہ_نگار پر آ سکتی ہے ۔ رہنے کر جانے کرنی چاہیئے,اسے چشم_دید گواہوں اور حادثہ کے آس پاس رہنے والے لوگوں سے سبھی اپنے طور سے بات چیت کر حادثات کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ مل جاتے ہیں,اس سے عموماً جرائم نامہ_نگار کو اضافی حقائق مل جاتے ہیں ۔ ہونا چاہیئے,نامہ_نگار کی رپورٹ میں سبھی قسم کے حقائق شامل ہونا چاہیئے ۔ ہونا چاہیئے,اس میں انسانی اور مادی حقائق شامل ہونا چاہیئے ۔ چاہتا ہے ہوتے رہنا چاہیئے,اخبار کا قاری اس حادثہ کے بعد کی بھی جانکاری چاہتا ہے اسلئے اس کا فالواپ ہوتے رہنا چاہیئے ۔ بنانے توڑنے مروڑنے بچنا چاہیئے,اپنی رپورٹ کو سنسی_خیز بنانے کے لئے جرائم نامہ_نگار کو حادثہ کے حقائق کو توڑنے مروڑنے سے بچنا چاہیئے ۔ کرنے کر لینی چاہیئے,اسے حقائق کے یکجا کرنے یا اطلاعات کی دیگر ذرائع سے بھی جانچ کر لینی چاہیئے ۔ لینا چاہیئے مانتا,یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ نامہ_نگار ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ ( ایف آئی آر ) کو کبھی مکمل رپورٹ نہیں مانتا ۔ ہے,ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ فقط حادثہ کی جانکاری اور شکایت ہی ہے ۔ پایا گیا ہو,اتنا ہی نہیں اگر پولس جانچ میں کسی کو ملزم پایا گیا تب بھی لازمی نہیں کہ متعلقہ شخص گناہ_گار ہو ۔ ہونے ہونے کر سکتی ہے,ملزم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ فقط عدالت ہی کر سکتی ہے ۔ لکھتے ہوئے رکھنا چاہیئے,کسی کے کردار کے متعلق لکھتے ہوئے دھیان رکھنا چاہیئے کہ کردارکشی کسی قتل سے کم نہیں ۔ ہونی چاہیئے,پرومو میں اشتھار کی زبان ہونی چاہیئے ۔ بتاوں دیکھے سنے ہونگے,مثلاً کچھ اشتھار کے متعلق میں بتاوں تو آپ نے کئی تشہیر اشتھاری روپ میں دیکھے یا سنے ہونگے ۔ لینا,مثلاً ، فینا کے پرچار کا ' فینا ہی لینا ، یا پھر کوکاکولا کی تشہیر میں ، ' ٹھنڈا مطلب کوکاکولا ' ۔ ہے,میرا ٹاپک ہے پوجا ۔ کرتے ہیں,ہم ہر ایک صبح واہے گرو کی پوجا کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کرنے ہو جائینگے کرینگے,پاپا کہتے ہیں کہ پوجا کرنے سے واہے گرو خوش ہو جائینگے اور ہماری حفاظت کرینگے ۔ کہتی ہیں کرنے ہو جائینگی چھوڑ جائینگی,ممی کہتی ہیں کہ پوجا کرنے سے دادی خوش ہو جائینگی اور ہمیں بڑا مکان چھوڑ جائینگی ۔ ہے ہے,پوجابھٹ میری پسندیدہ اداکارہ ہے اور میری بیسٹ فرینڈ کا نام بھی پوجا ہے ۔ ہے کرتی ہے پاتے,ماں وہ ہے جو ہم کو اتنا پیار کرتی ہے کہ کبھی کبھی ہم خود اس پیار کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ہے دلاتی ہے ہیں ہے,ماں وہ ہے جو ہم کو احساس دلاتی ہے کہ ہم کتنے اچھے ہیں ، ہم سے اچھا اور کوئی ہے ہی نہیں ۔ ہے ہے ہے,ماں وہ ہے جس کی خوشی ہماری ہنسی سے ہے ، جس کا دکھ ہمارے دکھ سے ہے ۔ ہے جی سکتے,ماں وہ ہے جس کے بنا ہم جی نہیں سکتے ۔ ہے NULL,ماں سب کچھ ہے ، بس ہمارے پاس نہیں ۔ ہیں ہیں,لیکن ہمارے پاس پاپا ہیں اور وہ بھی کافی اچھے ہیں ۔ ہے ہیں آیا تھا,پتا ہے راہول ! وہ اپنے شرما جی ہیں نا شرما جی ، ان کا فون آیا تھا ۔ بھیجا ہے,وہ ، اپنے دہلی کے پڑوسی ، انھوں نے رشتہ بھیجا ہے ۔ کہہ رہے تھے ہے ہے,ویسے وہ کہہ رہے تھے کہ لڑکی خوبصورت ہے ، سلیقہ_مند ہے ۔ کر دیا,میں نے تو صاف انکار کر دیا ۔ کرتی ہوں,میں ویسے بھی کون سا کام غلط کرتی ہوں ؟ ہے ہوا ہے ہوا,اب لڑکی سلیقہ_مند ہے تو کیا ہوا ، خوبصورت ہے تو کیا ہوا ؟ ہوتی ہے ہوتی ہے,ہر لڑکی آجکل سلیقےمند ہی ہوتی ہے ، خوبصورت ہی ہوتی ہے ۔ کرو گے,تم دوسری شادی نہیں کرو گے ؟ جیتے ہیں مرتے ہیں ہوتی ہے ہوتا ہے ہوتا,ماں ! ہم ایک بار جیتے ہیں ، ایک بار مرتے ہیں ، شادی بھی ایک ہی بار ہوتی ہے اور پیار بھی ایک ہی بار ہوتا ہے ، باربار نہیں ہوتا ۔ سنبھال لو گے,تم تو اپنے آپ کو سنبھال لو گے بیٹے ، لیکن انجلی ؟ لگتا ہے,تمھیں نہیں لگتا اسے ایک ماں کی ضرورت ہے ؟ ہے ہے NULL NULL,وہ ٹھیک ہے ، کیونکہ اس کے پاس وہ ہے جو میرے پاس بھی نہیں ، اس کی ماں کی چٹھیاں NULL ۔ ,میری پیاری انجلی ، ہیپی برتھڈے ۔ ہو گئی ہو ہے ہو,آج تم آٹھ سال کی ہو گئی ہو ، اور مجھے یقین ہے کہ تم بالکل اپنے پاپا جیسی ہو ۔ ہے,وہی آنکھیں ، وہی چہرہ ، ہے نا انجلی ؟ ہوں,نہیں ، میں آپ کے جیسی ہوں ۔ پہن کر سوتے ہیں,کیا تمھارے پاپا ابھی بھی رات کو جوتے پہن کر سوتے ہیں ؟ جائیگی,ان کی یہ عادت کب جائیگی ؟ سنانے جا رہی ہوں,آج میں تمھیں ایک کہانی سنانے جا رہی ہوں ۔ ہوں ہیں NULL,اس کہانی میں میں ہوں ، تمھارے پاپا ہیں اور انجلی NULL ۔ اٹھا جاتا ہے,صبح صبح مجھ سے اٹھا نہیں جاتا ہے ۔ اٹھا جاتا ڈر گئے تھے,اٹھا نہیں جاتا یا تم ڈر گئے تھے ؟ ڈرتا ہے,ہے ! راہول کھنّہ کسی سے نہیں ڈرتا ہے ۔ ہارتا ہے,لیکن انجلی شرما سے روز باسکیٹ_بال میں ضرور ہارتا ہے ۔ چلّاؤ,لڑکیوں کی طرح مت چلّاؤ ۔ بلاؤ,اے ! مجھے لڑکی مت بلاؤ ۔ ہو,تم تو لڑکی ہو ہی نہیں ۔ ہوں بھاگتے رہتے ہو,ایٹلیسٹ ، میں ان اسٹوپڈ لڑکیوں کی طرح نہیں ہوں ، جن کے پیچھے تم بھاگتے رہتے ہو ۔ بھاگتا بھاگتی ہیں,میں لڑکیوں کے پیچھے نہیں بھاگتا ، لڑکیاں میرے پیچھے بھاگتی ہیں ۔ بن جائے چلتا,یار کب دلدار بن جائے پتہ نہیں چلتا ۔ کہہ رہے تھے,تم کچھ کہہ رہے تھے ملہوترہ ؟ کہہ رہا تھا پہننا ہے,میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا کہ کالج میں شاٹ اسکرٹ پہننا منع ہے ۔ ہے,لیکن یہ تو آجکل کا فیشن ہے ، ملہوترہ ۔ پہنتے ہو,لیکن ملہوترہ ، تم بہت بورنگ کپڑے پہنتے ہو ۔ تھیں پہن لیتا تھا,جب تک تو مسز ملہوترہ زندہ تھیں ، تب تک تو میں ان کے لئے کبھی ۔ کبھی فینسی کپڑے پہن لیتا تھا ۔ ہے آ رہے ہو,کیا بات ہے سر ، آج آپ بہت خوش نظر آ رہے ہو ؟ آ رہی ہے,آج میری بیٹی واپس آ رہی ہے نا ، اسلئے ۔ آ رہی ہے,ٹینا لندن سے واپس آ رہی ہے آج ۔ پڑھتی تھی,ہاں ، وہ وہاں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ رہی کرتی رہی ہوئی ہے,فن شائقین کے لئے بےحد پسندیدہ رہی اس نمائش میں لوگوں کے لئے ان خاص تصاویر کے علاوہ رقص کرتی اس خاتون کی تصویر بھی رہی جس کی مورتی موہن_جوداڑو کی کھدائی سے حاصل ہوئی ہے ۔ کیا,وہیں نٹراجن اور کرناٹک کی افسانوی مورتیوں میں سے ایک نندی_بیل کی تصویر کو بھی لوگوں نے پسند کیا ۔ ہے لیا گیا ہے ہیں,نمائش میں بھگوان بدھ کی تصویر بھی ہے جس میں ان کے چہرے کے الگ الگ تاثرات کو مجسموں سے لیا گیا ہے ساتھ ہی ان میں کچھ فنی نمونے بھی شامل ہیں ۔ سجایا ہے,بھگوان وشنو کے غرور کے ساتھ تصاویر میں اشوک استمبھ کو بھی فنکار نے لکیروں سے سجایا ہے ۔ چلے گی,یہ بہترین پینٹنگ نمائش ۲۹ مئی تک چلے گی ۔ ہو رہے ہے,خواتین سے متعلق واردات میں مسلسل ہو رہے اضافے کے پیچھے کون ہے ذمہ_دار ۔ ,انتظامیہ ، پولس ، قانون ، سماج یا پھر سرکار ۔ پہنچنا ہو پایا ہے کیا چھپی جاننے دکھائے دئے,ان سوالوں کے نتائج پر پہنچنا تو ابھی تک ممکن نہیں ہو پایا ہے لیکن جب نوجوان فنکاروں نے ان سوالوں کو طنز و مزاح کے روپ میں اسٹیج پر پیش کیا تو ناظرین ان میں چھپی سچائی کو جاننے کی کوشش میں دکھائے دئے ۔ دکھایا گیا سمجھنے کی,مکت_دھارا آڈیٹوریم میں دکھایا گیا ڈرامہ ` جنتادربار ` کے دوران ناظرین نے خاص طور پر سمجھنے کی کوشش کی ۔ کی,غیرسرکاری ادارے کے ذریعہ منعقد سالانہ پروگرام مسکراہٹ ۲۰۱۳ کے تحت اس ناٹک کی ہدایتکاری راجیوسنہا نے کی ۔ دکھایا گیا بنایا جاتا ہے آئی ہوئے مانگتی ہے,ڈرامے میں دکھایا گیا جب ایک غریب بھکاری کو کائنسلر بنایا جاتا ہے تو سماعت میں آئی خاتون خود کے ساتھ ہوئے زدوکوب کے لئے مدد مانگتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کیا جاتا ہے ہے ٹھہراتے ہیں,سماعت کے دوران ماں-باپ کو بتایا جاتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ اس کے لئے کون ذمہ_دار ہے وہ سماج کو ملزم ٹھہراتے ہیں ۔ بتاتے ہے,سماج کے ٹھیکیدار انتظامیہ کو ذمہ_دار بتاتے ہے ۔ ,وہیں انتظامیہ قانون کو اور قانون سرکار کو ۔ کرنے کیا گیا,اس طرح آخر میں حکومت کے ذریعہ اپنی سہولیت کے مطابق قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کو بھی طنزیہ مکالمات کے ذریعہ پیش کیا گیا ۔ کیا,ڈرامے کے اہم فنکاروں میں ریشوسنہا ، سنجیوملک ، سوپنل راج_گورو و ودّیاوشوناتھن نے اپنی فنکاری سے متاثر کیا ۔ ہوئی,ساہتیہ-کلا-پریشد کے تعاون سے دلی حکومت کے محکمہءفن ، ثقافت و السنہ کے ذریعہ منعقدہ ۳۰ ویں بھارتی ندو ناٹیہ اتسو تقریب پیر کو شری رام سینٹر میں شروع ہوئی ۔ بن چکی کی گئی,تقریب کے پہلے دن ناکام محبت کی لازوال علامت بن چکی ` لیلیٰ_مجنوں ` کی کہانی پیش کی گئی ۔ چلنے کیا جائے گا,۲۵ مارچ تک چلنے والے اس میلے میں ایک ہفتے تک کئی نامی ہدایتکاروں کی ہدایتکاری میں کئی بہترین ڈراموں کو پیش کیا جائے گا ۔ لکھے کیا ہے,ناتھرام گوڑ کے لکھے ڈرامے ` لیلامجنوں ` کی ہدایت این ایس ڈی گریجوئیٹ انل چودھری نے کیا ہے ۔ کیا گیا ہے,محبت کی اس لاجواب داستان کو جب نوٹنکی طرز میں دلچسپ اور ماہرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ دیکھ کر پسیج گیا کیا گیا,جسے دیکھ کر ناظرین کا دل پسیج گیا اور ڈرامہ خوب پسند کیا گیا ۔ کیا,تقریب کا افتتاح این ایس ڈی کی صدر امَل آنا نے کیا ۔ کیا جائے گا,آٹھ روزہ اس ںاٹیہ اتسو میں سلیم رضا ، سُہیلاکپور ، باپی بوس جیسے نامی گرامی ہدایتکاروں کے علاوہ مختلف موضوعات پر مرکوز کئی نامی گرامی ڈراموں کو پیش کیا جائے گا ۔ بنا ہوگا,بھگوتی چرن ورما کے مشہور ناول چندرلیکھا پر مبنی اسی نام سے بنا ڈرامہ بھی اسی تقریب میں پیش ہوگا ۔ کی ہے,اس کی ہدایتکاری سریندرشرما نے کی ہے ۔ کیا جائے گا,چتراسنگھ کی ہدایت_کاری میں قصہ موجپور بھی پیش کیا جائے گا ۔ کیا جائے گا,منگل کو سعادت حسن منٹو کی سوانح اور ان کے کردار پر مبنی ڈرامے ` ایک کتے کی کہانی ` سلیم رضا کی ہدایت میں پیش کیا جائے گا ۔ ہیں,اس ڈرامے کے قلم_کار دانش اقبال ہیں ۔ ہونے بننے ملا ہے,رنر کے بطور قومی و بین_الاقوامی شہرت حاصل ہونے کے بعد حالات کی وجہ چنبل کا ڈکیت بننے والے پان سنگھ تومر کی کہانی پر مبنی فلم کو ۶۰ ویں قومی فلم انعامات میں سب سے اونچا مقام ملا ہے ۔ نوازی گئی ہے دیا گیا ہے,تگمانشودھولیا ہدایت_کردہ پان سنگھ تومر عمدہ_ترین فیچر فلم سے نوازی گئی ہے جبکہ اسی فلم میں بہترین اداکاری کے لئے عرفان کو عمدہ_ترین اداکار کا اعزاز دیا گیا ہے ۔ دیا گیا ہے,عرفان کے ساتھی مراٹھی اداکار وکرم گوکھلے کو بھی مراٹھی فلم کی اجازت کے لئے عمدہ_ترین اداکار کا اعزاز دیا گیا ہے ۔ دیا گیا ہے,مراٹھی فلم ` ` دھگ ` ` میں اداکاری کے لئے مراٹھی اداکارہ اوشاجادو کو عمدہ_ترین اداکارہ کا اعزاز دیا گیا ہے ۔ کیا گئے ہیں,بزرگ فلم_کار باسوچٹرجی کی صدارت والی قومی فیچر فلم جیوری نے ۱۴ زبانوں میں کل ۳۸ فلموں کو مختلف انعامات کے لئے منتخب کیا جن میں کئی اہم انعامات ہندی اور مراٹھی فلموں کو گئے ہیں ۔ دیا گیا ہے,عمدہ_ترین ہدایتکاری کا اہم اعزاز بھی ` ` دھگ ` ` کے لئے شیواجی لوٹن پاٹل کو دیا گیا ہے ۔ رہا,ویسے ۶۰ ویں قومی فلم انعامات میں ہندی فلموں کا جلوہ رہا ۔ ملا ہے دیا گیا ہے,۲۰۱۲ کی مشہور اور مقبول فلم ` ` وکی ڈونر ` ` کو مکمل تفریح کے لئے عمدہ_ترین عوامی انعام ملا ہے تو ہدایتکار کی پہلی بہترین فلم کے لئے اندراگاندھی انعام بیدبرت پین کی چٹگاوں کو دیا گیا ہے ۔ دینے کیا گیا ہے,عمدہ_ترین اطفال فلم کا اعزاز بھی ہندی فلم ` ` دیکھ انڈین سرکس ` ` اور اسی فلم کے اطفال اداکار ویریندرپرتاپ کو بہترین اطفال اداکار کا انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ دینے لیا گیا,عمدہ_ترین معاون ادکار انوکپور اور معاون ادکارہ ڈالی اہلوالیا کا انعام بھی وکی_ڈونر کے لئے دینے کا فیصلہ لیا گیا ۔ کرینگے,۳ مئی کو پنڈت برجومہاراج بھی صدر کے ہاتھوں انعام حاصل کرینگے ۔ دیا گیا ہے,انھیں یہ اعزاز کمل حاسن کی فلم ` ` وشوروپم ` ` کے ایک گیت کی کوریوگرافی کے لئے دیا گیا ہے ۔ مانا,پرینکاچوپڑا کی بہن پرینیتی چوپڑا کو اس کی پہلی فلم ’ عشق_زادے ‘ کی اداکاری کے لیے جیوری نے خاص ذکر کے قابل مانا ۔ NULL دیا گیا ہے,عمدہ_ترین گلوکار کا انعام ہندی فلم ` چٹگاوں ` کے لئے شنکرمہادیون اور عمدہ_ترین گلوکارہ کا اعزاز مراٹھی فلم ` ` سنہتا ` ` کے گیت کے لئے آرتی انکلیکرٹکیکر کو دیا گیا ہے ۔ ہوئے,۲۰۱۲ کی کچھ مشہور فلموں کو بڑے انعام نصیب نہیں ہوئے ۔ کرنا پڑا,کہانی کو عمدہ_ترین بنیادی مکالمے ( سجےگھوش ) اور عمدہ_ترین ایڈیٹنگ ( نمرتاراو ) کے اعزاز سے صبر کرنا پڑا جو گجراتی ناٹک پر مبنی ایک دیگر مشہور فلم ` اومائی_گاڈ ` کے عمدہ_ترین اڈیپٹیڈ اسکرین_پلے ( بھویش منڈالیا ، اومیش شکلا ) کے انعام سے ۔ کرنا پڑا,انوراگ کشیپ کی مشہور فلم ` گینگس آف واسے_پور ` کو ریکارڈنگ کے ایک تکنیکی انعام سے ہی اطمینان کرنا پڑا ۔ ,مہادیو آڈیٹوریم کو پرتھوی تھیئیٹر کا روپ ؟ سونپنے رکھ دیا,پرم کے برخلاف قومی فلم جیوری نے انعامات کی سفارشیں اطلاعات و نشریات کے وزیر کو سب سے پہلے سونپنے کی بجائے اسے میڈیا کے سامنے پہلے رکھ دیا ۔ کیا گیا ماننا ہے ہو کر کیا ہے کر دیا جانا چاہیئے,وزیراطلاعات و نشریات منیش تِواری کی صلاح پر ایسا کیا گیا جن کا ماننا ہے کہ جیوری نے غیرجانبدار ہو کر کام کیا ہے تو سب سے پہلے فاتحین کے نام کو عام کر دیا جانا چاہیئے ۔ کرانے کہا دیا جا سکتا ہے,ڈاکیمنٹری فلموں کے لئے نمائش کے اچھے پلیٹ_فارم دستیاب کرانے کے ایک مشورے کے سیاق میں منیش تیواری نے جیوری ارکان سے کہا کہ ان کی وزارت دہلی میں واقع سرکاری مہادیوآڈیٹوریم کو ممبئی کے پرتھوی تھئِٹر جیسا روپ دیا جا سکتا ہے ۔ ہوتا ہے,الکٹرانک میڈیا کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے ۔ کرنی ہوتی ہے,لیکن تاریخ_نویس کو اس دستاویز میں جان پیدا کرنی ہوتی ہے ۔ ہو سکتیں,ٹی_وی پر آف دی ریکارڈ باتیں نہیں پیش ہو سکتیں ۔ کرتے تھے ہے,پہلے سیاستداں بڑی آسانی سے اپنی بات کی تردید خود کرتے تھے ، لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے ۔ لے کر چلتی رہی,فرانس کے ایک مشہور فلسفی کی موجودگی میں جنت اور جہنم کو لے کر گرماگرم بحث چلتی رہی ۔ سنتے رہے,فلسفی صاحب غیرجانبداری سے دونوں فریقوں کی باتیں سنتے رہے ۔ پوچھا کیا ہے,آخر میں کسی نے ان سے پوچھا کہ اس موضوع پر آپ کی رائے کیا ہے ؟ دیا کریں ہیں,فلسفی صاحب نے بڑی عاجزی سے جواب دیا کہ آپ مجھے معاف کریں ، کیونکہ دونوں ہی مقامات پر میرے دوست ہیں ۔ ہے کرتا,مطلب یہ ہے کہ ایسے مقامات پر سمجھدار آدمی کسی کی حمایت نہیں کرتا ۔ دیکھنے ملتا ہے,میڈیا میں بھی یہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہیں کرتے ہیں کیا گیا ہے,ڈاکٹر ، وکیل یا کالج کے اساتذہ کے لئے ایسے پیشہ_ور ادارے ہیں جو ان کی قابلیت اور معیار طے کرتے ہیں لیکن پریس کے لئے ایسا کوئی پیمانہ طے نہیں کیا گیا ہے ۔ ہوئی ہے,گزشتہ ۵۰ برس کے دوران اخباری میڈیم کی رفتار ضرور تیز ہوئی ہے ۔ آ گیا بتاتا ہے ہوتے جا رہے ہیں,ٹائپرائٹر کے کی_بورڈ سے انٹرنیٹ یا ٹیلیکس کے بعد سیٹیلائٹ فون اور لیپٹاپ کا زمانہ آ گیا لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ عالم_کاری کے اس دور میں دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ملتی ہے کی جاتی ہیں,اسی طرح مغربی ٹیلی_ویژن چینلوں میں جرائم خبروں کو زیادہ اولیت ملتی ہے اور بین_الاقوامی خبریں دُم - چھلے کی طرح پیش کی جاتی ہیں ۔ سنائی دیتی ہے,سماجی اور معاشی معاملات کے مقابلے سیکس سانحہ کی گونج خبروں میں زیادہ سنائی دیتی ہے ۔ کر کر دیا جاتا ہے,مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی آدھی گپ اور آدھی افواہ پر چکنی _ چپڑی زبان کا استعمال کر تبصرہ کر دیا جاتا ہے ۔ دیکھنے ملتی ہے,تعصب والی رپورٹنگ دیکھنے کو ملتی ہے ۔ کھڑے ہوتے ہیں ہوتی ہے,معصوم لوگ کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں اور کئی بار مجرم کی واہ - واہی ہوتی ہے ۔ گھٹتی دکھائی دے رہی ہے,خبری ذرائع میں نظریے کی اہمیت دن _ بہ _ دن گھٹتی دکھائی دے رہی ہے ۔ دکھائی دیتا ہے,شخصیتوں کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ دے سکنے رہتے ہیں,سنسنی_خیز کہانی دے سکنے والے لوگوں کے اردگرد صحافی زیادہ یکجا رہتے ہیں ۔ کرنا لگتا ہے,اصولوں ، آدرشوں اور اقدار کا ذکر کرنا بےمعنی سا لگتا ہے ۔ کیا ہے,ٹیلی_ویژن اور کمپیوٹر انقلاب نے نئی نسل کو تفکرات سے دور کیا ہے ۔ آئی بڑھایا ہے,اخباری ذرائع میں آئی تنزلی نے دنیا کے مختلف ممالک میں مسائل کو بڑھایا بھی ہے ۔ کرنے رہ گئی ہے,سیاستدانوں میں سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہ گئی ہے ۔ سننے سہنے ہوتی جا رہی ہے,جمہوری ڈھنگ سے نااتّفاقی اور تنقید کو سننے اور سہنے والے سیاستداں کی کمی ہوتی جا رہی ہے ۔ ہے پھنسایا ہے,بدعنوانی فقط انتظامیہ اور سیاست میں ہی نہیں ہے ، بلکہ سیاستدانوں اور کارپوریٹ کمپنیوں نے صحافیوں کے ایک طبقے کو اپنے جال میں پھنسایا ہے ۔ ہوئی ہے دیا جانے لگا ہے,اخباروں میں ایک سب سے بڑی گڑبڑ یہ ہوئی ہے کہ فوری بحران پر زیادہ دھیان دیا جانے لگا ہے ۔ ہونے بن گئے تھے آئی ہونے چھپنے لگا,کچھ وقت پہلے جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونے کے حالات بن گئے تھے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات آئی تو ان ہتھیاروں سے ہونے والی تباہی کا ذکر تفصیل سے چھپنے لگا ۔ پڑا ہو گیا,لیکن جیسے ہی معاملہ نرم پڑا ، اس موضوع کا تذکرہ بند ہو گیا ۔ دی گئی دینے ہوئے,دہشتگرد تنظیموں کو دنیا میں جہاں کہیں بھی حمایت دی گئی اس کے نتائج دینے والے کے لئے بھی مہلک ثابت ہوئے ۔ ہے رکھ کر دیتے رہیں,خبروں کے وسیلوں کی ذمہ_داری یہ ہے کہ وہ دوررس مفاد کو دھیان میں رکھ کر مسلسل خبریں اور مضامین دیتے رہیں ۔ ہوا ہے,حال ہی کے برسوں میں صحافت کے لئے ایک بڑا خطرہ تجارتی مفاد کے سبب پیدا ہوا ہے ۔ دیکھنے ملا,ہندوستان کے اخباروں سے پہلے امریکی اخباروں میں یہ رویہ دیکھنے کو ملا ۔ رکھے جانے لگے,امریکی اخباروں میں اخبار کے لئے مدیر کے بجائے اعلیٰ منتظم رکھے جانے لگے ۔ رہنے کی جانے لگیں,مینجمنٹ اور ادارتی محکمہ کے درمیان رہنے والی خط فاصل عبور کی جانے لگیں ۔ کہا جاتا رہا ہے,اخبار کو تاریخ کا خام دستاویز کہا جاتا رہا ہے ۔ کرنی ہوتی ہے,لیکن تاریخ_نویس کو اس دستاویز میں جان پیدا کرنی ہوتی ہے ۔ کرنا ہوتا ہے کرنا ہوتا ہے,اس کا تجربہ کرنا ہوتا ہے اور حادثات کو تاریخ کے روپ میں پیش کرنا ہوتا ہے ۔ ہونے کرنا ہے,پھر بھی صحافی ہونے کے باعث اس دستاویز کو تیار کرنا تاریخ_نویس سے کم اہم نہیں ہے ۔ سنانے لگتے ہیں,مجرمانہ واقعات پر عدالتی سماعت کے وقت یا اس سے پہلے ہی صحافی اپنے نتائج سنانے لگتے ہیں ۔ ہو رہی جیت سکتا ہے ہار سکتا ہے,قتل کے جرم پر ہو رہی سماعت میں روزانہ نہ تو کوئی جیت سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ہار سکتا ہے ۔ لے سکتے ہیں,بہیمانہ قتل کے معاملے تفریح کی شکل نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا,شہزادی ڈائنا کی موت کو بھی مغربی میڈیا نے ایک تفریحی بکاو حادثہ کی طرح استعمال کیا ۔ کیا جاتا رہا,ہندوستان میں گزشتہ دنوں شیوانی بھٹناگر قتل معاملے سے متعلق ہر دن پولس افسر روی کانت شرما کی اہلیہ سدھا شرما کے بیانوں کو ٹیلی_ویژن پر سنسی_خیز طریقے سے پیش کیا جاتا رہا ۔ نکلنے پوچھتے دکھائی دئے,سابق صدرجمہوریہ کرشن کانت کی آخری رسومات کے فوراً بعد نگم بودھ گھاٹ سے نکلنے پر سابق وزیراعظم چندرشیکھر سے اسی طرح کے سوال ٹیلی_ویژن نامہ_نگار پوچھتے دکھائی دئے ۔ کرنے کرنے تھا,آنجہانی کرشن کانت کے گہرے دوست سے اس طرح کا سوال انھیں مغموم کرنے کے ساتھ بےعزت کرنے جیسا ہی تھا ۔ ہوئی ہے جڑے ہیں,میڈیا کی ایک بڑی دقت یہ ہوئی ہے کہ امریکہ کی ہی طرح ہندوستان میں بھی اعلیٰ طبقہ کے نوجوان اخباری وسایءل سے جڑے ہیں ۔ پڑا,انھیں عمومی زندگی اور شائستگی سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑا ۔ نکل کر پہنچے تھے,واشنگٹن ٹائمز کے مدیر اعلیٰ ویسلے پروڈین یا ٹائمز آف انڈیا کے سابق مدیر گری لال جین عام خاندان سے نکل کر صحافت میں پہنچے تھے ۔ ہیں,ان میں ' وگیان پرگتی ' اور ' آوشکار ' اہم ہیں ۔ کی جاتی ہیں,` وگیان پرگتی ` کی لگ_بھگ ایک لاکھ کاپیاں شائع کی جاتی ہیں ۔ ہے,ان دونوں رسائل کی ڈیزائن ، طباعت کا اعلیٰ میعار ہے ۔ کرتی ہیں,بیشتر ہندی روزنامہ اور اخبار و رسائل وقت وقت پر سائنسی اشیا شائع کرتی ہیں ۔ کرتے ہیں,ہندی کے کچھ رسائل سائنس ، زراعت ، مویشیی پروری ، ماحولیات اور جنگلات پر مستقل کالم بھی شائع کرتے ہیں ۔ دیتے ہیں,متعدد ہندی روزنامہ اخبار اپنے ہفتہ_وار ایڈیشن میں سائنس پر دلچسپ مواد دیتے ہیں ۔ کیا ہے,اس جانب ` نوبھارت ٹائمز ` اور ` ہندوستان ` نے قابل ذکر کام کیا ہے ۔ دیکھا سنانے آئے,کرکٹ میچ کا آنکھوں دیکھا حال سنانے میں ہندی کھیل مبصرین کے سامنے ترجمہ ، لفظیات اور محاوروں وغیرہ کے متعدد مسائل آئے ۔ کرو سیکھو کرتے ہوئے کی,لیکن انھوں نے تجربہ اور ` غلطی کرو اور اس سے سیکھو ` طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے ان مشکلات پر فتح حاصل کی ۔ سناتے ہیں سن کر کر دیتے ہیں,اب تو ہندی میں نہ صرف کرکٹ کا ، بلکہ لگ_بھگ سبھی کھیلوں کا اتنا اچھا حال سناتے ہیں کہ کچھ کھیل صحافی اسے سن کر کھیل کی رپورٹنگ کر دیتے ہیں ۔ نکلے,ہندی میں کھیل سے متعلق کچھ رسائل نکلے ۔ ہو گئی,لیکن ان سبھی کی اشاعت کچھ وقت بعد بند ہو گئی ۔ ہے,ان میں ` کھیل بھارتی ` کا نام قابل ذکر ہے ۔ کی,` کھیل بھارتی ` کے علاوہ کچھ وقت تک ` اسپورٹس ویک ` نے ` کھیل یگ ` کی بھی اشاعت کی ۔ چلا,` کرکٹ سمراٹ ` نامی رسالہ بھی کچھ وقت اچھا چلا ۔ نکلتا ہو,اس وقت ` کھیل کھلاڑی ` کے علاوہ ہندی میں شاید ہی کوئی دیگر کھیل رسالہ نکلتا ہو ۔ لانے کرنے ہے,خواتین میں بیداری لانے اور انھیں جدوجہد آزادی میں شامل کرنے کا سہرا گاندھی جی کو ہے ۔ تھے کرنے تھے,گاندھی جی پہلے لیڈر تھے جو خواتین اور مردوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق یا امتیاز قبول کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ ہونے کی,انھوں نے سبھی مرد و عورت کو جدوجہد آزادی اور تخلیقی امور میں شامل ہونے کی اپیل کی ۔ کرنے پھیلانے تھا,صحافی پیشے میں خواتین کی آمد کا اعلان کرنے والا اور سماجی بیداری پھیلانے والا ہندی کا پہلا رسالہ ` بال بودھنی ` تھا ۔ کیا تھا,اس کی اشاعت بھارتیندو ہریش چند نے پہلی جنوری ۱۸۷۴ کو کیا تھا ۔ ہوئی تھی ملنے آئی ہوں ہے ملوں,"اس کے پہلے شمارے کے پہلے صفحے پر یہ گذارش شائع ہوئی تھی , ' میری پیاری بہنو ، میں تمھاری نئی بہن ، ` بال بودھنی ` آج تم لوگوں سے ملنے آئی ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ تم لوگوں سے ہر ماہ ایک بار ملوں ' ۔" کیا,بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آغاز میں سدرشن آچاریہ نے الہ_آباد سے ` گرہ لکشمی ` رسالہ شائع کیا ۔ ہوئی,اسی برس بنارس سے بابو راو وشنو پراڈکر اور شانتی پریہ دیویدی کی ادارت میں خواتین کے لیے مفید رسالہ ` کملا ` کی اشاعت شروع ہوئی ۔ تھا,یہ اپنے وقت کا سب سے عمدہ خواتین افادیت رسالہ تھا ۔ کی,اسی وقت گووِند شاستری دگویکر نے بنارس سے ` گرہستھ ` رسالے کی اشاعت شروع کی ۔ ہوا,آزادی کے بعد خواتین کے رسائل کا اور فروغ ہوا ۔ نکال کر کی,بینیٹ کولمین کمپنی ( ٹائمز آف انڈیا ) گروپ نے انگریزی میں ` فمینا ` نکال کر اس کی شروعات کی ۔ نکالنے کی گئی ہوئی,پچھلی چار دہائیوں کے دوران ` فیمینا ` کی طرز پر ہندی میں ` واما ` نکالنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی ۔ نکلتی ہے,` فیمینا ` کی طرز پر انگریزی میں ` سیوا ` بھی نکلتی ہے ۔ کیا,انگریزی کی خواتین صحافیوں کے طرز پر الہ_آباد کے دوست پرکاشن نے ` منورما ` کی اشاعت شروع کیا ۔ کی,اسی طرح دلی پریس نے ` گرہ شوبھا ` کی اشاعت شروع کی ۔ ہے,ادھر خاندانی جھگڑے کے سبب ` منورما ` کی اشاعت بند ہے ۔ ہوئی ہے,ادھر ہیمامالنی کی ادارت میں `` میری سہیلی `` اشاعت شروع ہوئی ہے ۔ نکالتے ہیں,متعدد خواتین تنظیمیں اپنا رسالہ نکالتے ہیں ۔ نکل رہی ہے,مدھوکشور کی ادارت میں ` مانوشی ` نکل رہی ہے ۔ ہو رہی ہے,بھوپال سے ` انوسوئیا ` کی اشاعت ہو رہی ہے ۔ نکالتی ہے,مہیلا دکشتا سمیتی ` جننی ` نام سے ایک رسالہ نکالتی ہے ۔ جڑے ڈالی ہے,اوشا رائے نے خواتین کے مسائل اور تعلیم ، صحت اور ماحولیات سے جڑے موضوعات پر بڑے اچھے ڈھنگ سے روشنی ڈالی ہے ۔ ہیں,شہناز انکلی سریا سلامتی سے متعلق معاملوں کی ماہر ہیں ۔ کرتی ہیں,تولین سنگھ ہمعصر سیاست کا بہترین تجزیہ کرتی ہیں ۔ لکھتی رہی ہیں,مرنال پانڈے متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کے روپ میں نسائی معاملات ، مرد و عورت غیرہمواریت اور خواتین کی پسماندگی پر ہندی اور انگریزی میں برابر لکھتی رہی ہیں ۔ ہیں,کومی کپور ` انڈین ایکسپریس ` کی مقامی مدیر ہیں ۔ جاکر کر دیا ہے ہیں,این_ڈی_ٹی_وی کی برکھادت نے تو جوکھم_بھری جگہوں میں جاکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب خواتین کسی شعبہ میں پیچھے نہیں ہیں ۔ ہوئی,ہندی فلمی رسالے کی شروعات عجب ڈھنگ سے ہوئی ۔ کی جاتی تھی,شروع میں ہرایک فلم کے بارے میں دو چار صفحہ کی ایک کتاب شائع کی جاتی تھی ۔ ہوتے تھے,اس میں فلم کے اداکار و اداکارائیں کے ناموں کے ساتھ فلم کی کہانی کی تلخیص اور فلم کے سبھی گانے ہوتے تھے ۔ دیا,فلم سے متعلق اس شور شرابے اور بھوک نے دہلی میں فلم رسائل کو جنم دیا ۔ ہوئی,"دہلی ۱۹۳۲ میں لیکھرام کی ادارت میں ہفتہ_وار "" رنگ_بھومی "" کی اشاعت شروع ہوئی ۔" تھی,اس کی قیمت دو پیسہ تھی ۔ جاننے رہنا ہے,کسی بھی انتخابی علاقہ کی صحیح تصویر جاننے کے لئے سب سے پہلے تو ذات ، مذہب ، پارٹی کے تعصبات سے دور رہنا ضروری ہے ۔ کرنا ہے کرنا ہے,نامہ_نگار کا کام کسی ذات ، مذہب یا پارٹی کے امیدوار کو نہ کامیاب کرنا ہے ، نہ ناکام کرنا ہے ۔ جتانے جیتتا ہے ہارتا ہے,کوئی امیدوار کسی اخبار کے جتانے سے نہ جیتتا ہے ، نہ ہارتا ہے ۔ لیتا ہے,وہ اخبار کے رول کو اس معاملے میں بہت پیچیدہ وجوہات سے لیتا ہے ۔ ہونا چاہیئے کر سکتی ہے,اسلئے ایک نامہ_نگار کو یہ بھرم نہیں ہونا چاہیئے کہ اس کی ایک یا دو رپورٹ کسی پارٹی کے امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔ جائیں رکھ کر جائیں,اسلئے جب نامہ_نگار کسی انتخابی حلقہ میں جائیں تو اپنے سارے تعصبات یا بدگمانی ایک طرف رکھ کر جائیں ۔ ہوتا ہے,دوسرا بھرم ذاتی مساوات کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے ۔ مان لیجئے ہیں,مان لیجئے ایک انتخابی حلقہ میں کئی سیاسی پارٹیوں کے امیدوار اہم طور سے میدان میں ہیں ۔ جائینگے لگا کر بتائےگا ہے,اب آپ جس امیدوار یا اس کے حامی کے پاس جائینگے تو وہ ذاتی جوڑ - توڑ ، جوڑ - بقایا لگا کر بتائےگا کہ ماحول اس کی حمایت میں ہے ۔ ہے ہے جیتے,لیکن سب سے زیادہ ذات - پات بہار میں ہے اور یہ لازمی نہیں ہے کہ کوئی امیدوار ذات کی بنیاد پر جیتے ۔ ہوتے ہیں ہوتے ہیں دینا دینا چاہتے ہیں,کچھ رائےدہندگان کسی خاص پارٹی کے تئیں ایماندار ہوتے ہیں ، کچھ رائےدہندگان اپنی ذات کے امیداوار سے ناراض ہوتے ہیں ، کچھ علاقہ کی اندیکھی کے سبب کسی خاص امیدوار کو حمایت دینا یا نہیں دینا چاہتے ہیں ۔ بن جاتا ہے,کئی مرتبہ کسی امیدوار کا کوئی تبصرہ یا اس کا عوامی سلوک رکاوٹ یا وسیلہ بن جاتا ہے ۔ ہوتی,اسلئے نسلی مساوات کی بنیاد پر کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار طے نہیں ہوتی ۔ ہوتی ہے,عموماً نسل تمام عادلانہ عناصر میں سے ایک ہوتی ہے ۔ دیکھیں,اسلئے انتخابات کو اپنے عینک سے نہ دیکھیں ۔ ہے دیکھیں,اہم یہ ہے کہ اسے دوسرے کے عینک سے دیکھیں ۔ بدل سکتے,آپ اس سچائی کو بدل نہیں سکتے ۔ کریں,اسلئے اپنی رپورٹ میں اس سچائی کو ظاہر کریں ۔ کر پائینگے دیکھ سکینگے,یہ سچائی آپ تبھی ظاہر کر پائینگے جب آپ اسے دیکھ سکینگے ۔ دیکھ سکینگے ہونگے,اسے دیکھ سکینگے ، جب آپ پارٹی بندی ، ذات _ بندی ، انفرادی ، فرقہ _ وارانہ تعصبات سے دور ہونگے ۔ ہونگے,جب آپ لالچ یا دھمکی یا بہکاوے سے دور ہونگے ۔ ہونے NULL کرنے جاتے ہیں,آپ انتخابی میدان میں استعمال ہونے نہیں ، حقائق کا مدلل ڈھنگ سے استعمال کرنے کے لئے جاتے ہیں ۔ کرنے NULL کھولنے جاتے ہیں,اپنی آنکھیں اور دماغ بند کرنے نہیں ، کھولنے جاتے ہیں ۔ کرنے NULL کرنے جاتے ہیں,اپنے تخیلات اور خوابوں کی تعبیر کرنے نہیں ، حقائق اور سچائیوں کا سامنا کرنے جاتے ہیں ۔ لکھنے ہونے دیں,اسلئے رائےدہندہ کے روپ میں آپ اپنے فیصلے کو انتخابی رپورٹ لکھنے پر حاوی نہ ہونے دیں ۔ دیکھیں,اپنے دونوں رول کو الگ - الگ دیکھیں ۔ NULL لادیں,ایک کا رول دوسرے پر دوسرے کا رول پہلے پر نہ لادیں ۔ کہنا ہے دیں,پھر وہ کہنا شاید لازمی ہے کہ رپورٹ میں فیصلے نہ دیں ۔ ہوتی ہے NULL,رپورٹ ، رپورٹ ہوتی ہے فیصلہ نہیں ۔ NULL رکھیں دیں,لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ حقائق کو مدلل و پراعتماد طور سے نہ رکھیں اور انتخابات کی ایک مکمل تصویر نہ دیں ۔ جائیں,ہر اہم امیدوار کے انتخابی دفتر میں جائیں ۔ کریں,وہاں اہم انتخابی منتظم سے بات کریں ۔ بڑھ چڑھ کر کرےگا,ہر پارٹی کا انتخابی منتظم بڑھ چڑھ کر ، غیرمعروف اور بےبنیاد باتیں کرےگا ۔ کرنے ہوگی,لیکن تین چار امیدواروں یا ان کے انتخابی منتظمین سے باتیں کرنے پر تصویر کچھ صاف ہوگی ۔ دکھیگی,ان سے حاصل یکسر مخالف حقائق کے درمیان بھی ایک تصویر آپ کو صاف دکھیگی ۔ لگیگا,کم سے کم دو تین اہم طاقت اور کمزوری کا پتا لگیگا ۔ چلیگا,ان کے دعووں و دلیلوں کی حقیقت کا پتا چلیگا ۔ چلیگا,ان کے انتخابی مہم کے نظام کا پتا چلیگا ۔ ملے گھومیں,موقع ملے تو امیدوار کے ساتھ تھوڑا گھومیں ۔ ہو رہا ہے دیکھیں,انتخابی جلسہ ہو رہا ہے تو وہ دیکھیں ۔ نکل رہا ہے ہے رکھیں,کسی پارٹی کا جلوس نکل رہا ہے تو اس کے تئیں لوگوں کا کیا رخ ہے ، اس پر نظر رکھیں ۔ آئیں ہار سکتا,لیکن کبھی اس رعب میں نہ آئیں کہ فلاں امیدوار تو ہار ہی نہیں سکتا ۔ بہہ رہی ہے جیتیگا,یا فلاں پارٹی کی حمایت میں مبینہ طور سے پورے ملک یا ریاست میں ہوا بہہ رہی ہے تو اس کا امیدوار یہاں سے جیتیگا ۔ ہونا ہے,مدافعت کے متعلق اپنے ملک کی حفاظت سے لےکر دنیا کے تحفظاتی ماحول کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے ۔ ہیں ہو سکتی ہے,یہ موضوع اسلئے حساس ہیں کیونکہ ذرا سی غلطی آپ کی اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہو سکتی ہے ۔ کر سکتی ہے ٹوٹ سکتا ہے,دو ممالک کے درمیان تناو پیدا کر سکتی ہے اور آپ کی فوج کا حوصلہ ناحق ٹوٹ سکتا ہے ۔ ہے ہو گئی ہوتی ہے,یہ بھی عجیب بات ہے کہ کویت و عراق جنگ کے دوران دنیا بھر میں دفاعی مضمون_نگاروں کی فوج ایسے کھڑی ہو گئی جیسے ` مشروم ` کی پیداوار ہوتی ہے ۔ ہے ہوئیں,یہی سبب ہے کہ اس وقت دفاعی مضمون_نگاروں کی بیشتر پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئیں ۔ ہے جائیں کریں,دفاع کی صحیح اور مناسب رپورٹنگ کے لئے لازمی ہے کہ نامہ_نگار میدان میں جائیں اور خود وہاں کے حالات کا مطالعہ کریں ۔ آتا ہے,اس زمرے میں دنیا کے سب سے اونچے جنگی مقام سیاچن کا سوال آتا ہے ۔ تھے,شروع شروع میں ریڈیو پروگرام ریڈیوں سیٹوں تک محدود تھے ۔ سنا جانے لگا ہے,اب موبائل فون کے ذریعے ایف_ایم ریڈیو سنا جانے لگا ہے ۔ دے دی ہے,حال ہی میں مرکزی کابینہ میں ایف_ایم ریڈیو کے تیسرے مرحلے کی توسیع کو منظوری دے دی ہے ۔ ہے لگانا,ریڈیو صنعت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے اس کے سامعین کی تعداد کا پتہ لگانا ۔ ہیں,میڈیا اور تفریحی صنعت کے دیگر حصوں میں موسیقی ، گھر کے باہر تشہیر ، انٹرنیٹ اشتہار ، انیمیشن ، گیمنگ اور منظری اثر شامل ہیں ۔ ملنے آتا ہے,ہندوستان میں موسیقی سے ملنے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ فلمی موسیقی سے آتا ہے ۔ ہے,آزاد موسیقی البموں کی فروخت کافی کم ہے ۔ بڑھا,ہندوستان میں اینیمیشن اور گیمنگ صنعت ۲۰۰۴ ۔ ۰۵ میں بڑھا ۔ بڑھ رہا ہے,چیلنج کے باوجود گیمنگ تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ہوا ہے ہو گئے ہیں,گیمنگ صنعت کے لیے سماجی نیٹورکنگ تحفہ ثابت ہوا ہے اور کئی آنلائن صارفین اس کے عادی ہو گئے ہیں ۔ ہے بڑھ رہا ہے,آجکل سماجی نیٹورکنگ کے تئیں بھی ایک زبردست رجحان ہے اور یہ بےتحاشہ بڑھ رہا ہے ۔ بنا رہا ہے,یہ صارفین کو زیادہ بیدار بنا رہا ہے ۔ ہے NULL ہے,ہندوستان میں مجموعی گھریلو مصنوعات میں اشتہارات کا حصہ صرف 0.53 فیصد ہے جبکہ امریکہ میں یہ 1.08 فیصد اور جاپان میں 0.09 فیصد ہے ۔ ملتا ہے ہیں,اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہندوستان میں اس شعبے میں اضافے کے بہت امکانات ہیں ۔ کہا ہے سیکھا ہے,رانی نے کہا مجھے کسی بھی خان سے کوئی دقت نہیں ہے بلکہ تینوں خانوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ سکھایا ہے,شاہ_رخ اور عامر نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے ۔ رہے ہیں سکھایا کیا جائے,شاہ_رخ ہمیشہ ہی بہت خوش_مزاج رہے ہیں اور ایک معاون ستارہ کے طور پر انہوں نے ہمیشہ مجھے سکھایا کہ بہتر کام کیسے کیا جائے ۔ رہے ہیں,عامر تو میرے لیے استاد کی طرح رہے ہیں ۔ کی تھی پکڑ کر سکھایا تھا چڑھنی چاہئے,جب میں نے اپنی زندگی کی شروعات کی تھی تب انہوں نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے سکھایا تھا کہ کس طرح اداکاری کی سیڑھی چڑھنی چاہئے ۔ کر رہی ہوں لگتا ہے سیکھنا ہے,میں ان کے ساتھ تلاش فلم بھی کر رہی ہوں اور ابھی بھی مجھے لگتا ہے کہ مجھے اور بھی بہت کچھ سیکھنا ہے ان سے ۔ باندھے,رانی نے سلمان کی تعریفوں کے پُل باندھے ۔ کہا ہیں,انہوں نے کہا کہ سلمان خان میرے بہت اچھے دوست ہیں ۔ ہے ہے کرتے ہیں,تینوں خانوں کے ساتھ میری بہت اچھی اور الگ بونڈنگ ہے اور مجھے پتہ ہے کہ سبھی خان مجھے بہت پسند کرتے ہیں ۔ کیا تھا,رانی مکھرجی نے اس سے پہلے عامرخان کے ساتھ غلام فلم میں کام کیا تھا ۔ دیکھے ہیں,اس فلم سے لےکر اب تک عامر اور رانی کی زندگی نے بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔ نبھاتے ہیں,دونوں اب کافی پختہ اور سلجھے ہوئے کردار نبھاتے ہیں ۔ کی تھی ہے,سلمان_خان کے ساتھ رانی نے ` چوری چوری چپکےچپکے ` فلم کی تھی اور شاہ_رخ کے ساتھ تو رانی کی جوڑی بالی_ووڈ کی کامیاب جوڑیوں میں سے ایک ہے ۔ کیا ہے,` کچھ کچھ ہوتا ہے ` ، ` چلتےچلتے ` جیسی کامیاب فلموں میں دونوں نے کام کیا ہے ۔ اٹھتا ہے کر پائے_گی,اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ رانی کی فلم ` ائییا ` کیا باکس_آفس پر بھیڑ جمع کر پائے_گی ۔ ہو رہی ہے,رانی کی یہ فلم ` ائییا ` اکتوبر میں جاری ہو رہی ہے ۔ ہے,اچھی بات تو یہ کہ رانی کی فلم کے سامنے کسی بڑے ستارے کی فلم نہیں ہے ۔ کرے_گی,ہاں ، پریتی_زنٹا کی فلم ` عشق ان پیرِس ` ضرور ان کی فلم سے مقابلہ کرے_گی ۔ ہے ہیں,ویسے بھی رانی مکھرجی اور پریتی-زنٹا کی آپسی چشمک بالی_ووڈ میں کافی پرانی ہے اور اب ایک بار پھر دونوں آمنے سامنے ہیں ۔ ہونے ہے,اس وجہ سے دونوں کے مابین سخت مقابلہ ہونے کی امید ہے ۔ ہے کرنے ترستا ہے,کرن_جوہر فلم صنعت کا وہ نام ہے ، جن کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہر اداکار ترستا ہے ۔ چاہیں بنا سکتے ہیں,آج وہ جس خان کو چاہیں ، اپنی فلم کا حصہ بنا سکتے ہیں ۔ رکھی جانے مانتے ہیں,وہ طویل عرصے تک یاد رکھی جانے والی فلموں کو ہی کامیاب مانتے ہیں ۔ مانا جاتا تھا,اس سے پہلے اچھی کہانی کے ساتھ اچھی موسیقی کو بالی_ووڈ میں کامیابی کے لیے ضروری مانا جاتا تھا ۔ ہے کر سکتے ہیں,اب اچھی اسکرپٹ کے ساتھ ساتھ مضبوط ہدایتکاری ہی اصلی طاقت ہے جس سے بڑے ستارے کے بغیر بھی آپ بالی_ووڈ پر حکومت کر سکتے ہیں ۔ ہے,کرن_جوہر کی فلم ` اسٹوڈنٹ_آف_دی_ایئر ` میں کوئی بڑا ستارہ نہیں ہے ۔ ہیں ہونا کر دیتا ہے,تمام نئے چہرے ہیں لیکن فلم کے ساتھ کرن_جوہر کا نام منسلک ہونا ہی فلم کو اپنے آپ میں بڑا کر دیتا ہے ۔ کر رہے ہیں,اس میں مہیش_بھٹ کی بیٹی عالیہ ، ہدایتکار ڈیوڈدھون کا بیٹا ورون ، سدھارتھ_ملہوترا اور اداکار بومن_ایرانی کا بیٹا کایوج اداکاری کر رہے ہیں ۔ ہونا بن گئی ہے,کرن کی فلم میں کاجول کا ہونا تقریباً ایک روایت بن گئی ہے ۔ کہنا ہے توڑنا چاہتا چلنے ہوں,کرن کا کہنا ہے کہ میں اس روایت کو نہیں توڑنا چاہتا کیونکہ میں عادتوں پر چلنے والا انسان ہوں ۔ ہے NULL آئے_گی,سلمان کے نام عید ہے ، شاہ_رخ کے نام دیوالی اور کرسمس کے آس - پاس عامر کی فلم ` تلاش ` آئے_گی ۔ کر لیے ہیں بچی ہے,تو ان خانوں نے ایک طرح سے ہندوستانی تہواروں کا موسم اپنے نام کر لیے ہیں تو پھر باقی کے ہدایتکاروں کے لیے تو کہیں جگہ ہی نہیں بچی ہے ۔ لے دے کر بچی تھی کرنے ہونا پڑا,لے دے کر ۱۹ اکتوبر کی تاریخ بچی تھی جب کرن کو یہ فلم جاری کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔ لگا ہے,ہندوستانی فلم صنعت میں آج کروڑوں روپیوں کا سرمایہ لگا ہے ۔ ملتا ہے,اس میں لاکھوں لوگوں کو براہِ_راست یا بالواسطہ طور پر روزگار ملتا ہے ۔ ہے,اس سے بھی مختلف ، ہندوستان میں فلم صنعت کی پیدائش کی کہانی ہے ۔ ہو جائیں جانے دینگے,سمدھن جی اب آپ چاہیں ناراض ہو جائیں ، ہم آپ کو آج نہیں جانے دینگے ۔ بیٹھے رہینگے,ارے ہاں پریم بیٹا ، آخر کب تک یہاں بیٹھے رہینگے ؟ بتاؤ کرنا ہے,بتاؤ تو صحیح ، کرنا کیا ہے بھئی ؟ ہے بجائیں گے کریں گے,بڑا آسان سا گیم ہے ، وہاں پر بھولا جی میوزک بجائیں گے ، یہ تکیہ ہم لوگ یہاں پر پاس کریں گے ۔ رکے گا ہوگا پھنسے گا دینا چاہیں گے دینگے ماننی پڑے گی,جب بھی میوزک رکے گا یہ تکیہ جس کے بھی ہاتھ میں ہوگا وہ پھنسے گا اور پھر جو بھی سزا ہم اسے دینا چاہیں گے ہم دینگے اور اسے ماننی بھی پڑے گی ۔ بیٹھ کر دیکھیں گے کرے,ہم وہاں بیٹھ کر دیکھیں گے کہ کوئی چیٹنگ نہ کرے ۔ کرتے ہیں ہے ہوگا,بھئی کمال کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب ، فولادی جگر ہے اتنی جلدی فیل تھوڑے ہی ہوگا ۔ ہے رہے آئے,بھابھی جی ! ہمیں آپ سے ایک شکایت ہے ، آپ اتنے دن یہاں رہے ، ایک بار بھی ہمارے گھر کھانے پر نہیں آئے ۔ کر دیں,ارے بھائی ایک منٹ ، آپ لوگوں کو ٹھیک سے رخصت تو کر دیں ۔ ہے پاتا ہے رکھتا ہے,سمدھن جی ! یہ من بھی کتنا باورا ہے ، جتنا پاتا ہے اس سے زیادہ پانے کی خواہش رکھتا ہے ۔ روک لیا چاہتا ہے روک لیں,ایک دن تو ہم نے آپ سب کو روک لیا ، اب جی چاہتا ہے ایک دن اور روک لیں ۔ دلائیے رہے رہی,نشا کے ساتھ ایک فوٹو تو دلائیے تاکہ یاد تو رہے کہ اتنے دن ہمارے ساتھ کتنے پیار سے رہی ۔ جی رہی ہو,جی رہی ہو ؟ NULL روک سکوں,اب کوئی بہانا بھی تو نہیں جس سے میں تمھیں روک سکوں ۔ ہو جائے کرونگا,جیسے ہی فیکٹری کا افتتاح ہو جائے ، میں بھابھی سے اپنی شادی کی بات کرونگا ۔ دیکھ رہے ہو,ارے میرے پیارے بھائیو ، دیکھ کیا رہے ہو ؟ بن گئے ہیں کرو,ہمارے پریم بھیّا آج بڑے صاحب بن گئے ہیں ، سلام کرو ۔ تھا,بس اسی کا ڈر تھا مجھے ۔ جانتی ہوں ہے ہے سمجھی,ارے ان نوکروں کو تو میں خوب اچھی طرح سے جانتی ہوں ، یہ بیماری تو بہانہ ہے بہانہ ، پیسے اینٹھنے کی اسکیم ہے سمجھی ۔ کھا کر کہتے ہیں ہے خریدا ہوا ہے,بھابھی ! ہم اپنی قسم کھا کر کہتے ہیں یہ تار جھوٹا نہیں ہے ، خریدا ہوا نہیں ہے ۔ سن ہو جائے کہنا ڈھونڈ لی ہے,سن ، جب تیری بھابھی ٹھیک ہو جائے نہ ، تو سب سے پہلے ان سے کہنا کہ تو نے اپنے لئے چمیلی ڈھونڈ لی ہے ۔ چلا گیا چلے جاؤ گے لگے گا,بہو ! کل کلّو چلا گیا ، آج تم لوگ چلے جاؤ گے ، ہمارا من کیسے لگے گا ۔ کہتی ہوں ہو گیا ہے لے آئیے,اسیلئے تو کہتی ہوں کاکا جی ، ہماری فیکٹری کا کام شروع ہو گیا ہے ، اب ہمارے لئے ایک دیورانی لے آئیے نہ ۔ چلو چننے NULL,چلو بہو ! آج سے اس کے لئے دلھن چننے کی ذمہ_داری تمھاری ۔ چلی کر دیا,آج آپ کی شادی کی بات کیا چلی ، موسم نے جادو کر دیا ۔ دے دی ہے بتائیے کریں گے NULL,کاکا جی نے آپ کی باگ_ڈور اب ہمارے ہاتھ میں دے دی ہے ، یہ بتائیے جناب لومیرج پسند کریں گے یا ارینجڈمیرج ؟ دیکھو نکلے ڈھونڈ لی,دیکھو منّا ! آپ کے چاچا آپ کے پاپا سے دو قدم آگے نکلے ، چپکے چپکے آپ کے لئے ایک چاچی بھی ڈھونڈ لی ۔ مل کر کر رکھا ہے,یعنی کہ آپ نے اور آپ کی میڈم نے مل کر پہلے سے ہی یہ پروگرام طے کر رکھا ہے ۔ آ رہی ہے چل چلتے ہیں,ارے ! اگر وہ نیچے آ رہی ہے تو چل ہم اس کے پاس چلتے ہیں ۔ کھا لے کھلانے آئے گی,کھا لے ٹفی ، تجھے کھلانے والی اب واپس نہیں آئے گی ۔ تھی جگا کر چھوڑ گئی,وہ تو بےرحم تھی ، چار دن کا موہ جگا کر ہمیں اکیلا چھوڑ گئی ۔ تھا بھول گئے,پتہ نہیں کیا جادو تھا اس بچی میں ، اس کے بنا تو جینا ہی بھول گئے ۔ دے دیا تھا کہہ دیا تھا ہوگی,ارے جگن ! جگن ! سبھی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا ، کہہ دیا تھا کہ ہماری بھابھی اب کبھی ٹھیک نہیں ہوگی ۔ تھا تھا ہو سکتا,لیکن ، ہمیں بھروسہ تھا ، ہمیں بھروسہ تھا انھیں کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کی تھی ہوا کھلی مسکرائی,پوجا بھابھی نے ان کے لئے دعا کی تھی نہ بھیّا جی اور وہی ہوا ، ان کی آنکھیں کھلی ، وہ مسکرائی ۔ کہا ہے ہے,ہم نے ان کو یہی کہا یہ سب کرشمہ اس بھابھی کا ہے جس کا ہاتھ ہمارے سر پر ہمیشہ ہے ۔ دے گئی دے گئی دے گئی,مالک ! مالک ! ہمارے آنسوؤں کے لئے جان دے گئی بھابھی ، اپنی دعا میں ہماری بھابھی کو زندگی دے گئی بھابھی ، زندگی دے گئی ۔ پوچھو بلا لیتے ہیں,بڑے بھیّا ! پوچھو اس خدا سے اچھے لوگوں کو اپنے پاس کیوں بلا لیتے ہیں ؟ بلا لیتے ہیں,کیوں بلا لیتے ہیں ؟ تھی تھا,للّو ! تیری پوجا بھابھی تو شفقت کی دیوی تھی ، ممتا کا خزانہ تھا اس میں ۔ ہے چاہیئے چاہیئے,وہ بھی تو پیار کا بھوکا ہے ، اسے بھی تو پیار چاہیئے للّو ، اسے بھی تو پیار چاہیئے ۔ کہہ رہے ہو تھا,ممتا کی بات کہہ رہے ہو ، اس پر تو ہمارے راج کا حق تھا نہ ؟ حق ؟ جانے ہو رہی ہے سوچو بیت رہی ہوگی,پوجا کے جانے کے بعد ہمیں اس کی اتنی کمی محسوس ہو رہی ہے تو ذرا سوچو بیچارے راجیش پر کیا بیت رہی ہوگی ۔ کہے دیکھ رہے ہیں,وہ خود کو بھلے ہی کچھ نہ کہے لیکن اتنے دنوں سے اس کی حالت تو ہم لوگ دیکھ ہی رہے ہیں ۔ کھائے جا رہی ہے ہے,اندر ہی اندر اسے فکر کھائے جا رہی ہے اور اس کی پریشانی کی وجہ ہے منے کی پرورش ۔ ہونے NULL,راجیش بیٹا ! تجھے اپنے منے کے مستقبل کے لئے پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ۔ ہوتا دیکھنے ملتا,راجیش کا بیاہ اس وقت سویٹی سے ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتا ۔ لگا کر رکھنے ہونی چاہیئے سمجھی,ارے ، کسی اور کے بچے کو سینے سے لگا کر رکھنے کے لئے اپنی تہذیب کی پہچان ہونی چاہیئے ، سمجھی تم ؟ بننا کریگی,آجکل کون سی لڑکی سوتیلی ماں بننا پسند کریگی ؟ دینگے,کون سے ماں _ باپ ایسے حالات میں اپنی بیٹی راجیش کو دینگے ۔ کرنے اپنائے جاتے ہیں,اس کاروبار میں سرمایہ حاصل کرنے کے لیے آج بھی روایتی طور طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ رکھا جا سکتا ہے,اس میں سرمایہ_کاری اور کاروبار کے دستیاب اعداد و شمار کا ایک حصہ اب بھی اندازے کے دائرے میں آسانی سے رکھا جا سکتا ہے ۔ ہے,اس کاروبار میں سرمایہ_کاری میں آج بھی غیرسرکاری سرمایہ_کاری شعبے کا اہم کردار ہے ۔ آتا تھا,فلمسازی کے ابتدائی دور میں عام طور پر یہ کاروبار خاندان اور روابط کے معرفت ہی آتا تھا ۔ تھا دیکھا جاتا تھا,یہ وہ دور تھا جبکہ فلم کو کاروبار کے بجائے سماجی اصلاح کے ایک ذرائع کی صورت میں دیکھا جاتا تھا ۔ کرنے دیئے جانے تھا تھی,فلموں میں کام کرنے والے فنکاروں کو ماہانہ تنخواہ دیئے جانے کا انتظام تھا اور یہ رقم سیکڑوں اور ہزاروں تک محدود تھی ۔ تھا,یہ دور بڑی بجٹ فلموں کا نہیں تھا ۔ کمانے دی جاتی تھی,لیکن اس میں کہانی ، فن اور موسیقی کے پہلو کو منافع کمانے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی تھی ۔ لگانے بننے بڑھا,اس کاروبار میں وسیع پیمانے پر پیسہ لگانے کا سلسلہ کثیرفنکار فلموں کے بننے کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھا ۔ کیا جا رہا ہے,سرمایہ_کاری اور منافع کی حصہ_داری میں بینکنگ شعبہ کے بجائے دیگر راستوں کا استعمال آج بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے ۔ اتر آنے ہوا,بڑی کمپنیوں اور کارپوریٹ شعبہ کے اس کاروبار میں اتر آنے کے بعد سے اس صنعت کے ضابطے کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ بننے کیا جا رہا ہے,تجارتی منتظمین کے اس کام میں حصےدار بننے کے بعد سے یہ کام اب زیادہ تجارتی طریقے سے کیا جا رہا ہے ۔ بدلتے دیکھنے بدلے ہیں,بدلتے ہندوستان کے ساتھ فلم دیکھنے کے طور طریقے بھی بدلے ہیں ۔ رہ گئے ہیں,سنیماگھر اب صرف تفریح تک ہی محدود نہیں رہ گئے ہیں ۔ بن چکے ہیں,وہ شاپنگ - مال تہذیب کے ساتھ تفریح کے مجموعی بازار کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں ۔ بن چکا ہے ہوتی ہے,آج ہندوستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ فلمسازی ہوتی ہے ۔ بننے ہے,ہندی کے علاوہ دیگر ہندوستانی زبانوں میں بننے والی فلموں کے ناظرین کی دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ ملا ہوا ہے,اس وقت ملک بھر میں سنیما کی دنیا میں قریب ۲۰ لاکھ لوگوں کو براہ_راست یا بالواسطہ طور سے روزگار ملا ہوا ہے ۔ مانا گیا ہے,ہندوستان کے سنیما بازار کو قریب ڈھائی عرب امریکی ڈالر کا مانا گیا ہے ۔ کرنے بنانے کی جاتی ہے,تشدد ، جرم اور عام موسیقی کے ذریعے انہیں اگلی نششتوں کو پُر کرنے کے لائق بنانے کے لیے کوشسش کی جاتی ہے ۔ ہے بڑھتی جا رہی ہے,اس کاروبار کے دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ نامی گرامی فنکاروں کی فیس کی شرحیں سال در سال بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ ملی ہوتی,کس فنکار کو کس فلم کے لیے کتنی رقم ملی اس کے متعلق بیشتر معلومات عام طور پر دستیاب نہیں ہوتی ۔ دینے لینے کراتے,رقم دینے والے اور لینے والے دونوں اس بارے میں کوئی دفتری معلومات فراہم نہیں کراتے ۔ کرائے جاتے ہیں,لیکن اس طرح کے اعداد و شمار بازار اور تجارت کے شعبے سے منسلک لوگوں کے ذریعے فراہم کرائے جاتے ہیں ۔ کی جاتی ہے,ایک فلم کے لیے پانچ کروڑ یا اس سے بھی زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے ۔ پڑ رہا ہے,فلم صنعت اور اس کی تجارت کا براہ_راست اثر ٹیلی_ویژن اور ریڈیو خاص طور سے ایف - ایم چینلز کے منصوبوں اور فروغ پر پڑ رہا ہے ۔ بنائے ہوئے ہے بڑھنے رہی ہے,ہندوستانی فلمی دنیا اس دور میں خود کو نہ صرف مقامی بنائے ہوئے ہے بلکہ اس سے آگے بڑھنے کے مواقع بھی تلاش رہی ہے ۔ بنانے آ رہے ہیں,آج غیرملکی فلمساز اور ہدایتکار ہندوستان اور ہندوستانی پس_منظر کے موضوعات پر فلمیں بنانے کے لیے آگے آ رہے ہیں ۔ ہیں ہیں,اس تعاون اور امتزاج کے اقتصادی اور تجارتی پہلو تو ہیں ہی ، یہ صنعتی تجارت کے لحاظ سے بھی بےحد اہم ہیں ۔ ہے دیکھو کر رہا ہے,رادھےکرشن ، رادھےکرشن ، کوئی ہے دیکھو بھائیو ! یہ دکاندار کنورجی کی مرمت کر رہا ہے ۔ ہوں,میں تو آپ کا نوکر ہوں حضور ۔ کہا تھا کرنے,اجی ہاں آپ ہی نے تو کہا تھا مالش کرنے کو ۔ کہا تھا کرنے ہیں,ارے ہاں ، ہمیں نے تو کہا تھا مالش کرنے کو ، ہم بھی عجیب ہیں ۔ جاؤ جاؤ,ارے بھائی لوگ تم لوگ جاؤ جاؤ ! اس میں پنڈت جی کا کوئی قصور نہیں ۔ کہو دیکھی,کہو ، ہمارے لیے کوئی لڑکی دیکھی ؟ بیٹھ کر پڑھ رہا ہے,بھولا ! اس گرمی کے دوپہر میں بند کمرے میں بیٹھ کر تو یہ عالمیات کیا پڑھ رہا ہے ۔ ہے کھیلنے کودنے ہے,تو نوجوان ہے ، تیری عمر کھیلنے کودنے کی ہے - جاؤ بیٹھ کر پڑھو,کسی باغ میں جاؤ اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر چندرکانتا یا بہرام_ڈاکو کو یا پریم_شاستر پڑھو ۔ سکھاتے ہو,ماما ، تم ہمیشہ مجھے گندی باتیں سکھاتے ہو ۔ ہیں سکھائی ہے,گندی گندی باتیں ہم بھی عجیب ہیں ، مگر ہم نے کون سی گندی بات سکھائی ہے ۔ لیا,تو تم نے پریم_شاستر کا نام کیوں لیا ؟ ہیں ہے پڑھتے ہیں,ہم بھی عجیب ہیں ، پریم_شاستر تو کتاب کا نام ہے جسے سب نوجوان پڑھتے ہیں ۔ پڑھنا پڑھو نکلو,اگر تمہیں نہیں پڑھنا تو نہ پڑھو لیکن یہاں کی گھٹی گھٹی ہوا سے باہر نکلو ۔ ہونے,بیٹا گھر کے پاس دریا کنارے باغ ہونے کا کیا فائدہ ۔ جاؤ کھا کر آؤ,باغ میں جاؤ اور تازہ تازہ ہوا کھا کر واپس آؤ ۔ کھایا,لیکن میں نے پیٹ - بھر کھانا جو کھایا ماما ! ہے,میرے بھولے بھانجے تو بالکل بھولے کا بھولا ہے ۔ چلنے پھرنے بنتی ہے,چلنے پھرنے سے صحت بنتی ہے ۔ بنتی ہے بگڑتی ہے,بنتی بھی ہے اور بگڑتی بھی ہے ۔ بگڑتی کہہ رہے ہیں,ارے نہیں بگڑتی ، ہم جو کہہ رہے ہیں ۔ ہے کہتے ہو جاتا ہوں,اچھی بات ہے ، اگر تم کہتے ہو تو میں جاتا ہوں ۔ ہو,ابھی تک یہیں ہو ؟ پکڑ کر لانا,شاباش مچھلی وچھلی پکڑ کر لانا ، شاباش شاباش ۔ پھنسی پھنسی پھنسی,پھنسی پھنسی کوئی موٹی تازی مچھلی پھنسی ! کی گئی,۲۲ ستمبر ۱۹۰۵ کو کلکتہ کے ٹاؤن-ہال میں ` سودیسی آندولن ` نامی فلم کی نمائش کی گئی ۔ مانتے ہیں,مورخ اسے ہندوستان کی پہلی سیاسی فلم مانتے ہیں ۔ تھی,اس میں ملکی تحریک سے منسلک کچھ علمبرداروں کی تصویر تھی ۔ ہے,ہندوستانی سنیما تاریخ میں جمشیدجی_فرام_جی_مدن ایک اہم نام ہے ۔ ہیں لگا کر کیا,مدن اول ہندوستانی ہیں ، جنہوں نے ۱۹۰۲ میں کلکتہ کے ایک کھلے میدان میں خیمے لگا کر بائی - اسکوپ نمائش شروع کیا ۔ کی,ملک میں سیاحتی سنیما کی شروعات سورت کے عبدل_یوسف_علی نے کی ۔ دکھائی گئی,۱۹۱۰ میں امریکی ہندوستانی پی ۔ بی ۔ مہتا کے تھیٹر میں ایک فلم دکھائی گئی ` دی لائف آف کرائسٹ ` ۔ بنائی,۱۹۱۲ میں رامچندرگوپال ( دادا صاحب تورنے ) نے اول فیچر فلم ` پُنڈلِک ` بنائی ۔ تھا بندھے ہوئے تھے,جب خاموش سنیما کا سلسلہ جاری تھا ، تب ہم کسی زبان کے بندھن میں بندھے ہوئے نہیں تھے ۔ بڑھا آئی,جیسے ہی خاموش سے بولتی سنیما کی جانب ہمارا قدم بڑھا ، نغمہ و موسیقی کی پیشکش میں تھوڑی تبدیلی آئی ۔ کر رہے گاتے چھپ کر بجاتے تھے,پردے پر اداکاری کر رہے اداکار ہی لائق منظر گاتے اور سازندے کسی جھاڑیوں یا خیموں میں چھپ کر بجاتے تھے ۔ ہوئے جانتے ہیں,تیس کی دہائی میں ہندی سنیما کی تاریخ میں کئی نئے تجربے ہوئے جس میں سے ایک کو ہم پس_گلوکاری کے نام سے جانتے ہیں ۔ ہوئی,آر_سی_بولار کی پیدائش ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۳ کو ایک مشہور موسیقی گھرانے میں ہوئی ۔ تھے,ان کے والد لال_چند_بورال اس وقت کے مشہور پکھاوج_نواز تھے ۔ کرنے ہونے جاتا ہے,انہیں ہندی سنیما میں پس_گلوکاری شروع کرنے والے پہلے موسیقار کے ساتھ پہلے موسیقی کارٹون ہدایتکار ہونے کا بھی سہرا جاتا ہے ۔ ہے,ان کے ذریعہ تشکیل_شدہ تین کارٹون فیچر فلموں میں ` بھولیرشیشے ` ، ` لاکھ - ٹاکا ` اور ` بھولاماسٹر ` ہے ۔ ہو گئی,۲۵ نومبر ۱۹۸۱ کو آر_سی_بورال کی موت ہو گئی ۔ ہوئے,ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں دو دادا صاحب ہوئے ۔ ,ایک ، رامچندر_گوپال تورنے عرف دادا صاحب تورنے اور دیگر ، دھنڈی_راجگ - گووندپھالکے عرف دادا صاحب پھالکے ۔ ہے,دونوں میں کافی یکسانیت ہے ۔ تھے,اول تو یہ کہ دونوں مہاراشٹر کے تھے ۔ NULL NULL,دونوں تھیٹر سے منسلک ، پختہ فن کے شیدائی انسان اور دونوں کی قوت ارادی بھی ایک جیسی ۔ تھا,ہندوستان میں سنیما کی تشہیر اور ترقی دونوں کی اہم ترجیحات میں شامل تھا ۔ کرتے ہیں بنانا چاہتے تھے,دادا صاحب پھالکے کی بات کرتے ہیں تو وہ بھی رام یا کرشن پر فلم بنانا چاہتے تھے ۔ تھا تھا,لیکن ان کے پاس وہی مسئلہ تھا جو دادا صاحب تورنے کے پاس تھا ، پیسوں کا ۔ تھے تھا,یہاں دونوں کے بحران تھے ، پیسوں کی بھی اور فنکاروں کی بھی ، خاصکر خواتین فنکاروں کا تو سخت فقدان تھا ۔ کرنا آنا مانا جاتا تھا,ان دنوں خواتین کا فلموں میں کام کرنا تو دور کسی بھی شکل میں فنی - اسٹیج پر آنا غیرمہذب طرز عمل کی علامت مانا جاتا تھا ۔ کرنے کیا,بہت غور و فکر کے بعد پھالکے نے ایودھیا کے ایماندار بادشاہ کے اساطیری قصے کی تصویرکشی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ بنانے لے کر ہوئے تھے,۱ اپریل ۱۹۱۲ کو تقریباً دو مہینے بعد لندن سے فلم بنانے کی تربیت لے کر ہندوستان واپس ہوئے تھے ۔ لے کر آئے تھے,وہاں سے ایک ویلیمسن کیمرہ ، طباعتی ، پروسیسنگ مشین کے ساتھ ساتھ خام نیگیٹیو کی گٹھری بھی ساتھ لے کر آئے تھے ۔ ملے دینے ہوئے,ایک آدمی ملے جو انہیں اقتصادی تعاون دینے کو تیار ہوئے ۔ ہوتے آئی,پیسوں کا مسئلہ حل ہوتے ہی کرداروں کے انتخابی عمل کی باری آئی ۔ چاہتے تھے کرے,پھالکے چاہتے تھے اس کردار کو کوئی خاتون فنکار ہی کرے ۔ ہوئی آنے کر دیا,کوشش ناکام ہوئی ، طوائف تک نے بھی کیمرے کے سامنے آنے سے صاف انکار کر دیا ۔ لیا گیا کروانا ہوگا,آخر میں فیصلہ لیا گیا کہ اب کسی مرد سے ہی اس کردار کا رول کروانا ہوگا ۔ ہوئی ہوگا,تلاش شروع ہوئی کہ وہ مرد بھی کون ہوگا ۔ رکھنے پڑی,کئی دنوں تک کوشش جاری رکھنے کے بعد ایک دن ایک ایرانی ریستوراں میں ایک باورچی پر ان کی نظر پڑی ۔ تھی,اس کی حرکت و نقل کچھ کچھ عورتوں جیسی تھی ۔ کرنے بنا تھا,وہ باورچی ہندوستان کی پہلی فیچر فلم کا درجہ حاصل کرنے والی فلم کی پہلی اداکارہ بنا ، جس کا نام ` سالُنکے ` تھا ۔ چھاننی پڑی,اس کہانی میں تیسرا اہم کردار روہیتاشو ( ہریشچندر اور تارامتی کا بیٹا ) کے کردار کے لیے بھی کم خاک نہیں چھاننی پڑی ۔ دیکھ کر کروایا,کوئی صورت نہ دیکھ کر آخر میں پھالکے نے اس کردار کی اداکاری اپنے بیٹے بھالچندر سے کروایا ۔ آتے آتے کرنا پڑا,فلم کی شوٹنگ کے آخری مرحلے میں آتے آتے ایک بار پھر انہیں اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا ۔ کی,اس بحران کے وقت میں واحد مدد ان کی بیوی کاکی_پھالکے نے کی ۔ چھوڑ کر کر کے کرنے دی,کاکی_پھالکے نے ایک منگل_سوتر چھوڑ کر اپنے تمام زیورات کو فروخت کر کے اس فلم کو مکمل کرنے کی ہمت دی ۔ بن کر ہوئی,اتنی ساری قربانی اور جدوجہد کے بعد فلم کامیاب بن کر تیار ہوئی ۔ ہوا,۲۱ اپریل ۱۹۱۳ کو ممبئی کے اولمپیا تھیٹر میں اس کا پریس شو ہوا ۔ کیا ہے,اسی پریس شو میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ اس فلم کا نام ` راجہ_ہریش_چندر ` ہے ۔ ہوئی ہوئی تھی,۱۸ مئی ۱۹۱۳ میں ` راجہ_ہریش_چندر ` بھی اس کوریشن تھیٹر میں جاری ہوئی ، جہاں اس تاریخ سے تقریباً ایک سال قبل ` پُنڈلِک ` جاری ہوئی تھی ۔ کیا چلی تھی,ناظرین نے اسے خوب پسند کیا ، یہ فلم کوریشن تھیٹر میں سلسلہ_وار ۲۳ دنوں تک چلی تھی ۔ ہوئی ہیں ہو پایا,انسانی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہوئی ہیں جن کے تعاون کا صحیح تجزیہ ان کی زندگی میں نہیں ہو پایا ۔ ,موہنی کے لئے ۔ ہوا,کیا ہوا موہنی کو ؟ اٹھا کر لے گئے ہیں,لوٹیاپٹھان کے لوگ اسے اٹھا کر لے گئے ہیں ۔ کروں,تو میں کیا کروں ؟ چھڑا کر لانے کہہ سکتی ہوں,موہنی کو لوٹیا کے یہاں سے چھڑا کر لانے کے لئے تمھارے علاوہ اور کسے کہہ سکتی ہوں ۔ ہیں لے رکھا ہے,اس شہر میں لاکھوں لڑکیاں ہیں ، سب کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے میں نے ۔ ہے بچانے کی تھی,لیکن ان لاکھوں میں موہنی ایک ہی ہے جس نے میری عزت بچانے کے لئے تمھاری مدد کی تھی ۔ دیکھو ٹہرا پڑنا چاہتا,دیکھو جیوتی ! میں ٹہرا شہربدر آدمی اور بےوجہ کسی لپھڑے میں نہیں پڑنا چاہتا ۔ NULL NULL NULL,یہ کام یا تو پولس کا یا اس کے باپ کا ، میرا نہیں ۔ دلا کیا کرایا ہے ہے,مجھے اور غصہ مت دلا سکسینا ، سب کیا کرایا تیرا ہی ہے ، سارے فساد کی جڑ تو ہے ۔ لگانے آئے گی,ابھی ایک دوسرے پر الزام لگانے سے موہنی واپس تو نہیں آئے گی ۔ ہے سوچا جائے,اسلئے بہتر یہی ہے شیام لال جی ! غصہ تھوک کے موہنی کی رہائی کے بارے میں سوچا جائے ۔ نکل آئیگا,کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئیگا ۔ آیا ہے,راستہ تمھارے دروازے تک آیا ہے شیام لال ! بھری ہے پہنچ سکتے ہیں,لوٹیا پٹھان کے گناہوں سے بھری دنیا کے جس اندھیرے کونے میں تمھاری بیٹی قید ہے ، وہاں قانون کے لمبے ہاتھ نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔ ٹکرائے گا کاٹ پھینک دینگے,تو کل کا چھوکرا لوٹیا پٹھان سے کیا ٹکرائے گا ، کاٹ کے پھینک دینگے گٹر میں ۔ دکھائی دیتی,شیام_لال ! تم اپنے بھلے میں اپنے فائدے کی بات بھی نہیں دکھائی دیتی ۔ لو سن لو کرینگے,میرا فائدہ ، لو سن لو یہ کرینگے میرا فائدہ ۔ دیکھو لا سکا سمجھو نکل جائے گا,دیکھو شیام_لال ! اگر میں تمھاری بیٹی کو واپس نہیں لا سکا تو سمجھو کہ تمھارا ایک کانٹا تو ہمیشہ کے لئے نکل جائے گا ۔ سمجھتے ہو لوٹنے دینگے,کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ لٹیا اور اس کے آدمی مجھے زندہ واپس نہیں لوٹنے دینگے ۔ سمجھتا ہوں,ہاں ہاں ، یہ تو سمجھتا ہوں بھیّا ۔ لے آتا ہوں مل جائے گی,اگر میں موہنی کو واپس لے آتا ہوں تمھاری بیٹی مل جائے گی ۔ ڈال کر کیا ملیگا,لیکن اپنی جان خطرے میں ڈال کر تمھیں کیا ملیگا ۔ آر,مہیش ! یو آر انڈر اریسٹ ۔ ہے,لیکن میرا گناہ کیا ہے ؟ کیا گیا ہے کیا ہوگا,اگر تمھیں شہربدر کیا گیا ہے تو ضرور تم نے کوئی گناہ کیا ہوگا ۔ رکھنے سمجھا ہوگا,قانون نے سماج کے فائدے کے لئے تمھیں سماج سے باہر رکھنے کے قابل سمجھا ہوگا ۔ کر دیا تھا کیا تھا,اسی سماج نے ایک دن اپنے فائدے کے لئے پربھورام_چندر کو بھی 14 برس کے لئے شہربدر کر دیا تھا ، انھوں نے کون سا گناہ کیا تھا سر ؟ ہو,لیکن قانون کی نظروں میں تم گناہگار ہو ۔ جانتے دکھانے ہو سکتا ہے,تم جانتے نہیں کہ ایک پولس والے کو چاقو دکھانے کا کیا حشر ہو سکتا ہے ؟ جانتا ہوں NULL ہوں جانا ہے,میں جانتا ہوں کہ سر ایک دو سال کی سزا اور کیا ، میں اس کے لئے تیار ہوں ، لیکن اس وقت میرا یہاں سے جانا ضروری ہے سر ۔ رک جاوء ہے کروں پڑے چلا دوں,مہیش ! رک جاوء ، میرا فرض ہے کہ تمھیں گرفتار کروں اور ضرورت پڑے تو گولی چلا دوں ۔ چلائیے,تو چلائیے گولی ۔ کروں گا جانتا ہوں کھاتے کھاتے بن گئے,میں ایسا نہیں کروں گا ، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مرمٹنے کے لئے قسمیں کھاتے کھاتے ، تم اس کے دشمن کیسے بن گئے ؟ بھول چکا ہوں,میں اپنی پچھلی زندگی بھول چکا ہوں ۔ کرنا ہوگا روکنا NULL روکنا ہے,یاد کرنا ہوگا کیونکہ میرا فرض صرف گنہگاروں کو روکنا نہیں ، بلکہ گناہ کو روکنا بھی ہے ۔ چلے بنتے ہیں آنے بننے روک سکوں,مجھے یہ تو پتا چلے کہ تم جیسے ہونہار نوجوان گنہگار کیسے بنتے ہیں تو شاید آنے والے سالوں میں کچھ نوجوانوں کو گنہگار بننے سے روک سکوں ۔ روکنے کرتے ہیں کر دیا,آپ گنہگاروں کو روکنے کی بات کرتے ہیں سر ! مجھے تو آپ کی پولس نے گنہگار کر دیا ۔ ,گلدستہ ! جی بابو جی ! کرنا ہو جاتا ہے ہے NULL کرتا,کبھی کبھی تو یہ بھی طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ تمھاری چائے زیادہ میٹھی ہے یا تیری آواز ، کہیں تو چائے میں کلی تو نہیں کرتا ۔ ,ابے اوئے گلدستے ! آیا آیا,آیا سیٹھ ، آیا ۔ رکھ سن رکھنا بھول کر جاتا ہے,چائے کی پتّی اور شکّر رکھ اور سن ان لوگوں کے پیسے اچھے سے دھیان میں رکھنا ، تو ہمیشہ بھول کر جاتا ہے ۔ ہے ہیں کرنے ہوتے ہیں,کیا ہے سیٹھ جی ! قدردان لوگ ہیں اور سچی قدر کرنے والے تو اس دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں ۔ جا لے,ابے جا ، ان سے پیسے لے ۔ ہے کاٹ لینا,کیا ہے سیٹھ جی کہ آپ تو میری تنخواہ میں سے پیسے کاٹ لینا ۔ ہے ہیں ہیں,جیوتی ! وہ جو تیرے کلاس میں لڑکی ہے نا جس کی نیلی نیلی آنکھیں ہیں ، بھورے بھورے بال ہیں ۔ ہوئی,وہی جو پچھلے سال کالج میں کوین ہوئی ، نیکیتا ؟ کروا دینا,ہاں ، ہاں اس سے پہچان کروا دینا پلیز ۔ کروا دوں گی کرنا پڑے گا,میں تو تمھاری جان پہچان نیکتا سے کروا دوں گی ، لیکن تمھیں بھی ایک کام کرنا پڑے گا ۔ ہے جڑے جانے کرے,ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام سے جڑے مسائل اور ترقی کے عمل کی گہرائی میں جانے کی کوشش ہرایک صحافی کرے ۔ کرنے بنانے ہے,سطحی اطلاعات کو یکجا کرنے کا مطلب اگلدان بنانے جیسا ہے ۔ ہے ہوتے ہیں,ہندوستانی اخباروں کی سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ وہ آج بھی سیاست سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ جڑی دیا جاتا ہے,بیشتر مقام سیاسی نشیب و فراز سے جڑی خبروں کو دیا جاتا ہے ۔ مانا جاتا ہے,ہندوستانی صحافت کا آغاز کلکتہ سے مانا جاتا ہے ۔ تھا ہونا اپنایا جانا سمجھا جاتا تھا,یہ وہ وقت تھا جب انگریزی زبان کا علم ہونا اسے اپنایا جانا جدیدیت کی علامت کے لئے لازمی سمجھا جاتا تھا ۔ کی تھے,ہندوستان میں اس جدیدیت اور نشاۃالثانیہ کی قیادت راجا رام موہن رائے نے کی جو ایک سماج مصلح اور ترقی_پسند نظریے والے آدمی تھے ۔ ہونے پڑی,برطانوی حکومت کے ذریعہ ہندوستان میں فن طباعت و صحافت کی راہ میں متعدد قسم کے رخنے پیدا ہونے کے باوجود ہندوستان میں صحافت کی بنیاد پڑی ۔ ہے ہے ڈالی,حالانکہ یہ بات الگ ہے اور اپنے آپ میں حیران_کن ہے کہ ہندوستان میں صحافت کی بنیاد انگریزوں نے ہی ڈالی ۔ ہوا رہی,اسی طرح اخباروں کی اشاعت کا آغاز تو ہوا لیکن پھر بھی انگریز حکومت کی انسدادی پالیسی شروع رہی ۔ نکلنے دیکھتے تھے,وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کی سرزمین سے نکلنے والے اخبارات کو شبہہ کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ کئے گئے,انگریزوں کے اس شبہہ کے سبب ہندوستانی اخبارات کی آزادی پر متعدد حملے کئے گئے ۔ ہوا کرتا تھا دیتی تھی,جن اخبارات کا عیسائی مشنری کے ذریعہ انتظام ہوا کرتا تھا ان کو برطانوی حکومت فروغ دیتی تھی ۔ ہونے لگی,اسی فروغ کے بل پر ہندی کے اہم مراکز سے بھی عیسائی اخبارات کی اشاعت و نشریات ہونے لگی ۔ کرتے تھے کرنا چاہتے تھے,یہ مشنری اخبار عیسائی اخبارات کی عزت کرتے تھے اور ہندوستان کے ثقافتی افتخار کو تباہ کرنا چاہتے تھے ۔ کر پائے,اس طرح کی ناانصافی کو راجا رام موہن رائے برداشت نہیں کر پائے ۔ ہوئے بنائے رکھی,راجا رام موہن رائے کے ایسے حسن سلوک سے بھی برطانوی حاکم لرزاں نہیں ہوئے اور ہندوستان میں اخبار اشاعت کے تئیں مسلسل مخالفت بنائے رکھی ۔ دینا مانا,مدراس کے گورنر سر ٹامس منرو نے پریس کو آزادی دینا اپنے لئے خطرناک مانا ۔ ہوئی کراتے تھے,ابتدائی وقت میں جن اخبارات کی اشاعت ہندوستان میں ہوئی ان اخبارات کو انگریز انگریزی زبان میں شائع کراتے تھے ۔ دینا تھا,ان اخبارات کا کام عوام کے لئے تفریح کی اشیا و اطلاعات دینا تھا ۔ ہوتے تھے,وہ اخبار سیاست سے متعلق نہیں ہوتے تھے ۔ ہوئے,۱۸۱۸ سے قبل ہندوستانی زبانوں میں اخبارات شائع نہیں ہوئے ۔ گزر جانے تھی مانا جاتا ہے,بنگال ، بہار ، اترپردیش میں اخبارات کی ابتدا کی نصف صدی گزر جانے کے بعد راجستھان میں اس کی شروعات ابتدائی مرحلے میں ہی تھی ، راجستھان کا سب سے پہلا اخبار ` مظہرالسّرور ` مانا جاتا ہے ۔ ہوا تھا,یہ ذولسانی اخبار ہندی میں 1849 میں بھرتپور سے شائع ہوا تھا ۔ نکلنے تھے,ہندوستان سے نکلنے والے بیشتر اخبارات زولسانی تھے ۔ تھے,ان میں پوری طرح ہندی کا پہلا روزنامہ ۱۸۸۵ میں `` کالاکانکر `` سے راج رام پال سنگھ کا روزنامہ ` ہندوستھان ` اور کانپور سے بابو سیتارام کا ` بھارتودیے ` تھے ۔ کرنے ہوئے,بیداریِ آزادیِ ہند کی تشہیر کرنے والے ہندوستانی صحافت پر انگریزوں کی انسدادی پالیسی سے یہاں اس کے فروغ میں متعدد رخنے پیدا ہوئے ۔ تھی,لیکن انگریزوں میں بھی آپسی مخالفت کچھ کم نہیں تھی ۔ ہوئی,مذکورہ تنازعے کے سبب امریکہ میں سنسنی_خیز و ہیجانی صحافت کی ابتدا ہوئی ۔ کہہ کر کیا جاتا ہے,اسے صحافت کی تاریخ میں ` زرد صحافت ` کہہ کر خطاب کیا جاتا ہے ۔ چھاپا کرتے تھے,ان دنوں پلتزر اور ہرسٹ اپنے اپنے اخبارات کے طنزیہ جملے پیلی سیاہی میں چھاپا کرتے تھے ۔ رکھ کر پڑا,اگرچہ اس سیاہی کو دھیان میں رکھ کر ہی سنسنی_خیز اور حمایت_نواز صحافت کا نام ` یلو جرنلزم ` یا ` زرد صحافت پڑا ` ۔ بنے رکھنے تھی,جب ۱۸۹۸ میں لارڈ کرزن ہندوستان کے وائسرائے بنے تو انگریزی حکومت کے پاس ہندوستانی اخبارات پر کنٹرول رکھنے کے لئے کافی طاقت تھی ۔ تھے,اس وقت ہندوستان میں اخبارات دو قسم کے تھے ۔ NULL کئے جاتے تھے,ایک وہ اخبارات جو انگریزی زبان میں انگریزوں کے ذریعہ شائع کئے جاتے تھے ۔ کہا جاتا تھا,انھیں اینگلوانڈین اخبار کہا جاتا تھا ۔ NULL کئے جاتے تھے,دوسرے وہ اخبارات جو ہندوستانی زبانوں ، ہندی اور انگریزی میں شائع کئے جاتے تھے ۔ ہو کر کھولی تھی,کلکتہ سے آگرہ ہو کر بمبئی سے مدراس اور آگرہ سے پشاور تک کی تار کی لائنیں ۱۸۵۵ میں ہی کھولی تھی ۔ دینا پڑتا تھا,اس سے قبل ۲۰ برسوں تک دوری کے حساب سے ڈاک-ٹکٹ دینا پڑتا تھا ۔ لے جانے ہوئی کھولی گئیں,اخبارات کو لے جانے والی ریلوے لائنیں بھی ۱۸۵۷ میں شروع ہوئی جب ۲۷۴ میل کی ریلوے لائنیں کھولی گئیں ۔ ہوتا تھا تھا,راجا رام موہن رائے کا ` بنگدوت ` جو ایک ساتھ ہندی ، فارسی اور انگریزی میں شائع ہوتا تھا سماجی اصلاح کا اخبار تھا ۔ کرنے تھا,` گیان نیشن ` ہندوستانی زبانوں میں تعلیم اور بنگلہ زبان کو سرکاری زبان کا مطالبہ کرنے کے لئے مشہور تھا ۔ چلا چھاپا کیا گیا نکال دیں,۱۸۵۷ میں ہی ہندی کے پہلے روزنامے ` سماچارسدھاورشن ` اور اردو و فارسی کے دو اخبارات ` دوربین ` اور ` سلطان_الاخبار ` کے خلاف یہ مقدمہ چلا کہ انھوں نے بادشاہ بہادرشاہ ظفر کا ایک فرمان چھاپا جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا گیا کہ انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیں ۔ کر دئے گئے ہوا لگائی گئی تھی,اس اخبار کے مدیر جناب شیام سندر سین دن بھر کی سماعت کے بعد غداری کے الزام سے آزاد کر دئے گئے اور اس کے بعد ہی لارڈ کینگ کا مشہور کیگنگ_ایکٹ نافذ ہوا جس میں اخبارات پر بہت پابندی لگائی گئی تھی ۔ کرنا ہے تھا کیا تھا کر گیا,ہندوستان میں انگریزی حکومت کے خلاف جدوجہد کے میدان میں جن اخبارات کا خصوصی ذکر کرنا لازمی ہے ان میں کلکتہ کا ` ہندوپیٹریَٹ ` اہم تھا جس کا قیام ۱۸۵۳ میں مصنف و ڈرامہ_نگار جناب گریش چند گھوش نے کیا تھا جو جناب ہریش چند مکھرجی کی قیادت میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کر گیا ۔ چل رہا تھا تھا,ان دنوں بنگال میں جیسور سے شائع ایک ہفتہ_وار اخبار چل رہا تھا جس کا نام تھا ، ` امرت بازار پتریکا ` ۔ کرنے چلا ہوئیں,اس اخبار کے مالکان پر سرکاری ملازمین کی نکتہ_چینی کرنے کا مقدمہ چلا اور سزائیں ہوئیں ۔ ہونے لگا دبانے ہوا تھا,۱۸۷۱ میں یہ کلکتہ سے شائع ہونے لگا اور خاصیت اسی اخبار کو دبانے کے لئے ۱۸۷۸ کا دیسی زبان قانون پاس ہوا تھا ۔ تھے بنا دیا,لیکن اس اخبار کے مدیروں نے جن میں شری گریش کمار گھوش اور شری موتی لال گھوش دو بھائی تھے اسے راتوں رات انگریزی کا اخبار بنا دیا ۔ رہا,اس کے بعد یہ اخبار ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا پرزور حامی رہا ۔ ہوئی تھی,پونا میں ۱۸۴۹ میں ` گیان پرکاش ` کی اشاعت ہوئی تھی ۔ ہے تھوپنا سمجھا جانے لگا ہے,یہ بدقسمتی ہی ہے کہ آجکل باہر کی چیز کو اپنے ملک پر تھوپنا آسان سمجھا جانے لگا ہے ۔ چاہتا ہے چل سکے ہے,اشتہارات دہندہ چاہتا ہے کہ ایک ہی پیغام ایک ہی قسم کی تصویر اگر دنیا بھر میں چل سکے تو بہت اچھا ہے ۔ بن گئی ہے,یہ میڈیا کی فطرت بن گئی ہے ۔ بنانا ہے,ہندی میں پروگرام بنانا سب سے آسان ہے ۔ لیجئے لیجئے کر دیجئے کر سکیں بنا سکیں,آپ طرح طرح کی فلموں کے ٹکڑے لیجئے ، گانے لیجئے ، لڑکیوں کو کھڑا کر دیجئے جو اسپرنگ کی طرح باتیں کر سکیں اور پروگرام کا خاکہ بنا سکیں ۔ ہے کرنے ہوتی ہے پہنچ پا رہے ہیں,جن معاملوں کا عام لوگوں سے سروکار ہے اور جنھیں غور کرنے کے لئے مختلف علاقوں کے سفر کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ٹی_وی کے نیٹ_ورک ابھی صحیح معنوں میں نہیں پہنچ پا رہے ہیں ۔ پہنچتے ہیں ہو,وہ تبھی وہاں پہنچتے ہیں جب کوئی بہت ہی سنسنی_خیز یا سیکسی بات ہو ۔ ہو NULL کر دئے جاتے ہیں,مجموعی آبروریزی کا واقعہ ہو یا قتل کا ، کیمرے فوراً وہاں تعینات کر دئے جاتے ہیں ۔ ہونے چلا دی جاتی ہے بن رہے ہوتا,سنگین قحط_سالی ہونے پر خبروں کے آخر میں ایک کہانی چلا دی جاتی ہے لیکن قحط کے لئے بن رہے حالات پر مسلسل کام نہیں ہوتا ۔ ہو گئے ہیں بنا ہوا ہے,امریکہ میں ۳ - ۴ سو ٹی_وی چینل قائم ہو گئے ہیں لیکن اخباروں کا وجود اب بھی بنا ہوا ہے ۔ ہوئے ہیں,یہی نہیں ، نئے اخبار بھی پیدا ہوئے ہیں ۔ بڑھتی ہے,ان کی اشاعتی تعداد بھی بڑھتی ہے ۔ ڈالا ہے کی ہے,ہندوستان میں الکٹرانک اخبارات میڈیم نے سماج پر بھی اثر ڈالا ہے زبان کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی کی ہے ۔ ہیں ہوتا ہوتے ہیں ہو,برطانیہ اور فرانس ہمسایہ ہیں لیکن اس کے بعد بھی ایسا نہیں ہوتا کہ برطانیہ میں جو پروگرام نشر ہوتے ہیں اس میں فرانسیسی یا جرمنی الفاظ کی بھرمار ہو ۔ کیا جاتا ہے ملتے ہیں,اسی طرح اگر فرانس میں کوئی پروگرام فرانسیسی میں پیش کیا جاتا ہے تو اس میں دیگر زبانوں کے لفظ نہیں ملتے ہیں ۔ کیا جا رہا ہے سمجھ سکتے ہیں,بول_چال میں زبان کے نام پر ایک ایسی کھچڑی زبان کا استعمال کیا جا رہا ہے جسے نہ ہندی والے ٹھیک سے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی انگریزی والے ۔ ہے,الکٹرانک اخبار میڈیم ایک طاقتور وسیلہ ہے ۔ جنھیں ابھی پڑھنا نہیں آتا یا جو ابھی خواندہ بھی نہیں ہیں وہ بھی